90

کورونا وائرس کے معیشت پر اثرات: کیا پاکستان آئی ایم ایف سے قرض کی شرائط نرم کروا سکتا ہے؟

پاکستان کے حزب اختلاف کے رہنماؤں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے ملکی معیشت پر ممکنہ برے اور دور رس اثرات کے پیش نظر بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے ساتھ قرض سے جڑی اور اس کی واپسی کی شرائط پر دوبارہ مذاکرات کر کے انھیں نرم کروانے کی کوشش کریں۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے قرض کی شرائط نرم کروانا نہ صرف ممکن ہے بلکہ پاکستان کے لیے ناگزیر بھی ہے کیونکہ ملکی معیشت کو کورونا کی وجہ سے جو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے اس کے بعد پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرنا ممکن نہیں ہو گا۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے چھ ارب ڈالر کا قرضہ تین سے چار فیصد کے درمیان شرح سود کے ساتھ گزشتہ برس جولائی میں منظور کیا تھا۔ یہ قرض قسطوں کی صورت میں تین سال کے عرصے میں پاکستان کو ادا کیا جانا ہے۔ اس قرضے کی مکمل وصولی کے 22 مہینے کے بعد اس کے واپس لوٹانے کا عمل شروع ہو گا۔

اس قرض سے منسلک دوسری شرائط کے علاوہ ایک کڑی شرط سٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے بلند شرح سود رکھنا اور بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ نئے مذاکرات کا مطالبہ کون اور کیوں کر رہا ہے؟
کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے پورا پاکستان اس وقت تقریباً لاک ڈاؤن میں جا چکا ہے۔ معمولات زندگی کے رک جانے سے ملک بھر میں معاشی سرگرمیوں کو بھی بریک لگ چکی ہے۔ معیشت کا پہیہ اس وقت تقریباً رک چکا ہے اور ان حالات میں ملک کے اقتصادی اہداف کا حصول مشکل ہو چکا ہے۔

ایسی صورتحال میں پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ چھ ارب ڈالر مالیت کے ’توسیعی فنڈ سہولت‘ کے معاہدے پر نظر ثانی کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو چکی ہیں۔ اس سلسلے میں حزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ آئی ایم ایف سے اس معاہدے کے لیے نئی شرائط طے کرے۔

دوسری جانب پاکستان میں معاشی امور کے ماہرین بھی آئی ایم ایف سے معاہدے کے لیے نئی شرائط کی تجاویز حکومت کو دے رہے ہیں۔

دنیا کے بیشتر ممالک میں کورونا وائرس کے پھیلنے اور ہزاروں انسانی جانوں کے ضائع ہونے اور مزید کے خدشے کے باعث آئی ایم ایف نے اس وبا سے متاثرہ ممالک کے لیے مالیاتی امداد کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان نے بھی آئی ایم ایف سے اس سلسلے میں ہنگامی امداد کی درخواست کی جس کے جواب میں آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کرسٹینا لی جورجیوا نے ہنگامی امداد دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

تاہم معاشی ماہرین توسیعی فنڈ سہولت کے معاہدے پر نئی شرائط کی تجاویز دے رہے ہیں جن کی وجہ سے پاکستان سخت مالیاتی نگرانی میں آیا اور ملک میں گیس، تیل، بجلی وغیرہ کے نرخوں میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا جس نے پاکستان میں مہنگائی کی بلند ترین لہر کو جنم دیا۔

’یہ شرائط کوئی آسمانی صحیفہ نہیں کہ جس پر دوبارہ مذاکرات نہیں ہو سکتے‘
وزیراعظم پاکستان کی اکنامک ایڈوائزری کونسل کے سابق رکن اور ماہر معیشت ثاقب شیرانی کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے توسیعی فنڈ سہولت کے معاہدے کی نئی شرائطِ سے متعلق مذاکرات اس وقت کیے جا سکتے ہیں۔

ان کے مطابق عام حالات میں تو ایسا ممکن نہیں ہوتا تاہم غیر معمولی حالات میں آئی ایم ایف سے اس سلسلے میں بات چیت کی جا سکتی ہے۔ کورونا وائرس نے ملک میں غیر معمولی حالات پیدا کر دیے ہیں جن کے معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ثاقب شیرانی کا کہنا ہے ان حالات میں آئی ایم ایف سے معاہدے کی شرائط کو ایک سال تک معطل کرنے کے لیے حکومت آئی ایم ایف سے درخواست کرے۔

انھوں نے واضح کیا کہ اس سے پروگرام معطل نہیں ہو گا بلکہ وہ شرائط معطل ہوں گی جن کے تحت یہ قرضہ فراہم کیا گیا تھا جیسے کہ ٹیکس وصولی کا ہدف، بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ وغیرہ شامل ہے۔

ماہر معیشت اور سابقہ معاشی مشیر برائے وزرات خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے آئی ایم ایف سے توسیعی فنڈ سہولت کے معاہدے کی شرائط پر نظر ثانی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ شرائط کوئی آسمانی صحیفہ نہیں کہ جس پر دوبارہ مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

’اس وقت ملک کورونا وائرس کی وجہ سے غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے اور ان حالات میں اس معاہدے کی شرائط کو پورا کرنا بہت زیادہ مشکل ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ معاہدے کے وقت اور آج کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس لیے پاکستان کو نئی شرائط کے لیے مذاکرات کرنے چاہیے۔

کن شرائط پر نظر ثانی پر زور دینا چاہیے؟
ڈاکٹر اشفاق حسن کے مطابق آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پاکستان کو اگلے مالی سال میں موجودہ مالی سال کے ٹیکس ٹارگٹ سے ایک ہزار ارب اضافی محصولات اکٹھے کرنے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان موجودہ مالی سال میں 4400 ارب کے محصولات بڑی مشکل سے جمع کر پائے گا تو اگلے مالی سال میں آئی ایم ایف شرائط کے تحت 6300 ارب کی محصولات کا ہدف ایک غیر حقیقی ہدف ہو گا۔

انھوں نے تجویز کیا کہ اس ہدف کو 5000 ارب روپے رکھا جائے اور اس سلسلے میں آئی ایم ایف سے نئی شرائط طے کی جائیں۔

ڈاکٹر اشفاق کا مزید کہنا ہے کہ دنیا میں تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کا ایک بڑا ذریعہ فرنس آئل ہے۔ اس لیے فرنس آئل کی قیمت میں کمی کا فائدہ صارفین کو منتقل کیا جائے جبکہ دوسری جانب آئی ایم ایف کی شرائط میں بجلی کے نرخوں میں اضافہ شامل ہے۔ اسی طرح عالمی منڈی میں ایل این جی کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ بھی صارفین کو منتقل ہونا چاہیے جب کہ آئی ایم ایف کی شرائط اضافے کا مطالبہ کرتی ہیں۔

ڈاکٹر اشفاق حسن جو حکومت پاکستان میں Debt Office کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہ چکے ہیں کے مطابق پاکستان کے ذمے دو قسم کے بین الاقوامی قرضے واجب الادا ہیں۔

’ایک قرضہ وہ ہے جو پاکستان نے مختلف ملکوں سے لیا ہوا ہے۔ یہ قرضہ 2001 میں ری شیڈول ہو چکا ہے جس کی ادائیگی 2038 تک کرنی ہے۔‘

پاکستان کے ذمے آئی ایم ایف کے واجب الادا قرضوں کو ری شیڈول کرنے سے متعلق ڈاکٹر اشفاق حسن کا کہنا ہے کہ یہ ملٹی لیٹرل لون کٹیگری میں آتے ہیں جن میں عالمی بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک کے قرضے بھی شامل ہیں اور یہ ری شیڈول نہیں ہو سکتے۔

پائیدار ترقی کی پالیسی کے ادارے ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد قیوم سلہری کا کہنا ہے ’ملک کورونا وائرس کی پیدا کردہ صورت حال کی وجہ سے کساد بازاری کا شکار ہونے جا رہا ہے اس صورت میں آئی ایم ایف کے ساتھ توسیعی فنڈ سہولت کی شرائط پر پورا اترنا ممکن نہیں۔‘

عابد قیوم سلہری نے مزید بتایا ’ان شرائط کے تحت محصولات کا ہدف اور بجلی و گیس کی قیمتیں بڑھانے کی شرائط پوری نہیں کی جا سکتیں جس کے لیے آئی ایم ایف سے نئی شرائط کے لیے حکومت کو مذاکرات کرنے چاہیے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.