80

کورونا: وہ وائرس جس نے بالی وڈ کی بھی کمر توڑ دی

گزشتہ برس یعنی 2019 ایک ایسا برس تھا جس میں بالی وڈ میں غیر معمولی کمائی ہوئی۔ یہ پہلا موقع تھا جب ایک برس میں ریکارڈ 17 فلمیں 100 کروڑ کے کلب میں شامل ہوئیں لیکن سال کے آخرمیں سامنے آنے والے کورونا وائرس سے انڈسٹری کے بھاری نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔

اس کا برس کا آغاز ہوا تو بالی وڈ کا جوش دیکھنے لائق تھا۔ امید کی جا رہی تھی کہ ہندی سنیما میں اس برس گزشتہ برس سے بھی زیادہ کمائی ہوگی۔ لیکن اس برس کے پہلے حصے میں ہی بالی وڈ اندھیروں میں نظر آنے لگا ہے۔

اصل میں سال 2020 کے پہلے دو ماہ میں کل 40 فلمیں ریلیز ہو چکی ہیں لیکن ان میں سے صرف ایک ہی فلم ‘تاناجی’ 280 کروڑ کا کاروبار کر کے ہٹ فلم ہونے کا تمغہ حاصل کر سکی ہے باقی سبھی فلمیں فلاپ ہو گئیں۔

فلموں کے اس سرد بازار میں بالی وڈ امید کر رہا تھا کہ مارچ 2020 میں باکس آفس پر کامیابی ضرور ملے گی لیکن گذشتہ چند دنوں میں عالمی وبا کے روپ میں سامنے آنے والے کورونا وائرس نے انڈیا میں بھی پھیلنا شروع کردیا ۔

بالی وڈ میں کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ وائرس اتنی مشکلیں پیدا کردے گا اور اس کا اتنا بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔

کورونا وائرس کے خوف میں پہلے ہی لوگوں نے تھیٹر جانا کم کر دیا تھا۔ لیکن اب فلموں کی شوٹنگ بھی بند کر دی گئی ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں سنیما گھر بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

ابھی تک جموں، کشمیر، کیرالہ، دلی، کرناٹکہ، اوڑیسہ، بہار، ہریانہ، پنجاب، آسام، تیلنگانا، راجستھان، گجرات، اروناچل پردیش اور اتر پردیش کے ساتھ ممبئی اور پونے میں بھی تھئیٹرز بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ مکنہ طور پر جلد ہی مزید شہروں میں بھی یہ قدم اٹھایا جائے گا۔

ملک سے باہر کاروبار
کورونا وائرس جس طرح دنیا کے دیگر بڑے فلمی بازاروں مثال کے طور پر چین کو متاثر کرتا ہوا امریکہ تک پہنچ گیا، اس سے لگ رہا تھا کہ یہ وائرس ہالی وڈ کے ساتھ ساتھ چین کی کمر بھی بری طرح توڑ دے گا۔

چین گزشتہ چند برسوں میں ہالی وڈ کے ساتھ بالی وڈ فلموں کے سب سے بڑے بازار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں چین میں انڈین فلموں کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔

عامر خان کی فلم ‘دنگل’ نے انڈیا میں تقریباً 387 کروڑ روپے کا کاروبار کیا۔ جبکہ اوورسیز بازار میں صرف چین میں ہی دنگل نے تقریباً 1200 کروڑ روپے کا کاروبار کر کے سب کو حیران کر دیا .

اسی طرح عامر خان کی ‘سیکریٹ سُوپر سٹار’ جو ملک میں 80 کروڑ روپے کا کاروبار با مشکل کر سکی تھی، اس فلم نے چین میں صرف چار دنوں میں 190 کروڑ روپے کا کلیکشن درج کیا۔ بعد میں اس فلم نے چین میں کل 760 کروڑ روپے کما کر کے کامیابی کی ایک نئی مثال قائم کی۔

‘سیکریٹ سُوپر سٹار’، ‘دنگل’ اور ‘بجرنگی بھائی جان’ جیسی فلموں نے انڈیا سے کہیں زیادہ چین میں کمایا۔ اس دور کو انڈین فلموں کے لیے چین میں ایک نیا اور سنہرا دور کہا جانے لگا۔

چین میں ستر ہزار فلم سکرینز
انڈین فلموں کو چین میں غیر معمولی کامیابی ملنے سے بہت فائدہ ہوا ہے۔

دوسری جانب اس کامیابی سے چین کا بھی فائدہ ہوا۔ چین میں انڈین فلموں کی مقبولیت کے باعث وہاں نئے سنیما گھر کھلنے لگے سنہ 2011 میں چین میں کل 9000 سکرینز تھیں اب یہ تعداد 70 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے یہ سکرینز بند پڑی ہیں۔

اس سب سے ایک جانب چین کے فلم بازار میں معیشت کو دھچکا پہنچا ہے وہیں ہالی وڈ اور بالی وڈ کے بازار پر بھی اس کا بہت برا اثر پڑا ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث امریکہ، اٹلی، جاپان، فرانس اور کوریا جیسے متعدد دیگر ممالک میں بھی تھیئیٹرز میں تالے لگ گئے ہیں۔ یہ عالمی سنیما کے لیے ایک بے حد مشکل وقت ثابت ہو رہا ہے۔

ممبئی کے فلمی کاروبار کے معروف جریدے ‘کمپلیٹ سنیما’ کے ایڈیٹر اتُل موہن نے بتایا کہ ‘دلی اور ممبئی جیسے بڑے فلم مارکیٹ کے سنیما گھر بند ہونے سے ہی فلم انڈسٹری کو اوسطاً 75 سے 90 کروڑ روپے کا نقصان ہر ہفتے ہو گا۔ جبکہ سنیما گھروں سے منسلک ریستورانوں اور پارکنگ وغیرہ کا نقصان الگ ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے حالات میں متعدد افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔ لیکن امید کرتے ہیں کہ حالات جلد قابو میں ہوں گے۔

کورونا وائرس کا پہلا شکار فلم شکار ‘انگریزی میڈیم’ تھی’۔

کے پی ایم جی میڈیا اینڈ انٹرٹینمینٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا میں تقریباً 9600 سکرینز ہیں جن میں سے 2950 ملٹی پلیکس ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ سنیما گھر بند ہنے کی وجہ سے ابھی تک انڈیا میں 70 فیصد سکرینز متاثر ہو چکی ہیں۔ اس سے سب سے بڑا نقصان دو فلموں ‘انگریزی میڈیم’ اور ‘باغی 3’ کو ہوا ہے۔

تھیئٹر بند ہونے سے عرفان خان، کرینہ کپور، اور رادھیکا مدان کی فلم ‘ انگریزی میڈیم’ تو کورونا کا پہلا بڑا شکار بن گئی۔ یہ فلم ابتدائی تین دنوں میں صرف 20 کروڑ روپئے کی ہی کمائی کرسکی۔

ادھر پیر 16 مارچ کو تو ‘ انگریزی میڈیم’ صرف 45 لاکھ روپئے کا ہی بزنس کرپائی۔ اس کے بعد اب یہ فلم 12 کروڑ روپئے کا بھی بزنس کرسکے تو بہت ہوگا۔ جب کہ اس فلم کا 40 کروڑ روپئے بتایا جارہا ہے۔

دوسری جانب ٹائیگر شروف اور شردھا کپور کی ‘ باغی 3’ اب بڑی مشکل سے 97 کروڑ کے بزنس تک تو پہنچ گئی ہے کیونکہ یہ فلم سنمیا گھروں کے بند ہونے کے سلسلے سے چند دنوں پہلے 6 مارچ کو ہی ریلیز ہوگئی تھی۔ لیکن اب اس فلم کو 100 کروڑ کی کمائی کے حدف کے لیے بہت جدو جہد کرنی پڑی گے۔ جبکہ ایسا اندازہ تھا کہ یہ فلم 200 کروڑ کا بزنس کرے گی۔

صرف دلی کی ہی بات کریں تو وہاں سو سکرینز ہیں۔ کسی بھی فلم کے کل کاروبار کا دس سے پندرہ فیصد اکیلے دلی سے حاصل کیا جاتا ہے۔ دلی کے ڈِی لائٹ سنیما کے منتظم راج کمار ملہوترا کے مطابق ‘دلی کے تھیئیٹرز اگر صرف 31 مارچ تک ہی بند رہتے ہیں تو تب تک یہاں تقریبا 100 کروڑروپئے کا نقصان تو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے”۔

فلم کی ریلیز کی تاریخ بدلنے سے فلم انڈسٹری متاثر ہوگی

سنیما ہال بند ہونے کی وجہ سے بعض فلم سازوں نے اپنی فلموں کی ریلیز مارچ کے بجائے آئندہ ماہ میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان فلموں میں یش راج فلم کی ‘ سندیپ اور پنکی فرار’ جو 20 مارچ کو ریلیز ہونے والی تھی اس کے ساتھ ساتھ 24 مارچ کو ریلیز کے لیے تیار اکشے کمار، قطرینہ کیف کی فلم ‘ سوریے ونشی’ کو ملتوی کردیا ہے۔

اس کے بعد 10 اپریل کو ریلیز کے لیے تیار فلم ‘ 83’ کی ریلیز ملتوی ہونے کے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ فلم سنہ 1983 میں انڈیا کی جانب سے فاتح ورلڈ کپ اور اس وقت ٹیم کے کپتان کپل دیو کی زندگی پر مبنی ہے۔ اس فلم میں رنبیر سنگھ کپل دیو کا کردار ادا کررہے ہیں۔

اسی کے ساتھ اپریل کے مہینے میں ہی ریلیز کے لیے تیار امیتابھ بچن اور ایوشمان کھرانا کی فلم ‘ گلابو ستابو’، امیتابھ بچن کی ایک اور فلم ‘ لوڈو’ اور جھانوی کپور کی ‘ گنجن سکسینا- دا کال گرل’ کی ریلیز پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

ادھر عید کے موقع پر 22 مئی کو ریلیز کے لیے طے سلمان خان کی ‘ رادھے’ فلم کی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد شوٹنگ ملتوی ہونے کے بعد اس کا عید پر ریلیز ہونا مشکل لگ رہا ہے۔

ان بھارتی فلموں کے ساتھ ہالی وڈ کی جیمس بانڈ سیریز کی بڑی فلم ‘ نو ٹائم ٹو ڈائے’ کی اپریل میں عالمی سطح پر طے شدہ ریلیز کو فی الحال ملتوی کردیا گیا ہے۔ لیکن بڑی فلموں کی تاریخ آگے بڑھانے سے ان فلموں پر برا اثر پڑتا ہے جو پہلے سی ہی ان تاریخوں میں ریلیز ہونا طے تھیں جن میں اب بڑی فلموں کو ریلیز کیا جائے گا۔

اور اگر یہ فلمیں بڑی فلموں کے ساتھ ریلیز ہوتی ہیں تو ان کا مقابلہ بڑی فلموں سے ہوتا ہے اور اس سے ان کا کاروبار متاثرہ ہوتا ہے۔ یوں بھی فلموں کی ریلیز کی تاریخ بدلنے سے اس فلم کا بحٹ بھی بڑھ جاتا ہے۔ فلم پرڈوسر کو فلم پر خرچ آنے والی رقم پر سود زیادہ دینے کے علاوہ اس کی تشہیر پر بھی زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔

ملک میں سنیما گھروں کے بند ہونے سے انڈیا کی تھیئٹرس کی بڑی سب سے بڑی کمپنی یا چین ‘پی وی آر’ کو بھی ہوگا۔

پی وی آر کے پاس ملک کے 22 اضلاع میں 850 سکرینز ہیں جن میں صرف دلی میں ان کی 68 سکرینو ہیں۔ پی وی آر کمپنی کے سی ای او گوتم دتا بتاتے ہیں، ’فلموں کی ریلیز معطل ہونے اور سنیما ہال بند ہونے سے فلمی صنعت کو بہت بڑا نقصان ہوگا لیکن اس نقصان کا فی الوقت اندازہ لگانا مشکل ہے۔ سنیما گھروں کے بند ہونے سے ہونے والے نقصان کا افسوس تو لیکن فی الحال ہمیں ایک بہت بڑی لڑائی کا سامنا ہے۔ کورونا وائرس سے بچاؤ اور لوگوں کی حفاظت بھی بہت اہم ہے‘۔

دوسری جانب ریلائنس اینٹرٹنمنٹ کی ‘ سوریے ونشی’ اور ‘ 83’ کی ریلیز ہونا مشکل اب لگ رہا ہے۔ اس بارے میں کمپنی کے سی ای او شباشیش سرکار کا کہنا ہے ، ’ابھی فلم 83 کی ریلیز کے بارے میں ہم نے کیوں نیا اعلان نہیں کیا ہے۔ ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر حالات جلد ٹھیک ہوجاتے ہیں تو فلم اپنی طے شد تاریخ 10 اپریل کو ہی ریلیز ہوسکتی ہے۔ اگر نہیں تو فلم کی ریلیز کو ملتوی کرنا پڑے گا‘۔

فلموں اور سیریلز کی شوٹنگ ملتوی
کورونا وائرس کے بارے میں جس طرح کے اعدادوشمار سامنے آرہے ہیں اس کے مد نظر سبھی فلموں اور سیریل کی شوٹنگ مکمل طور پر روک دی گئی ہے۔

فلم سازوں کی تنظیم ‘ انڈین موشن پکچرز پرڈیوسرز اسوسی ایشن’ کے صدر ٹی پی اگروال بتاتے ہیں ،’اس میں کوئی شک نہیں کہ کورونا وائرس کی وجہ سے فلم انڈسٹری کو بہت بڑے نقصان کا سامنا ہے‘۔
’ تھیئٹر کے بند ہونے اور فلموں کی ریلیز ملتوی ہونے سے کاروبار کو تو بہت بڑا نقصان ہو ہی رہا ہے جس کا خمیازہ جلد ممکن نہیں۔ ساتھ ہی فلم انڈسٹری سے منسلک تقریبا 5 لاکھ ملازمین کی روزی روٹی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ پھر بھی میرا یہی خیال ہے لوگوں کا تحفظ اولین ترجیج ہے‘۔

اگروال کہتے ہیں ‘کورونا وائرس کی وجہ سے فلم انڈسٹری سے منسلک سبھی تنظیموں نے 19 مارچ سے 31 مارچ تک سبھی فلموں اور سیریلز کی عکس بند پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ کیونکہ اداکار ماکس لگا کر شوٹنگ نہیں کرسکتے ہیں۔ اس لیے ان کی حفاظت تبھی ممکن ہے جب شوٹنگ کو مکمل طور پر روک دیا جائے۔ بس اب حدف یہی ہے کہ نقصان کو برداشت کرتے ہوئے سب کی صحت سلامت رہے‘۔

بیشتر ریاستوں میں سنیما گھر بند ہونے اور اب فلموں اور سیریل اور ویب سیریز کی عکس بندی روکنے کے بعد فلم انڈسٹری کے ساتھ ساتھ ٹی وی انڈسٹری بھی نقصان کی راہ پر ہے۔ ٹی وی پر سیریل کے نئی قسطیں نشر نہیں ہونگی اور اب ان کی جگہ پرانی قسطیں نشر کرنا ٹی وی چینلز کی مجبوری بن گئی ہے۔ ایسے میں پریشانی یہ ہے کہ ٹی وی چینلز کو نئے اشتہارات ملنا کم ہوجائے گا جس سے چینلز کو بڑا نقصان برداشت کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.