62

کورونا وائرس کے دوران امریکہ اور چین کی جنگ کی باتیں کیوں ہو رہی ہیں؟

30 مئی 2017 کو امریکہ میں ایک کتاب شائع ہوئی تھی جو چند دنوں میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی تصانیف میں سے ایک بن گئی اور تمام پالیسی ساز، ماہر تعلیم اور صحافی اس کا مطالعہ کرنے لگے۔

کتاب کا عنوان تھا: ’جنگ جس سے فرار نہیں: کیا امریکہ اور چین اس پھندے سے بچ سکتے ہیں؟‘ (Destined For War: Can America and China Avoid Thucydides Trap)۔

اس کتاب میں توسیڈائڈز ٹریپ کا ذکر کیا گیا ہے جس سے مراد ہے کہ ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت اور ایک موجود عالمی طاقت کے درمیان جنگ ٹالی نہیں جاسکتی ہے۔

دنیا میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد ایک بار پھر ہارورڈ یونیورسٹی کے بین الاقوامی امور کے پروفیسرگراہم ایلیسن کی اس کتاب کا شد و مد سے چرچا ہونے لگا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کووڈ 19 کو ’چینی وائرس‘ کہہ کر پکارا تو امریکی جریدے سپیکٹیٹر نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں لکھا کہ کورونا کے ہاتھوں پہلی ہلاکت اس امریکی سوچ کی تھی کہ وہ چین کے عالمی طاقت بننے کی حقیقت کو ’باہمی مفادات‘ کے ذریعے قابو کر سکتا ہے۔

جریدے نے پروفیسر گراہم ایلیسن کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ صدر ٹرمپ کا یہ بیان ’توسیڈائڈز ٹریپ‘ یعنی ایک ابھرتی عالمی طاقت (چین) اور ایک موجود عالمی طاقت (امریکہ) کے درمیان نہ ٹلنے والی جنگ کے زمرے میں آتا ہے۔

توسیڈائڈز ٹریپ کیا ہے؟
توسیڈائڈز ایک قدیم یونانی تاریخ دان تھا جس نے سپارٹا اور ایتھنیز کے مابین ہونے والی پیلوپونیشین کی جنگ کے بارے میں لکھا۔

توسیڈائڈز ٹریپ ایک ایسے عمل کا نام ہے جس میں اپنے وقت کی بالادست طاقت یہ خطرہ محسوس کرتی ہے کہ ابھرتی ہوئی طاقت اس کی جگہ لے لے گی اور وہ اسے روکنے کی کوشش کرتی ہے اور اس کوشش میں لڑائی کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔

قدیم یونان میں جب سپارٹا کو ایتھنز سے خطرہ محسوس ہوا تو جنگ ہوئی۔

پروفیسر گراہم ایلیسن نے پانچ سو برس کی تاریخ کو چھان کر ایسی 16 مثالوں کی نشاندہی کی ہے جن میں ابھرتی ہوئی طاقتوں نے پہلے سے موجود طاقت کا سامنا کیا اور سولہ میں سے بارہ کا نتیجہ جنگ کی صورت میں نکلا۔

اس کتاب میں برطانیہ اور جرمنی کی مثال بھی ہے جب بیسویں صدی میں جرمنی برطانیہ سے آگے بڑھنے والا ہی تھا کہ بوسنیا کے شہر سراجیو میں ایک معمولی سے شاہی خاندان کے افراد کے قتل سے جنگ شروع ہوگئی جسے دنیا آج دوسری عالمی جنگ کے طور پر یاد کرتی ہے۔

پروفیسر ایلیسن کا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین کی رقابت عالمی تعلقات کا ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے۔

جب 26 دسمبر 1991 کو سوویت یونین بکھر گیا اور امریکہ دنیا کی واحد سپرپاور بن کر ابھرا تو امریکہ میں یہ سوچ پروان چڑھنے لگی کہ اب دنیا میں اس کے آگے کوئی نظریاتی حریف نہیں بچا۔

امریکی فلسفی فرانسیس فوکویاما کا ’اینڈ آف ہسٹری‘ (تاریخ کا اختتام) کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا جس کا لب لباب کچھ یوں تھا کہ سوویت یونین کے اختتام سے آزاد خیالی (لبرل اِزم) کا نظریاتی متبادل ختم ہوگیا ہے اور انسانی تہذیب کے اہداف، یعنی نمائندہ حکومتیں، آزاد منڈی اور صارفین سے چلنے والا کنزیومر کلچر، حاصل ہو چکے ہیں۔

امریکہ اور چین کے درمیان جنگ کی باتیں کیوں؟
جب امریکی اہلکاروں نے کووڈ 19 کو پہلے ’ووہان وائرس‘ اور پھر ’چینی وائرس‘ کے نام سے تعبیر دی تو چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکہ کو متنبہ کیا کہ وہ چین کو گالی دینے سے پہلے ’اپنے کام پر دھیان دیں۔‘

چین کی وزارت خارجہ کے ایک اور اہلکار نے امریکہ کے لیے کچھ سوالات اٹھا دیے اور امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس امریکی فوجی، جو ووہان میں فوجی مشقوں میں حصہ لینے آیا تھا اور ممکنہ طور پر وائرس کا نشانہ بنا، اس کے ٹیسٹ کے نتائج دنیا کو دکھائے۔

امریکی اہلکاروں کی جانب سے کووڈ 19 کو ’چینی وائرس‘ کہے جانے کے بعد امریکہ میں چین کے سفیر نے امریکہ سے مطالبہ کہ وہ اس وبا کو سیاسی رنگ نہ دیں۔

کووڈ 19 کے آنے کے بعد جب دونوں ملکوں کے درمیان فضا مزید کشیدہ ہوئی ہے تو چین سے شائع ہونے والے گلوبل ٹائمز نے توسیڈائڈز ٹریپ کے خالق پروفیسر گراہم ایلیسن کا انٹرویو کیا اور موجود حالات کے پسِ منظر میں ان سے سوالات کیے۔

پروفیسر گراہم ایلیسن نے کووڈ 19 کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات کو اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی ایک ’بچگانہ کوشش‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ امریکی اہلکاروں کی جانب سے صورتحال سے نمٹنے میں اپنی ناکامی کو چھپانے کی ایک کوشش ہے۔

اس عالمی وبا کے دوران ایک نظریاتی بحث بھی جاری ہے۔ امریکہ جو لبرل ڈیموکریسی کا داعی ہے، وہ چین کے نظامِ حکومت پر انگلیاں اٹھا رہا ہے جس میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو چھپانے کا الزام سرفہرست ہے۔

لیکن دوسری جانب ایسی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں کہ چین کے یک جماعتی آمرانہ نظام حکومت نے اسے موقع دیا ہے کہ وہ ایک بڑے علاقے کو بغیر کسی جھجک مکمل طور پر لاک ڈاؤن کر کے وائرس پر جلدی سے قابو پالے جبکہ لبرل ڈیموکریسی کا ردعمل اتنا تیز نہیں جتنا چین کا تھا۔

پروفیسر گراہم ایلیسن نے کہا کہ اگر یک جماعتی آمرانہ نظام نے انتہائی قابلیت کے ساتھ اپنے شہریوں کی زندگی کے بنیادی حق کا تحفظ کر لیا ہے جبکہ جمہوری حکومتیں ناکام رہی ہیں، تو ایسی صورتحال میں چینی اقدمات پر اعتراضات ’انگور کھٹے ہیں‘ کے مترادف ہیں۔

امریکہ کے بڑے اتحادی، جن میں برطانیہ، سپین اور فرانس شامل ہیں، وہ بھی کورونا وائرس کے خطرے سے بری طرح متاثر ہیں۔ تاہم وہ وائرس کو سیاسی رنگ دینے کی کوششوں سے خود کو دور رکھے ہوئے ہیں۔

البتہ امریکہ کے ایک نئے اتحادی ملک، انڈیا سے ایسی آوازیں ابھر رہی ہیں جن میں چین اور پاکستان کو سبق سکھانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔

انڈیا کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزی بورڈ کے رکن، تلک دیواشر نے ‘دا ٹرائیبون’ میں لکھے گئے ایک مضمون میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران چین اور پاکستان کے رویے پر اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ کووڈ 19 کے دنیا میں پھیلاؤ کے حوالے سے چین کا رویہ ’مجرمانہ‘ تھا اور وہ اس نتائج سے بچ نہیں سکتا۔

تلک دیواشر نے، جنھیں انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال کے انتہائی قریب سمجھا جاتا ہے، لکھا کہ اب دنیا کو معلوم ہو گیا ہوگا کہ اتنے لمبے عرصے تک اپنی مینوفیکچرنگ کو چین کے حوالے کرنے کے کیا نتائج نکلتے ہیں۔

تلک دیواشر، امریکی اہلکاروں کی طرح، عالمی ادارۂ صحت سے بھی ناراض ہیں جس نے کورونا وائرس پر قابو پانے میں چینی اقدامات کی تعریف کی ہے۔

تلک دیواشر لکھتے ہیں: ’چین جتنا بھی ڈبلیو ایچ او کے اہلکاروں کو رشوت دے لے اور غلط معلومات پھیلا لے، چین ذمہ داری سے نہیں بچ سکتا۔

ابھی تک یہ بحث زوروں پر ہے کہ یہ وائرس کہاں سے آیا۔ کیا یہ قدرتی ہے یا انسان کا بنایا ہوا ہے اور کسی لیبارٹری سے جان بوجھ کر چھوڑا گیا ہے۔ یا غیر ارادی طور پر یہ لیک ہوگیا؟

ابھی تک ایسی کوئی ٹھوس شہادت سامنے نہیں آئی ہے کہ اسے کسی ملک نے لیبارٹری میں تیار کر کے کسی مذموم مقاصد کے لیے دنیا میں پھیلایا البتہ اشاروں کنائیوں میں الزام چین کی دہلیز پر دھرا جا رہا ہے۔

جب دنیا میں کورونا وائرس کی گرد بیٹھ جائے گی تو یقیناً امریکہ اور اس کے اتحادی اس کی طرف متوجہ ہوں گے اور ان کھربوں ڈالروں میں سے حصہ مانگیں گے جو چین نے مغربی معیشتوں کے ساتھ مل کر اکٹھے کیے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.