75

بنوں احساس کفالت ایمرجنسی پروگرام میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں

احساس کفالت ایمرجنسی پروگرام میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں، ویلج کونسل اسماعیل خیل میں سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر بے سہارا اور نادار افراد کو نظر انداز کرکے سرکاری ملازمین اور قابل استعداد لوگوں کو شامل کیا گیا اسماعیل خیل احتجاجی جرگے نے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا اس سلسلے میں گزشتہ روز اسماعیل خیل میں ایک احتجاجی جرگہ منعقد ہوا جس میں علاقہ کے مشران سمیت غریب ، یتیم بچوں اور مستحقین آفرادنے کثیر تعداد میںشرکت کی جرگہ کے بعد میڈیا سے اقوام اسماعیل خیل کے رہنماء تنویر الحق خان ،مراد علی خان ،دلا باز خان ،رزاق آفرید ی ،داود خان اور امجد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر بنوں نے کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاون سے متاثرہ دیہاڑی دار مزدوروں کیلئے احساس کفالت پروگرام کیلئے ویلج کونسل سیکرٹری اور سکول ٹیچر پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی کہ یہ مستحقین کا ڈیٹا جمع کرکے ڈپٹی کمشنر دفتر میں جمع کروائیں گے لیکن جب ڈپٹی کمشنر دفتر سے آن لائن فہرستیں جاری ہوئی تو اس میں ویلج کونسل اسماعیل کے صرف 8افراد جو کہ سرکاری ملازمین یا قابل استعداد لوگ ہیں کو شامل کیا گیا تھا جبکہ دیہاڑی دار مزدور اور مستحقین افراد کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے اس سلسلے میں جب ہم نے سیکرٹری ویلج کونسل سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ اُن پر سیاسی افراد کی طرف پریشر ڈالا گیا ہے اور انہوں نے جو ڈیٹا جمع کیا تھا وہ ڈپٹی کمشنر دفتر میں جمع کراچکے ہیں فہرست میں وہاں پر نام تبدیل کئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر اور دیگر اعلیٰ حکام مستحقین افراد کے ڈیٹا میں ہیر پھیر اور رد وبدل کی تحقیقات کرائیں کیونکہ یہاں لاک ڈاون کی وجہ سے سینکڑوں لوگ بے روزگار ہوئے جن کے گھروں میں فاقے پڑ رہے ہیں اور دوسری طرف ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے انہوں نے کہا کہ انتظامیہ پاسپورٹ رکھنے والے افراد کا ڈیٹا جمع نہیں کر رہی جو کہ نا انصافی ہے کیونکہ بہت سارے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے خاندان کی کفالت کیلئے بیرون ممالک جانے کی عرض سے پاسپورٹ بنائے ہیں لیکن ابھی تک اُن کو ویزہ نہیں ملا جس کے باعث اب وہ احساس کفالت پروگرام میں محروم کئے گئے ہیں لہذا حکومت اور ضلعی انتظامیہ فوری طور مذکورہ فہرستوں میں رد وبدل کی تحقیقات سمیت پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے بارے میں سروے کریں اور اُنہیں بھی اس پروگرام میں شامل کیا جائے بصورت دیگر ہم بھر پور احتجاجی تحریک پر اُ تر آئینگے اس دوران کسی بھی نقصان کی ذمہد اری متعلقہ حکام پر عائد ہو گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.