80

کورونا وائرس: کیا کورونا وائرس کی وبا کے دوران سیکس کرنا محفوظ ہے؟

کیا سیکس کرنے سے مجھے کورونا وائرس ہو سکتا ہے؟ شاید یہ سوال آپ کے ذہن میں بھی آیا ہو لیکن آپ اس بارے میں کسی سے بات کرنے میں شرمندگی محسوس کرتے ہوں۔

حقائق کو فرضی باتوں سے الگ کرتے ہوئے، ہم نے اس سے وابستہ چند سوال ماہرین صحت کے سامنے رکھے ہیں۔

شعبہ ایمرجنسی میں کام کرنے والے ڈاکٹر ایلکس جارج ریئلٹی شو ’لو آئی لینڈ‘ میں شرکت بھی کر چکے ہیں۔ ایلکس فاکس سیکس کے موضوع پر کام کرنے والی صحافی اور بی بی سی ریڈیو ون پر ایک پروگرام کی سابق میزبان اور پوڈ کاسٹ ’دا ماڈرن مین‘ کی شریک میزبان ہیں۔

کیا کورونا وائرس کی وبا کے دوران جنسی تعلق قائم کرنا محفوظ ہے؟
ڈاکٹر ایلکس جارج: اگر آپ ایک رشتے میں ہیں۔۔۔ تو اس انسان کے ساتھ رہنا اور اسی ماحول کا حصہ ہونے سے آپ کی صورتحال کو تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم اگر آپ میں سے کسی ایک میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں تو پھر آپ کو سماجی فاصلہ رکھنا چاہیے اور الگ ہو جانا چاہیے حتیٰ کہ اپنے گھر کے اندر بھی۔ ایک مثالی دنیا میں ہر کسی کو دو میٹر کے فاصلے پر رہنا چاہیے حتیٰ کہ اپنے گھر میں بھی، لیکن ہمیں احساس ہے کہ یہ حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔

ایلکس فاکس: یہ سمجھنا بھی واقعی اہم ہے کہ آپ یہ نہ سوچ لیں کہ اگر آپ کورونا وائرس کی ہلکی علامات کا سامنا کر رہے ہیں تو آپ کے ساتھی کے لیے بھی ایسا ہی ہوگا۔ اگر آپ کسی قسم کی کوئی علامات ظاہر کر رہے ہیں تو اپنے ساتھی سے دور رہنے کی کوشش کریں۔

کیا کسی نئے شخص سے جنسی تعلق قائم کیا جا سکتا ہے؟
ڈاکٹر ایلکس: میں یقینی طور پر اس وقت نئے سیکس پارٹنر بنانے کا مشورہ نہیں دوں گا کیونکہ اس سے وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے۔

ایلکس فاکس: یہ بھی مت بھولیے کہ کچھ لوگ وائرس کے کیرئیر ہیں یا جن میں وائرس موجود ہے، ان میں اس کی کوئی علامات موجود نہیں ہوں گی۔ تو اگر آپ بالکل ٹھیک بھی ہیں تب بھی آپ یہ انفیکشن کسی اور میں منتقل کر سکتے ہیں اور وہ شخص کسی اور فرد سے رابطے میں آنے یا چومنے سے یہ وائرس منتقل کر سکتا ہے۔

میں نے کسی ایسے شخص کو چوما ہے جن سے میری ملاقات حال ہی میں ہوئی ہے، اور ان میں علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئی ہیں، تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟
ڈاکٹر ایلکس: اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ نے کسی کے ساتھ بوس و کنار کیا یا آپ ایسے شخص سے رابطے میں آئے ہیں جن میں بعد میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے لگیں ہیں تو خود کو الگ تھلگ کر لیں۔

اپنی علامات پر نظر رکھیں۔ اگر علامات بڑھ رہی ہیں تو زیادہ محتاط ہو جائیں۔ آن لائن معلومات حاصل کرنے کے لیے محکمہ صحت کی ویب سائٹ پر جائیں۔ اپنے علاقے کی متعلقہ ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔

ایلکس فاکس: رشتوں میں ہم ایک دوسرے کے لیے اور اپنے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اگر آپ میں علامات ظاہر ہو رہی ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ آپ نے حال ہی میں کسی کو چوما ہے تو آپ کو انھیں بتانا چاہیے۔ اور اگر آپ نے کسی کو چوما ہے اور ان میں علامات ظاہر ہونے لگی ہیں اور آپ میں ایسا کچھ نہیں تو پھر بھی خود کو الگ کر لیں۔

میں کورونا وائرس سے قبل کونڈوم کا استعمال نہیں کر رہا تھا، کیا مجھے اب کرنا چاہیے؟
ایلکس فاکس: اس سوال کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کونڈوم کا استعمال کیوں نہیں کر رہے تھے۔

اگر آپ اس لیے کونڈوم کا استعمال نہیں کر رہے تھے کہ آپ دونوں میں ’ایس ٹی آئیز‘ یا جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کا ٹیسٹ کیا گیا ہے، مینوپاز سے قبل آپ ایک جنسی تعلق میں تھے اور بغیر منصوبہ بندی کے حمل سے بچنے کے لیے کسی دوسری قسم کی مانع حمل ادویات استعمال کر رہے ہیں، تو یہ ٹھیک ہے۔ لیکن اگر آپ کونڈوم کا استعمال اس لیے نہیں کر رہے تھے کہ آپ ’پُل آؤٹ‘ طریقہ کار استعمال کر رہے تھے یا پھر جسنی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کا خطرہ مول لے رہے تھے، تو بہت زیادہ ضروری ہے کہ آپ اب کونڈوم کا استعمال کریں۔

کسی کی وجائنا/اندام نہانی یا عضو تناسل کو ہاتھ لگانے سے کورونا وائرس ہو سکتا ہے؟
ڈاکٹر ایلکس: اگر آپ ایک دوسرے کے جنسی اعضا کو چھویئں گے تو ممکن ہے کہ آپ اس وقت بوس و کنار بھی کر رہے ہوں گے اور ہم جانتے ہیں کہ وائرس سلائیوا کے ذریعے پھیلتا ہے۔ بنیادی طور پر کورونا وائرس کی منتقلی کا کوئی بھی امکان۔۔۔ آپ کے منہ سے آپ کے ہاتھوں کو، جنسی اعضا، کسی اور کے ناک یا منہ تک، کورونا وائرس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ہمیں اس خطرے کو کم سے کم کرنا ہے۔ تو آپ کا ایسا ساتھی جس کے ساتھ آپ نہیں رہ رہے، ضروری ہے کہ ان سے کوئی رابطہ قائم نہ کیا جائے۔

میں اس وقت اپنا رشتہ کیسے قائم رکھوں؟ میں اکیلا نہیں رہنا چاہتی/چاہتا

ایلکس فاکس: یہ پوری وبا بہت سے لوگوں کو یہ دوبارہ سے سوچنے کی ترغیب دے رہی ہے کہ ایک اچھی جنسی زندگی کیا ہے اور کس طرح سے ایک خوشگوار تعلق قائم کیا جا سکتا ہے۔ میں نے ایسے لوگوں کے بارے میں سنا ہے جو ایک دوسرے کو جنسی پیغامات بھیج رہے ہیں اور لوگ جو ایک دوسرے کے ساتھ رشتے میں ہیں لیکن قرنطینہ میں ہیں، کس طرح سے اس وقت اور فاصلے کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ واقعی بہت تخلیقی ہو رہے ہیں۔ اگر آپ اپنے خیالات کا تھوڑا زیادہ استعمال کریں تو آپ ایک دوسرے کے سامنے آئے یا ملے بغیر بھی اچھا وقت گزار سکتے ہیں۔

یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ کچھ لوگ اس دوران یہ دریافت کریں گے کہ ان کی یا ان کے ساتھی کی جنسی خواہشات مختلف ہیں۔ آپ کو ایسی صورتحال کا سامنا بھی ہو سکتا ہے جس میں پہلے آپ اپنے ساتھی سے ہفتے میں ایک بار مل رہے تھے اور اچانک ہی آپ نے ساتھ رہنا شروع کر دیا۔ آپ کو شاید پتہ چلے کہ آپ کو سیکس چاہیے لیکن آپ کے ساتھی کو نہیں۔ ضروری ہے کہ اس بارے میں قابل احترام اور محبت بھرے انداز میں ایک دوسرے سے بات کی جائے۔ ساتھ رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا جب دل چاہے آپ سیکس کر لیں۔ اور کوئی بھی ایسا فرد جو ایسی صورتحال سے گزر رہا ہے جس میں وہ اپنے ساتھی کے ساتھ اچھا وقت نہیں گزار رہا کیونکہ ان کو سیکس کے لیے مجبور کیا جاتا ہے تو اس سے نمٹنے کے لیے ہیلپ لائنز موجود ہیں۔

اگر مجھے ایچ آئی وی ہے تو کیا کورونا وائرس ہونے کا خطرہ زیادہ ہے؟
ایلکس فاکس: ٹیرنس ہیگینز ٹرسٹ کے ڈاکٹر مائیکل بریڈے نے اس حوالے سے انتہائی اہم مشورہ دیا ہے۔ اگر آپ پہلے سے ایچ آئی وی کا مقابلہ کرنے کے لیے باقاعدگی سے دوائیں لے رہے ہیں اور انفیشکن کا مقابلہ کرنے کے لیے آپ کے خون میں سفید خلیوں کی تعداد اچھی ہے یا خون میں ایچ آئی وی کی مقدار اتنی ہے جس کا پتہ نہیں لگایا جا سکتا تو تب آپ کا مدافعتی نظام کمزور نہیں سمجھا جاتا۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کو کورونا وائرس ہونے کا اضافی خطرہ نہیں۔ اگر آپ ایچ آئی وی پازیٹو ہیں تو اپنی ادوایات جاری رکھیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جب الگ تھلگ ہونے جیسی چیزوں کی بات ہو تو آپ بھی ان سب اصولوں پر عمل کریں جن کی پیروی دوسرے لوگ کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.