117

ٹام اینڈ جیری: دنیا بھر میں سب سے مقبول کارٹون کو 80 سال ہو گئے

ایک بلا اپنے گھر میں موجود چوہے سے تنگ آ کر اُسے پنیر سے لدے ہوئے چوہے دان میں پکڑنے کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ چالاک چوہا بڑے آرام سے پنیر جال سے نکالتا ہے اور پیٹ بھر کر اپنی راہ لیتا ہے۔

شاید آپ کو پتا ہو گا کہ آگے کیا ہوتا ہے۔ کہانی ہمیشہ ایک ہی طرح سے اختتام پذیر ہوتی ہے، بلا درد سے چلا رہا ہوتا ہے اور اس کا ایک اور منصوبہ ناکام ہو جاتا ہے۔ کہانی کے بارے میں تو شاید آپ کو علم ہو لیکن اس کارٹون کے پیچھے کی کہانی کا شاید آپ کو پتا نہ ہو۔

اکیڈمی ایوارڈ جیتنے سے لے کر سرد جنگ کے دوران خفیہ پروڈکشن تک، دنیا کے سب سے مشہور کارٹونز میں سے ایک، ٹام اینڈ جیری اس ہفتے 80 سال کے ہو گئے ہیں۔

تخلیق کاروں کو ٹام اینڈ جیری کی جوڑی بنانے کا خیال مایوسی کے دور میں آیا۔ ایم جی ایم کے اینیمیشن ڈیپارٹمنٹ میں بِل حانا اور جو باربرا نے ’پورکی پِگ‘ اور ’مِکی ماؤس‘ جیسے کارٹون بنانے والے سٹوڈیو کی طرح کامیابی حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کی۔

ایک جیسے کرداروں سے اکتاہٹ کے بعد بل اور جو نے، جن دونوں کی عمر اس وقت 30 سے کم تھی، نئے کرداروں کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ باربرا نے کہا کہ انہیں بلی اور چوہے کے جھگڑے اور ایک دوسرے کا تعاقب کرتے کارٹون کا سادہ سا تصور پسند آیا تھا، حالانکہ اس سے پہلے بھی ایسا ان گنت بار ہو چکا تھا۔

ان کا پہلا کارٹون ’پُس گیٹس دی بوٹس‘ 1940 میں ریلیز ہوا اور بہت کامیاب رہا۔ تاہم اینیمیٹرز کو کریڈِٹ نہیں دیا گیا۔

مینجرز نے ابتدا میں ان سے کہا کہ وہ اپنے تمام وسائل ایک ہی جگہ پر نہ لگائیں۔ لیکن ان کے ذہن اس وقت تبدیل ہوئے جب ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی ایک بااثر صنعتکار کی طرف سے ایک خط موصول ہوا جس میں یہ پوچھا گیا کہ وہ ’چوہے بلی کے اس بہترین کارٹون کا اگلا حصہ کب دیکھ سکیں گی‘۔

’جاسپر اور جِنکس‘ کے نام سے شروع ہونے والا یہ کارٹون ’ٹام اینڈ جیری‘ بن گیا۔

باربرا کے مطابق کرداروں کے نہ بولنے کے بارے میں ویسے کوئی گفتگو نہیں ہوئی تھی، لیکن چارلی چیپلن کی خاموش فلموں کے زیر اثر پروان چڑھنے کے بعد تخلیق کاروں کو معلوم تھا کہ یہ کارٹون مکالمے کے بغیر بھی مضاحیہ ہو سکتے ہیں۔ سکاٹ بریڈلے کے تیار کردہ میوزک نے ایکشن میں جان ڈال دی، اور ٹام کی ٹریڈ مارک انسانوں کی طرح چیخنے کی آواز خود حانا نے ریکارڈ کروائی تھی۔

اگلی دو دہائیوں کا زیادہ تر وقت اسی کام میں صرف ہوا۔ حانا اور باربیرا نے ان کارٹونز کی 100 سے زیادہ شارٹس کی پروڈکشن کی نگرانی کی۔ ہر ایک قسط کو بنانے میں ہفتوں کا وقت لگا اور اس کی لاگت 50،000 ڈالزر تک آئی، لہذا ہر سال صرف چند قسطیں ہی تیار کی جا سکتی تھیں۔

اس دور میں بنائے گئے ان ٹام اینڈ جیری کارٹونز کو عمومی طور پر دنیا کے بہترین کارٹونز سمجھا جاتا ہے۔ ہاتھوں سے بنائی گئی متحرک تصاویر اور تفصیلی پس منظر کی مدد سے ان کارٹونز نے سات اکیڈمی ایوارڈز جیتے اور کئی ہالی ووڈ فیچر فلموں میں بھی اپنی جگہ بنائی۔

جو باربیرا کا انتقال 2006 میں۔ ان کی موت سے ایک سال قبل باربیرا کو آخری بار ٹام اینڈ جیری کی قسط پر کریڈٹ دیا گیا تھا، جو ان کے سابق ساتھی کے بغیر ان کی پہلی قسط تھی
جیری بیک کارٹونز پر کام کرنے والے ایک تاریخ دان ہیں اور اس صنعت میں مختلف کرداروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’میں شرط لگاتا ہوں کہ جب آپ نے انھیں بچپن میں دیکھا تھا، یا یہاں تک کہ اگر آپ انھیں اب بھی دیکھیں گے تو آپ یقین سے یہ نہیں طے کر پائیں گے کہ وہ کب بنے تھے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اس میں کچھ بات اینی میشن کی بھی ہے۔ یہ ہمیشہ رہنے والی ہے، اور کبھی ماند نہیں پڑیں گی۔‘ ان کا مزید کہنا ہے کہ ’نقش نگاری کا اپنا مقام ہے، جیسے آپ کوئی پینٹگ دیکھنے کے لیے جائیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں بنی ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ آج بھی آپ سے باتیں کرتی ہے۔

’ان کارٹونز کی بھی یہی بات ہے۔ ہم نے وقت کے ساتھ سیکھا ہے کہ یہ واقعی ایک عظیم فن ہے۔ ڈسپوزایبل یا پھینک دینے والی تفریح ​​نہیں۔‘

جب 1950 کی دہائی کے وسط میں پروڈیوسر فریڈ کوئمبی ریٹائر ہوئے تو حانا اور باربیرا نے ایم جی ایم کے کارٹون ڈپارٹمنٹ کو سنبھال لیا۔ لیکن ساتھ ہی بجٹ میں کتوٹی ہونے لگی۔ پروڈکشن مالکان ٹی وی کی بڑھتی مقبولیت سے خوفزدہ تھے اور انھوں نے محسوس کیا کہ وہ اس کارٹون کی پرانی قسطوں کو دوبارہ جاری کر کے بھی اتنے ہی ہیسے کما سکتے ہیں جتنے وہ نئی اقساط تیار کر کے کما سکتے ہیں۔

جب سنہ 1951 میں ان کا ڈیپارٹمنٹ بند ہو گیا تو حانا اور باربیرا نے اپنی خود کی ایک پروڈکشن کمپنی کا آغاز کیا۔

مگر اس کے چند برس کے بعد ہی ایم جی ایم پروڈکشن کمپنی نے ٹام اینڈ جیری کارٹون کو اس کے اصل تخلیق کاروں کے بنا دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ کیا۔ سنہ 1967 میں انھوں نے پیسے بچانے کی غرض سے پراگ میں ایک سٹوڈیو کرائے پر لیا۔ شکاگو سے تعلق رکھنے والے اینیمیٹر جین ڈیچ کو اس کارٹون کو دوبارہ بنانے کا ذمہ دیا گیا لیکن کم بجٹ، ناتجربہ کار ٹیم اور اصل تخلیق کاروں کے بنا انھیں بہت مشکل پیش آئی۔

ان کے سٹوڈیو نے خفیہ طور پر پوپائے سمیت دیگر کارٹونز کی اقساط بھی بنائیں۔ ناظرین کہیں ان کارٹونز کو کمیونزم سے نہ جوڑ دیں، اس وجہ سے کریڈٹس میں چیک ناموں کو امریکی ناموں سے تبدیل کر دیا گیا تھا۔

ڈیچ نے بعد میں چیک ریڈیو کو بتایا کہ ’سرد جنگ کے دوران بیرونی میڈیا پر سخت پابندی کے باعث پراگ کے سٹوڈیو میں موجود اینیمیٹرز نے کبھی ٹام اینڈ جیری کارٹون نہیں دیکھے تھے۔‘

وہ جانتے تھے کہ بطور اس پہلے شخص کے جو اس کلاسک کارٹون کے سلسلے کو دوبارہ بنا رہا تھا، وہ شائقین کی طرف سے ’سخت تنقید کی زد میں ہوں گے‘۔ ان کے تیار کردہ 13 کارٹونز کو بدترین قرار دیا گیا۔ انٹرویوز میں ڈیچ نے انکشاف کیا کہ انھیں اس پر جان سے مارنے کی دھمکی بھی ملی تھی۔

ان کے بعد یہ کام چک جونز کو سونپا گیا، جو وارنر برادرز میں ’لونی ٹونز‘ پر اپنے کام کے لیے مشہور تھے۔ ان کے دور میں ٹام کی بھنویں مزید موٹی ہو گئیں اور اس کا چہرہ مزید مڑا ہوا بن گیا، کچھ کچھ ڈاکٹر سیؤس کے دی گرنچ کی طرح، جس کو جونز نے پہلے تخلیق کیا تھا۔

72 برس کے مارک کاسلر ان متعدد لوگوں میں سے ایک ہیں جن کے لیے ٹام اینڈ جیری ان کے بچپن کا حصہ تھے۔ جو سینٹ لوئی میں اپنے مقامی سنیما میں بار بار اس کارٹون کی قسطوں کو دیکھنے اپنے والد کے ساتھ جاتے تھے۔ انھوں نے جزوی طور پر کرداروں سے متاثر ہو کر اپنے کارٹون بنانے شروع کر دیے اور خود ایک اینیمیٹر کے پیشے سے وابستہ ہونے کی راہ پر گامزن ہو گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ان کا زیادہ تر انحصار اس پر تھا کہ وہ کیسے دکھتے ہیں، مناسب وقت پر موسیقی کا استعمال اور کام کرنے کا انداز اور ہر چیز کا آپس میں تعلق قائم ہونا۔ یہ بہت ہی اچھا فارمولا تھا، جس طرح ہر چیز آپس میں جڑی ہوئی ہے۔

’اور جب وہ اسے توڑنے اور کسی اور ٹیم اور ڈیزائنر کے ساتھ دوبارہ جوڑنے اور مضاحیہ بنانے کی کوشش کرتے تو مجھے وہ سب جعلی لگتا ہے۔‘

وہ خود تو ٹام اور جیری پر کام نہ کر سکے، لیکن انھیں وہ لمحہ، جوش اور خوشی یاد ہے جب حانا اور باربیرا ان کے اینیمیشن سکول آئے۔

ایم جی ایم میں ٹیلی ویژن کو ’برا‘ سمجھا جاتا تھا، لیکن اپنی کمپنی شروع کرنے کے بعد حانا اور باربیرا اس پلیٹ فارم کی طرف راغب ہوئے۔ لمبی اقساط اور چھوٹے بجٹ کے ساتھ، انھوں نے اپنے اینیمیشن کو ڈھال لیا اور وقت اور پیسہ بچانے کے لیے ترکیبیں استعمال کیں۔

ان کے کارٹونز کا کئی دہائیوں تک بچوں کے ٹیلی ویژن پر غلبہ رہا۔ انھیں پہلی بار 1960 کی دہائی کے اوائل میں ہکل بیری ہاؤنڈ اور یوگی بیئر جیسے کرداروں سے کامیابی ملی اور جلد ہی فلنٹ سٹونز، ٹاپ کیٹ اور سکوبی ڈو جیسی مزید کامیابیاں بھی ملیں۔

1970 کی دہائی میں یہ جوڑا ٹام اینڈ جیری کی طرف دوبارہ لوٹا۔ تب تک، ابتدائی اقساط میں سے بہت سی اقساط نئے قوائد و ضوابط کے تحت ’بہت متشدد‘ سمجھی جانی لگی تھیں۔ نئی اقساط میں اس جوڑی کو کبھی وہ کامیابی نہیں مل سکی جو ابتدائی اقساط کو ملی تھی۔

اس وقت کے دیگر کارٹونز کی طرح اس شو پر نسلی تعاصب کے حوالے سے بھی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ خاص طور پر ’میمی ٹو شوز‘ کے کردار پر، جو ایک سیاہ فام گھریلو ملازمہ ہے، جس کی شکل آپ کبھی نہیں دیکھتے، اور جس کے لہجے سے واضح ہے کہ اس کا تعلق امریکہ کی جنوبی ریاستوں سے ہے۔ اس کردار کو نسلی بنیادوں پر تضحیک آمیز قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس سیریز میں سیاہ رنگت کے چہروں کو استعمال کرتے ہوئے ایشیائی اور سیاہ فام امریکیوں پر لطیفے بھی بنائے گئے تھے۔

جب 1960 کی دہائی میں امریکی ٹیلی ویژن پر اصل اقساط نشر کی گئیں تو ’میمی‘ کے کچھ مناظر کو تبدیل کیا گیا تھا اور اس کی جگہ جونز کی ٹیم کے تیار کردہ نئے کرداروں کو شامل کیا گیا تھا۔

آج کل جب یہ شوز آن لائن سٹریمِنگ پلیٹفارمز پر نشر کیے جاتے ہیں تو اس طرح کے ہتک آمیز مناظر یا اقساط کو کاٹ دیا جاتا ہے۔ سنہ 2014 میں اس طرف تب بھی توجہ مبذول کروائی گئی جب ایمیزون پرائم انسٹنٹ ویڈیو نے سیریز کے لیے ’نسلی تعصب‘ کی وارننگ شامل کی تھی۔

ٹام اینڈ جیری اپنے بھونڈے تشدد آمیز مزاح کے باوجود آج بھی پوری دنیا میں انتہائی مقبول ہے۔ یہ بچوں کی ٹی وی پر جاپان سے لے کر پاکستان تک ہر جگہ دکھایا جاتا ہے اور اب ان پر بنی ایک نئی موبائل فون گیم کے چین میں 100 ملین سے زیادہ صارفین بھی موجود ہیں۔

ٹام اینڈ جیری شو حیران کن حد تک اب بھی شہ شرخیوں میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔ سنہ 2016 میں مصر کے ایک اعلیٰ افسر نے اس کارٹون پر الزام لگایا تھا کہ یہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتے تشدد کی ایک وجہ ہے جبکہ ایران کے روحانی پیشوا نے کم از کم دو مرتبہ ایران اور امریکہ کے تعلقات کو ٹام اینڈ جیری سے تشبیہ دی ہے۔

ان گذشتہ 80 برسوں میں یہ بلی اور چوہا ’بچپن کے کرداروں سے لے کر سنہ 1992 میں بنی ایک میوزیکل فلم تک ہر چیز میں نمودار ہوئے ہیں جہاں انھیں گاتے اور بولتے دکھایا گیا تھا۔

بل حانا کا انتقال سنہ 2001 میں ہوا اور جو باربیرا کا انتقال 2006 میں۔ ان کی موت سے ایک سال قبل باربیرا کو آخری بار ٹام اینڈ جیری کی قسط پر کریڈٹ دیا گیا تھا، جو ان کے سابق ساتھی کے بغیر ان کی پہلی قسط تھی۔

انھوں نے ایک طویل عرصہ ایک ساتھ کام کرنے کے بارے میں کہا کہ ’ہم ایک دوسرے کو مکمل طور پر سمجھتے تھے، اور ہم ایک دوسرے کے کام کا بہت احترام کرتے تھے۔‘

وارنر برادرز، جو اب ٹام اینڈ جیری کے حقوق کے مالک ہیں، رواں برس کرسمس سے عین قبل ایک نئی لائیو ایکشن فلم ریلیز کریں گے۔ اس منصوبے کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں، سوائے اس کے کہ اداکار کلوئی گریس موریٹز اور کین جیونگ نے یہ فلم سائن کی ہے۔

جیری بیک کے لیے، ٹام اینڈ جیری کی دہائیوں سے برقرار رہنے والی مقبولیت کی وجہ یہ بھی ہے کہ آپ دنیا میں کہیں بھی ہوں ٹام اور جیری کے کرداروں کے ساتھ آپ کا ایک رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔

’مجھے لگتا ہے کہ زیادہ تر لوگ چھوٹے جیری میں خود کو دیکھتے ہیں کیونکہ ہماری زندگیوں میں ہمیشہ کوئی ظالم ضرور ہوتا ہے۔

’ہمیشہ کوئی ہوتا ہے، ہمارا مالک، ہمارا مالک مکان، سیاست یا جو کچھ بھی ہو۔ ہم صرف اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کوئی ہمیں پریشان کرنا چاہتا ہے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.