120

لاک ڈاؤن کے دنوں میں تنہائی اور نفسیاتی دباؤ سے نمٹنے کے لیے ٹیلی کلینک کا سہارا

کورونا وائرس کے بارے میں مصدقہ اور غیر مصدقہ معلومات کی بہتات سے لوگ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گئے ہیں اور اس کے لیے ماہرین نفسیات نے ٹیلی کلینک یا ٹیلی سائیکاٹری شروع کی ہے جہاں لوگ فون اور ویڈیو کالز کے زریعے ڈاکٹروں سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

اس ٹیلی کلینک یا ٹیلی سائیکاٹری میں لوگوں کو ان کی الجھنوں کے حل اور ان سے نمٹنے کے لیے مشورے دیے جائیں گے۔

ماہرین کے مطابق اگر ضرورت ہو تو ادویات بھی تجویز کی جا سکتی ہیں۔

ٹیلی کلینک کیا ہے؟
جب مریض ہسپتال یا ڈاکٹر کے پاس خود نہ جا سکے یا جہاں متعلقہ ڈاکٹر کی سہولت نہ ہو تو وہاں لوگ ٹیلی فون یا ویڈیو کال یا سکائپ کے ذریعے اپنے معالج یا کسی بھی ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کر سکیں، مشورہ کرسکیں یا ڈاکٹر مریضوں کو ادویات تجویز کرسکے اس ٹیلی کلینک یا ٹیلی سائیکاٹری کہتے ہیں۔

اس کا مقصد کیا ہے ؟
پاکستان سائیکاٹرک سوسائٹی خیبر پختونخوا کے سربراہ ڈاکٹر عمران خان نے تبایا کہ ڈاکٹرز اس سروس کے ذریعے موجودہ حالات کے تناظر میں لوگوں میں خوف کی کمی اور ان کی نفسیاتی مسائل کے حل تجویز کرتے ہیں۔

ڈاکٹر عمران خان نے بتایا کہ موجودہ حالات میں جہاں کرونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا میں لوگ گھروں تک محصور ہو گئے ہیں جہاں گھروں سے باہر نکلنا مشکل ہے ایسے میں لوگ ڈاکٹروں کے پاس کیسے جا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس ساری صورتحال میں جہاں ان کے بیشتر ڈاکٹر فرنٹ لائن پر موجود ہیں اور کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کا علاج کر رہے ہیں ایسے میں پاکستان سائکاٹرک سوسائٹی خیبر پختونخوا نے ٹیلی فون اور ویڈیو کالز کے زریعے لوگوں کو رابطوں کی سہولت فراہم کی ہے۔

اس سلسلے میں ابتدائی طور پر تو صوبے میں پندرہ ڈاکٹروں کی فہرست فراہم کی گئی ہے لیکن جلد ہی مذید ڈاکٹروں کے رابطے بھی اس فہرست میں شامل کر لیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں۔

اس ٹیلی کلینک میں کرونا وائرس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے متاثرہ افراد کے علاوہ دیگر امراض کے شکار افراد بھی ان ڈآکٹروں سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان ڈاکٹروں سے علاج کرانے والے مریض بھی مشاورت کے لیے ان رابطہ کرنے کی سہولت دستیاب ہوگی۔

اگر آپ پاکستان میں کہیں بھی رہتے ہوں اور اگر آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ نفسیاتی الجھن کا شکار ہیں یا آپ کو کوئی دماغی عارضہ لاحق ہے تو آپ اگر گھر میں پابند بھی بیٹھے ہیں پھر بھی آپ ڈاکٹروں سے رابطہ کر سکتے ہیں اور یہ رابطہ آپ ٹیلیفون، یا ویڈیو کے ذریعے کر سکتے ہیں جس سے آپ ڈاکٹر کو اور ڈآکٹر آپ کو دیکھ سکتا ہے اور آپ کو مفید مشورہ دے سکتا ہے دوائئ بھی تجویز کر سکتا ہے۔

ٹیلی کلینک میں شامل سینیئر ڈاکٹر میاں افتخار حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ کرونا وائرس سے لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے اور ایسے مریض آئے ہیں جنھیں کوئی تکلیف نہیں ہے لیکن وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں یہ بیماری لاحق ہے اور وہ کسی بھی وقت مر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر میاں افتخار حسین نے بتایا کہ ان کے پاس ایک ٹیچر اور ان کی بیوی آئے جہاں شوہر پر خوف طاری تھا اور وہ یہ سمجھتا تھا کہ اسے کرونا وائرس ہوگیا ہے لیکن انھیں ڈاکٹروں نے کہا کہ انھیں کوئی تکلیف نہیں ہے وہ ٹھیک ہیں۔

ڈاکٹر افتخار کے مطابق اس طرح کے مریضوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے اور وہ ایسے مریضوں کو مشورے دیتے ہیں اور ذہنی دباؤ یا تفسیاتی مسائل کے شکار افراد کی کونسلنگ کرتے ہیں تاکہ وہ ذہنی طور پر پرسکون ہو جائیں۔

یہ میڈیا کیا کر رہا ہے؟
ماہرین نفسیات کے مطابق بیشتر مریض میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر مصدقہ اور غیر مصدقہ خبروں کی بہتات سے پریشان نظر آتے ہیں جن میں ایسی ویڈیوز ہوتی جن میں لاشیں ، یا دفنانے کے منظاہر ہوتے ہیں اور یا مریضوں کی حالت دکھائی جاتی ہے جس سے لوگوں میں خوف بڑھ جاتا ہے۔

معروف ڈاکٹر خالد مفتی نے بتایا کہ وہ ایسے حالات میں اپنے مریضوں سے کہتا ہوں کہ سوشل میڈیا سے دور رہیں اور اپنی معلومات کے لیے کسی ایک ایسے چینل کا انتخاب کریں جس سے آپ کو مشدقہ اطلاعات مل سکیں۔ انھوں نے کہا کہ منفی خبروں کے پھیلنے سے مایوسی بڑھ جاتی ہے جس سے ذہنی دباؤ پیدا ہوتا ہے اور ایسے میں خوف بڑھ جاتا ہے اور مریض کو مختلف مسائل پیش آتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کرونا وائرس کے متعلق حکومت نے جو معلومات فراہم کرنا تھیں کر دی ہیں اور اس میں لوگوں کو محتاط رہنے کی تلقین کی گئی ہے اس لیے ان مشوروں پر عمل کریں اور اپنے ذہن کو پر سکون رکھیں۔

ڈاکٹر میاں افتخار حسین کے مطابق سائیکاٹری صرف ایک بیماری نہیں ہے بلکہ سوشل رویے اور لوگوں سے ملنے کے متعلق ہے اور علاقے کی روایات ہیں جن کو بدلنا ہے اور اس کے لیے لوگوں کا ہر چیز سے آگاہ ہونا ضروری ہے ۔

عام حالات میں لوگ کا ٹائم ٹیبل طے ہوتا ہے جیسے صبح بیدار ہونے کے بعد ورزش ہے دفتر جانا ہے لوگوں سے ملنا ہے لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ لوگ باہر نہیں جا سکتے دفتر نہیں رہے اور لوگوں سے ملنا نہیں ہے تو لوگوں کو کیا کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر افتخار حسین کے مطابق ورزش کرنا ضروری ہے اور اپنے آپ کو مطمئن اور پرسکون رکھنے کے لیے سانس کے ذریعے اپنے آپ کو پرسکون رکھنا ضروری ہے۔ اس کے لیے انھوں نے کہا کہ لمبی سانس لیں اور پھر دس سے پندرہ سیکنڈ تک سانس کو روکے رکھیں اور کےبعد سانس چھوڑدیں اور یہ عمل دن میں تین مرتبہ ضرور کریں۔

انھوں نے کہا کہ یہ عمل کرتے وقت اپنے تخیل میں بہتر نظارہ رکھیں جیسے سمند کا کنارہ یا کسی ہل سٹیشن کا نظارہ تاکہ آپ سکون محسوس کریں۔

ڈاکٹر خالد مفتی نے کہا کہ وہ اپنے مریضوں کو ضرور بتاتے ہیں کہ ایک تو ہلکی پھلکی ورزش کریں اور مثبت سوچ کے ساتھ ساتھ پر امید رہیں۔ انھوں نے کہا کہ جو اللہ تکلیف دیتا ہے تو وہی اسے دور بھی کرتا ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے اور بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جن کا اثر لمبے عرصے تک رہتا ہے۔

ڈاکٹر عمران خان نے بتایا کہ پشتو کی ضرب المثل ہے جس کا مطلب کچھ یوں ہے کہ مارنے سے بھاگنا زیادہ مشکل ہوتا ہے یعنی اگر مار پڑے تو اسی وقت پڑ جاتی ہے لیکن مار کے ڈر سے جو بھاگنا پڑتا ہے وہ مشکل ہوجاتا ہے۔

انھوں نے کہا اسی طرح کرونا وائرس کب تک رہتا ہے معلوم نہیں لیکن لوگوں کے ذہنوں پر جو اثر ہے یہ شاید لمبے عرصے تک رہے گا۔

انھوں نے کہا کہ بعض واقعات جیسے زلزلہ یا سیلاب وغیرہ کچھ علاقوں تک ایک محدود وقت تک ہوتا ہے لیکن یہ وائرس ایک تو پوری دنیا میں پھیل چکا ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں اور دوسرا یہ کہ ان کے اثر کے نیچے بہت سارے لوگوں کے رویوں میں تبدیلیاں آ رہی ہیں اور یہ تبدیلیاں اس وائرس کی ہی نشاندہی کرتی رہیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.