111

تعلیمی بورڈ بنوں میں بے قاعدگیاں کا انکشاف

تعلیمی بورڈ بنوں میں بے قاعدگیاں ، پسند نا پسند کی امتحانی ڈیوٹیاں ،اساتذہ کی تعیناتی اور سال کے اختتام پر مائیگریشن کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے ذرائع کے مطابق گریڈ 19کے پرنسپل کو چیئرمین کے عہدے پر تعینات کیا امتحانات میں سنگین حامیوں پر انتظامی عہدوں کے مالک ذمہ داروں کے خلاف انکوائریاں چل رہی ہیں امتحانی ڈیوٹیاں من پسند اُمیدواروں میں تقسیم کی جاتی ہیں اور مارکنگ کیلئے من پسند اساتذہ کا انتخاب کیا جا تا ہے، تعلیمی بورڈ بنوں نے تمام تعلیمی اداروں کو تحریری ہدایات جا ری کی تھیں کہ سالانہ امتحان سال 2020 میٹرک کیلئے 33 فیصد سکول کے اساتذہ کے نام نگران عملے کی تعیناتی کیلئے بھیجیں بنوں بورڈ نے اپنی نوٹیفیکیشن پر عمل نہیں کیا اور تعلیمی اداروں کی لسٹیں پرانے طریقہ پر استعمال کرکے نگران عملہ تعینات کیاذرائع نے بتایا کہ تعلیمی سال کے اختتام پر میٹرک کے طلبہ سیکرٹری بورڈ کی نگرانی میں د ھڑ ا دھڑ مائیگریشن کرتے ہیںبنوں کے تعلیمی اداروں نے مڈل امتحان کے داخلہ فیس کی مد میں لاکھوں روپے بورڈ کو جمع کئے گورنمنٹ سکولوں نے اپنی امتحانی پالیسی میں تبدیلی کر لی ہے اور مڈل امتحان کو سکول کے زیر انتظام حوالے کیا اب تعلیمی ادارے بقایاجات کی واپسی کیلئے چیخ رہی ہے لیکن بورڈ اُن کو پیسے واپس نہیں کر رہی ، جو نہ صرف تعلیمی اداروں کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے بلکہ یہ معصوم طلبہ کے حق پر بھی ڈاکہ ڈالا گیا ہے اسی طرح سالانہ اور ضمنی امتحانات کیلئے تعلیمی اداروں سے پیشگی اجازت نہیں لیتی شہر کے تعلیمی اداروں کو اس ضمن میں مجمعے میں ڈالا گیا ہے بورڈ کے امتحانات کیلئے جاری کردہ رول نمبر سلیپ میں بے غوری کے باعث اکثر تصاویر متباد ل اُمیدواروں کی پرنٹ ہو تی ہے اہلیان بنوں اور طلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ بنوں بورڈ کی ان بے قاعدگیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے انکوائری کمیٹی تشکیل دیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.