63

پہلا گولڈ میڈل جیتنے والا پہلوان گمنامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیوں؟

لاہور شہر کے نواحی علاقے باٹا پور کے گاؤں اتوکے اعوان کے رہائشی 95 سالہ دین محمد وضع قطع میں تو آپ کو پنجاب کے ایک عام دیہاتی کی طرح ہی دکھائی دیتے ہیں لیکن وہ کوئی عام شخص نہیں۔

دین محمد پاکستان کے وہ کھلاڑی ہیں جنھیں سب سے پہلے کسی بین الاقوامی مقابلے میں ملک کے لیے طلائی تمغہ جیتنے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔

دین محمد اب دنیا کی نظروں سے دور گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان سپورٹس بورڈ کی جانب سے انھیں پانچ ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا تھا لیکن وہ بھی چند ماہ ہی جاری رہ سکا اور آج وہ ارباب اختیار کی بےحسی کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں۔

جب پہلی مرتبہ پاکستانی پرچم عالمی مقابلے میں لہرایا
دین محمد نے پاکستان کے لیے طلائی تمغہ 1954 میں منیلا میں ہونے والے دوسرے ایشین گیمز میں کُشتی کے مقابلے میں جیتا تھا۔

پاکستان پہلی بار ان کھیلوں میں شریک ہوا تھا اور اس نے مجموعی طور پر پانچ طلائی تمغے جیتے تھے۔ ان میں سے چار تمغے عبدالخالق، مرزا خان، شریف بٹ اور محمد نواز نے چار سے سات مئی تک ہونے والے ایتھلیٹکس مقابلوں میں جیتے لیکن پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ تین مئی کو دین محمد نے رقم کی تھی۔

اس دن کو یاد کرتے ہوئے دین محمد کا کہنا تھا ’میں نے فلپائن، انڈیا اور جاپان کے پہلوانوں سے مقابلے جیتے۔ فائنل میں میرا مقابلہ جاپانی پہلوان سے تھا جسے شکست دے کر میں نے گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔ میرے لیے اس سے زیادہ فخر کی بات اور کیا ہو سکتی تھی کہ میرے ملک کا پرچم پہلی بار کسی مقابلے میں لہرایا گیا تھا۔‘

گولڈ میڈل کہاں گیا؟
دین محمد نے ایشیائی کھیلوں میں جو گولڈ میڈل جیتا تھا وہ اب ان کے پاس بھی نہیں ہے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ وہ تمغہ کہاں گیا تو دین محمد نے بتایا کہ ’جب میں منیلا سے واپس آیا تو مجھے ایک شخص ملا جس نے مجھ سے کہا کہ یہ میڈل گھر پر نہیں رکھتے، اسے میں یادگار کے طور پر میوزیم میں رکھوں گا۔‘

’مجھے نہیں معلوم کہ وہ شخص سرکاری افسر تھا یا کوئی اور، میں نے وہ گولڈ میڈل اسے دے دیا۔ اس کے بعد پتا نہیں چل سکا کہ وہ شخص کہاں چلا گیا اور میرا گولڈ میڈل بھی۔‘

تاہم ایسا بھی نہیں کہ دین محمد کے پاس کوئی تمغہ محفوظ ہی نہ ہو۔ ایشیائی کھیلوں کے بعد 1954 میں ہی انھوں نے کینیڈا کے شہر وینکوور میں ہونے والے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا جو آج بھی ان کے پاس موجود ہے۔

ہاتھی پر بٹھا کر شہر میں جلوس نکلا
طلائی تمغہ جیت کر وطن واپسی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے دین محمد نے کہا کہ ’جب میں ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیت کر واپس آیا تو لاہور میں میرا استقبال ہوا تھا۔ اس مقصد کے لیے چڑیا گھر سے ہاتھی لایا گیا تھا اور مجھے اس پر بٹھا کر شہر میں گھمایا گیا لیکن میں اس وقت حیران پریشان ہوگیا جب وہ ہاتھی چڑیا گھر کے اندر گیا اور میں باہر کھڑا رہ گیا۔

’اس وقت میرے پاس کوئی بھی موجود نہ تھا۔ سب افسر لوگ جو میرے استقبال کے لیے آئے تھے وہ جا چکے تھے اور میری حالت یہ تھی کہ جیب میں ایک پیسہ بھی نہ تھا کہ میں گھر جا سکوں لہٰذا مجھے مجبوراً پیدل گھر جانا پڑا تھا۔‘

پہلوانی کیسے شروع کی؟
دین محمد کہتے ہیں ’میں نے گاؤں میں پہلوانی شروع کی تھی۔ جب میں نے باٹا میں ملازمت کی تو وہاں میرے شوق میں اضافہ ہوا۔ باٹا کے ایک افسر پہلوانی کرواتے تھے۔ ایک دن میں نے ایک لڑکے کو ہرادیا تو افسر نے مجھ سے کہا کہ تمہاری ملازمت یہی ہے کہ تم پہلوانی کرتے رہو لیکن جب ان کی جگہ نئے افسر آئے تو انھوں نے کہا کہ کام کرو۔ میں نے انکار کیا اور نوکری چھوڑ دی۔‘

دین محمد کے مطابق اس کے بعد انھیں اپنی پہلوانی کی وجہ سے ہی ریلویز میں بھی ملازمت ملی لیکن کم تنخواہ کی وجہ سے انھوں نے وہ نوکری بھی نہیں کی۔

’شفیع پہلوان نے مجھے ریلویز میں ملازمت دلوائی تھی لیکن وہ ملازمت میں نے اس لیے چھوڑ دی کہ میری تنخواہ صرف 20 روپے تھی جس میں گزراوقات ممکن نہیں تھی۔ میں اس زمانے میں پیدل گاؤں سے شہر بھی آیا کرتا تھا۔ میں سخت ورزشیں کرتا تھا مگر میری خوراک بہت سادہ ہوا کرتی تھی۔‘

دل ایسا ٹوٹا کہ پھر لاہور نہیں گیا
دین محمد کی زندگی کا سب سے بڑا افسوس یہی ہے کہ انھیں ملک کے لیے پہلا طلائی تمغہ جیتنے کے باوجود نظرانداز کر دیا گیا۔

’زندگی بھر یہی افسوس رہا کہ حکومت نے ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے کے بعد بھی مجھے نظرانداز کر دیا۔ میرے گاؤں والوں نے مجھے کندھوں پر بٹھایا لیکن جنھیں کھلاڑیوں کا خیال رکھنا چاہیے تھا انھوں نے آنکھیں پھیر لیں۔

’مجھے باغ جناح میں چار تولہ سونے کا تمغہ دیا جانے لگا تو میں نے ان سے کہا کہ مجھے کوئی زمین کا ٹکڑا دے دیں۔ اس سونے کا میں کیا کروں گا، غریب آدمی ہوں اسے بیچ دوں گا۔ اس وقت سونا 50 روپے تولہ تھا۔

’میری بات کسی نے نہیں سنی۔ اگر حکومت میری مدد کرتی تو میری مالی مشکلات دور ہو سکتی تھیں۔

ان کے مطابق انھیں نظرانداز کیے جانے کا سلسلہ جاری رہا اور جب وہ ڈھاکہ سے جیت کر واپس آئے تو انھوں نے سب کچھ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔

’جب جیت کر واپس آیا تو اتنا دلبرداشتہ ہو چکا تھا کہ پھر لاہور جانے کا دل ہی نہیں ہوا۔ سب کچھ چھوڑ دیا‘۔

بیگم کی ادھوری خواہش
دین محمد کے مطابق ان کے پہلوانی چھوڑنے کے فیصلے سے ان کی بیگم بھی خوش نہیں تھیں۔

’جب میری شادی ہونے لگی تو بیگم کی بھی خواہش تھی کہ وہ بھی میرے ساتھ غیر ملکی دورے پر جائیں اور سیر و تفریح کریں لیکن منیلا اور وینکوور کے بعد میں خود کبھی ملک سے باہر نہ جا سکا اور اپنے گاؤں کا ہی ہو کر رہ گیا۔

’اس بات پر بیگم بہت ناراض ہوئیں اور آج تک خفا ہیں‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.