64

پلازما تھیراپی سے پاکستان میں کورونا کا علاج کیسے ہو رہا ہے؟

حیدر آباد کے ایک عمر رسیدہ شخص میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد ان کی حالت مسلسل خراب ہو رہی تھی۔ ڈاکٹروں نے انھیں وینٹیلیٹر پر منتقل کیا تاکہ وہ باآسانی سانس لے سکیں۔

اس دوران ان کی ڈاکٹر بیٹی نے ہسپتال کے حکام سے گزارش کی کہ ان کے والد کا علاج ’پلازما تھیراپی’ کے ذریعے کیا جائے۔ ڈاکٹروں نے ان کی درخواست قبول کر لی اور اب وہ پاکستان میں کووڈ 19 کے پہلے ایسے مریض بن گئے ہیں جن کے علاج کے لیے پلازما تھیراپی کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔

حیدر آباد کے لیاقت یونیورسٹی ہسپتال میں کورونا وائرس سے متعلق فوکل پرسن ڈاکٹر آفتاب نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ 53 سالہ اس مریض کو ایسے شخص کے خون کا پلازما منتقل کیا گیا ہے جو کورونا وائرس سے صحتیاب ہو چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مریض کے اہلخانہ نے ’رضاکارانہ طور پر خود کو اس تجربے کے لیے پیش کیا ہے۔‘

پیسِو امیونائزیشن کے اسی طریقہ علاج کو ’پلازما تھیراپی‘ یا کونوالیسنٹ پلازما کا نام دیا گیا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں کووڈ 19 کے مریضوں کے علاج کے لیے یہ طریقہ اپنایا جا رہا ہے جس کی کامیابی سے متعلق تاحال کوئی حتمی نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔

ڈاکٹر آفتاب کہتے ہیں کہ مریض کو اس تھیراپی سے کوئی فرق آیا ہے یا نہیں، اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

’عام حالات میں بھی اس سے بہتری کا عمل بہت سست ہوتا ہے۔ امید ہے کہ چند روز میں کچھ سمجھ آئے گی، ابھی ان کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔‘

پاکستان میں پلازما تھیراپی کی اجازت
سندہ حکومت نے تین دن قبل صوبے کے تین ہسپتالوں کو اجازت دی تھی کہ وہ کورونا وائرس کا شکار ہونے والے مریضوں میں اسی بیماری سے صحتیاب ہونے والے مریضوں کے خون سے پلازما منتقل کریں تاکہ اس طریقے کے علاج کا جائزہ لیا جا سکے۔

ایسا صرف ان مریضوں میں کرنے کی اجازت دی گئی ہے جن کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔

اس سے قبل مارچ میں ملک میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے پہلے مریض نے صحتیابی کے بعد اپنے خون کا پلازما عطیہ کیا تھا تاکہ پیسو امیونائزیشن یا پلازما تھیراپی کے ذریعے تشویشناک حالت میں موجود افراد کا علاج کیا جا سکے۔

وفاقی حکومت نے اپریل کے پہلے ہفتے میں پلازما تھیراپی کے کلینیکل ٹرائلز کی منظوری دی تھی۔ وفاق کی ہدایت پر وزارت صحت نے ادویات کی نگرانی کے ادارے ڈریپ نے پلازما تھیراپی کی اجازت دی تھی۔

اس کے بعد حکومت سندھ نے صوبے کے تین ہسپتالوں کو اس کے ٹرائل کی اجازت دے دی تھی۔

سندھ کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری ایک نوٹیفیکیشن میں کہا گیا تھا جس میں کراچی کے دو ہسپتالوں میں سے ایک سرکاری ڈاکٹر رتھ فاؤ سول ہسپتال اور ایک نجی شعبے کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈزیز (این آئی بی ڈی) کو اجازت دی گئی ہے۔

جبکہ ایک حیدر آباد کے لیاقت یونیورسٹی ہسپتال کو کورونا کی پیسو امیونائزیشن کے کونوالیسنٹ پلازما کے تجرباتی استعمال کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق تینوں نامزد کیے گئے ہسپتالوں میں ماہرین کی ایک ٹیم، جس میں ایک فزیشن، بلڈ ٹرانسفیوژن ماہر، متعدی امراض کے ماہر، ایک انتہائی نگہداشت یونٹ کے ماہر، ایک کنسلٹنٹ ہیومیٹولوجسٹ اور سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کے نمائندے شامل ہوں گے۔

پلازما تھیراپی یا کونوالیسنٹ پلازما کیا ہے؟

پلازما تھیراپی میں کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے شخص سے خون حاصل کیا جاتا ہے اور پھر اس میں سے علیحدہ کیے گئے پلازما کو تشویشناک حالت کے مریض میں منتقل کیا جاتا ہے۔

پلازما دراصل خون کا ایک شفاف حصہ ہوتا ہے جو خونی خلیے کو علیحدہ کرنے پر حاصل ہوتا ہے۔ پلازما میں اینٹی باڈیز اور دیگر پروٹین شامل ہوتے ہیں۔

اینٹی باڈیز کے حامل پلازما کی منتقلی سے بیمار شخص کو مرض سے لڑنے کے لیے ‘غیر فعال مدافعت’ فراہم کی جاتی ہے۔ اس عمل کے مؤثر ہونے میں چند ہفتے، یہاں تک کہ مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ خون میں 55 فیصد پلازما ہوتا ہے۔ پلازما کا نوے فیصد حصہ پانی ہوتا ہے۔ یعنی اس میں صرف دس فیصد اینٹی باڈی ہوتی ہیں۔

علاج کا یہ تصور نیا نہیں ہے بلکہ 1890 سے وجود رکھتا ہے۔ امریکہ میں مائیو کلینک کے پروفیسر مائیکل جوائنر کے مطابق میڈیسن کے شعبے میں صحت مند ہونے والے مریضوں کے خون سے علاج کا یہ کوئی نیا طریقہ نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ: ’یہ ایک صدی سے زائد عرصہ پہلے ہسپانوی فلُو کی وبا کی روک تھام کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا اور حال ہی میں ایبولا اور سارس کی وباؤں سے متاثرین کا علاج بھی اس طریقے سے کیا جا چکا ہے۔‘

ابھی تک چھوٹے پیمانے پر کی جانے والی تحقیق سے اس کی افادیت پر غور کیا گیا ہے اور اس حوالے سے بڑے پیمانے پر تحقیق کی ضرورت ہے کہ یہ طریقہ علاج کورونا وائرس کے علاج کے لیے کتنا مؤثر ہے۔

ان کا تجربہ کن مریضوں پر ہو رہا ہے؟
اب تک دنیا میں زیادہ تر پلازما تھیراپی سے کورونا کے علاج کا تجربہ شدید بیمار مریضوں پر کیا گیا ہے۔

اس کی وجہ، طبی ماہرین کے مطابق، یہ ہے کہ ان مریضوں کے جسم میں ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر کے سبب وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز تیار نہیں ہو رہی ہوتی ہیں۔

کون پلازما عطیہ کر سکتا ہے؟

سب سے پہلے یہ جان لیں کہ اس طریقہ کار کے کامیاب ہونے سے متعلق فی الحال کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا اور یہ ابھی تجرباتی بنیادوں پر کیا جار ہا ہے۔

صرف وہ افراد پلازما عطیہ کر سکتے ہیں جو کورونا وائرس سے مکمل طور پر صحتیاب ہو چکے ہیں۔ کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد وقفوں سے کیے گئے ان کے دو ٹیسٹ منفی آئے ہوں جبکہ آخری ٹیسٹ منفی آنے کے بعد بھی وہ 14 دن قرنطینہ میں گزار چکے ہوں۔

مگر اس کے ساتھ کچھ دیگر شرائط اور پروٹوکول بھی موجود ہیں۔

اہم شرط یہ ہے کہ متاثرہ شخص اور پلازما عطیہ کرنے والے صحتیاب مریض دونوں رضا مند ہوں۔

طبی ماہرین کے مطابق پلازما عطیہ کرنے والے شخص کے کچھ ٹیسٹ ہونا ضروری ہے۔ ان میں پلازما عطیہ کرتے وقت کورونا وائرس کا ٹیسٹ، سانس کے دیگر وائرس کے ٹیسٹ، ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی، ایچ آئی وی اور بعض دیگر ٹیسٹ منفی آنا لازمی ہے۔

انڈیا میں لکھنؤ کے ایک سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر توصیف خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’کورونا سے متاثرہ افراد کے دو ٹیسٹ منفی آنا ضروری ہے۔ اس کے بعد انھیں 14 دن کے قرنطینہ میں بھیجا جاتا ہے۔ اگر وہ پلازما دینا چاہتے ہیں تو انھیں آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کروانے کے لیے ہسپتال جانا پڑے گا۔ اگر نتیجہ منفی آتا ہے تو وہ پلازما دے سکتے ہیں۔‘

ڈاکٹر توصیف انڈیا میں پلازما عطیہ کرنے والے پہلے شخص ہیں۔ وہ مارچ میں کسی متاثرہ مریض کا علاج کرتے ہوئے اس انفیکشن کی زد میں آئے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ جس مریض کو انھوں نے پلازما دیا اس کی حالت اب بہتر ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق یہ ضروری ہے کہ پلازما عطیہ کرنے والوں میں کم از کم 10 دنوں تک کورونا وائرس کی مخصوص اینٹی باڈیز کی وافر مقدار ہو اور اس کے ساتھ وہ ہر طرح سے صحت مند ہوں۔

اس طریقے سے اور کہاں علاج ہورہا ہے؟
دنیا بھر میں پلازما کو علاج کے لیے استعمال کرنے سے متعلق تجربات ہو رہے ہیں۔

امریکہ نے پہلے ہی 1500 سے زائد ہسپتالوں میں اس بڑے تحقیقاتی منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکہ میں سائنسدانوں نے ملک بھر میں ایک منصوبہ ترتیب دیا ہے جس کے تحت اس وقت 600 مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔

چین میں اسے استعمال کیا گیا جبکہ برطانیہ نے بھی تقریباً تین ہفتے قبل یہ اعلان کیا تھا کہ وہ انتہائی تشویشناک حالت میں زیرِعلاج مریضوں پر پلازما تھیراپی کریں گے۔

برطانیہ میں محکمہ صحت کے بلڈ ٹرانسپلانٹ کے ادارے نے گذشتہ ماہ کے وسط میں کووڈ 19 سے شفایاب ہونے والوں سے خون کا عطیہ کرنے کا کہا تھا تاکہ وہ آزمائش کر کے اندازہ لگا سکیں کہ یہ کس حد تک فائدہ مند ہے۔

امریکہ میں مائیو کلینک کے پروفیسر مائیکل جوائنر اس منصوبے کی سربراہی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پہلے ہفتے کے دوران جو چیز ہم نے سیکھی وہ یہ ہے کہ حفاظتی اعتبار سے اور اس کے ٹیکے لگانے سے تاحال منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ایسے شواہد ملے ہیں جن سے یہ پتا چلتا ہے کہ آکسیجن کی فراہمی میں بہتری کے ساتھ مریضوں کی صحت میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

ان کے مطابق پلازما کے بارے میں ابھی بہت کچھ ایسا ہے جس کے بارے میں ہمیں معلوم نہیں ہے۔ اور نتائج کو پرکھنے کی ضرورت ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پلازما کوئی جادوئی علاج نہیں ہے کہ اس سے مریض ہر صورت صحتیاب ہوجائے گا۔ تاہم چونکہ اس وائرس کے علاج کے دیگر طریقے اتنے محدود ہیں اس لیے ویکسین کی دریافت تک ایسے ہی علاج کی امید لگائی جا سکتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.