126

پاکستان میں چینی کا بحران: کیا اس کی اصل وجہ ذخیرہ اندوزی ہے؟

پاکستان میں ان دنوں اشیائے خُورد و نوش یا تو بحران کا شکار ہیں یا پھر بحران سے باہر لائی جا رہی ہیں۔ حال ہی میں آٹے کا بحران تھا جو کہ حکومت کے مطابق ختم ہو چکا ہے تاہم ساتھ ہی چینی مہنگی فروخت ہونے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

اس پر قابو پانے کی غرض سے وفاقی حکومت نے ایک جانب تو یوٹیلیٹی سٹورز کو سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے تو دوسری طرف صوبہ پنجاب کی حکومت نے ان افراد کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے جو مبینہ طور پر چینی کی ذخیرہ اندوزی کر رہے تھے۔

لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے گزشتہ تین روز میں لاہور کے مخلتف علاقوں سے آٹھ ہزار سے زائد چینی کے تھیلے قبضے میں لیے ہیں جن کا مجموعی وزن چار لاکھ کلو سے زیادہ بنتا ہے۔

ڈپٹی کمشنر لاہور دانش افضل نے بی بی سی کو بتایا ’یہ چینی غیر قانونی طر پر ذخیرہ کی گئی تھی اور اس میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔‘

اس کارروائی کی زد میں چار ایسے بیوپاری بھی آئے جنھیں 3 ایم پی او کے قانون کے تحت نظر بند کیا گیا ہے۔

ایم پی او یعنی پبلک آرڈر برقرار رکھنے کے قانون کا استعمال عموماً ان افراد کے خلاف کیا جاتا ہے جن سے نقصِ امن کا خدشہ ہو۔

کاروباری افراد جو چینی ذخیرہ کرتے ہیں ان کا مؤقف ہے کہ چینی کے کاروبار کے لیے چینی ذخیرہ کرنا ناگزیر ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کتنی چینی رکھنا ذخیرہ اندوزی کے زمرے میں آتا ہے؟

چینی بحران پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت نے یوٹیلیٹی سٹورز کو سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے
بظاہر سادہ سا عمل نظر آتا ہے تاہم یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ذخیرہ اندوزی سے حکومت اس قدر خوفزدہ کیوں ہوتی ہے کہ ایم پی او کا استعمال کرنا پڑے۔

ذخیرہ اندوزی کیا چینی کا ’اغوا‘ ہے؟
یہ یوں ہی ہے جیسے اچھی بھلی چلتی پھرتی چینی کو اغوا کر لیا جائے اور منہ مانگی قیمت پر رہا کیا جائے۔ اس تناظر میں چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو سمجھنا بھی آسان ہے۔

اگر ملکی ضرورت کے مطابق یا اس سے زیادہ ملوں میں چینی بنتی رہے تو اس کی مانگ نہیں بڑھتی اور قیمت میں استحکام رہتا ہے یا پھر قیمت کم ہو جاتی ہے۔ پھر منظر نامے میں منافع خور داخل ہوتا ہے، چینی کو اغوا کر لیا جاتا ہے اور بڑی تعداد میں اسے ذخیرہ کیا جاتا ہے۔

یوں چینی مارکیٹ تک نہیں پہنچ پاتی تو کھیل منافع خور کے ہاتھ میں آ جاتا ہے۔ چینی کی مانگ بڑھ جاتی ہے اور وہ عام آدمی کی جیب سے اضافی قیمت نکلوانے کے عوض اس چینی کو رہا کرتا ہے۔

’شادی ہال سے 1500 تھیلے برآمد ہوئے‘
ڈپٹی کمشنر لاہور دانش افضل کے مطابق رواں ماہ کی 9 تاریخ کو شروع ہونے والے کریک ڈاؤن میں صرف پہلے ہی روز 50 کلو کے 6410 چینی کے تھیلے قبضے میں لیے گئے۔

یہ چینی محض پانچ مبینہ ذخیرہ اندوزوں سے برآمد ہوئی۔ دانش افضل کے مطابق چینی کو سٹاک کرنے کا مجاز صرف وہی شخص ہے جس کے پاس محکمہ خوارک کی طرف سے جاری کردہ لائسنس موجود ہو۔

’یہ لائسنس ایک ہزار تھیلوں کا ہو سکتا ہے، دو یا تین ہزار کا ہو سکتا ہے۔ ہر سٹاکسٹ کو یہ معلومات ظاہر کرنا ہوتی ہیں۔ اگر وہ لائسنس سے زیادہ چینی رکھ رہا ہے تو یہ ذخیرہ اندوزی میں آتا ہے۔‘

لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے گزشتہ تین روز میں آٹھ ہزار سے زائد چینی کے تھیلے قبضے میں لیے ہیں جن کا مجموعی وزن چار لاکھ کلو سے زیادہ بنتا ہے
اگر کوئی ظاہر نہیں کرتا یا بغیر لائسنس کے بڑی مقدار میں چینی رکھنا ہے تو وہ بھی ذخیرہ اندوزی کے زمرے میں آتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور نے بتایا کہ انھوں نے ’ایک شادی ہال پر چھاپہ مارا تو وہاں سے 1500 چینی کے تھیلے برآمد ہوئے اور رکھنے والے کے پاس لائسنس نہیں تھا۔‘

کیا دو چار تھیلے رکھنا بھی ذخیرہ اندوزی ہے؟
کاروباری افراد کو کچھ نہ کچھ چینی ذخیرہ کرنا ہی ہوتی ہے۔ یہ عموماً کاروبار کے حجم پر منحصر ہوتا ہے یا پھر کچھ لوگ گھروں میں استعمال کے لیے دو یا تین تھیلے ایک ہی بار خرید کر رکھ لیتے ہیں۔

ان کے پاس تو لائسنس نہیں ہوتا تو سوال یہ ہے کہ قانون کے مطابق کیا ان کے یہ تھیلے بھی ذخیرہ اندوزی کے زمرے میں آئیں گے؟

ڈپٹی کمشنر لاہور دانش افضل کے مطابق ایسا نہیں ہے۔

’گو کہ یہ صورتحال کے حساب سے بدلتا رہتا ہے تاہم ذخیرہ اندوزی قرار دیے جانے کے لیے چینی کی تعداد اچھی خاصی ہونا چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کم از کم 100 تھیلوں سے زیادہ ایسی چینی جس کو ذخیرہ کرنے کی کوئی معقول وجہ یا جواز موجود نہ ہو، وہ ذخیرہ اندوزی کے زمرے میں آتا ہے۔‘

چینی کے ’اغوا‘ کی اطلاع حکام کو کون دیتا ہے؟
اسی شادی ہال کی طرح اگر کوئی شخص گھر پر یا کسی خفیہ مقام پر چینی ذخیرہ کرنا چاہے تو اس کے لیے اسے چھپانا کتنا مشکل ہے؟ حکومت کو اس کے بارے میں کیسے معلوم ہوتا ہے؟

کچھ افراد اپنے ماضی کے ریکارڈ کی وجہ سے حکومتی اداروں کی نظر میں ہوتے ہیں۔

جیسا کہ لاہور کے وہ چار افراد جن کو 30 دنوں کے لیے 3 ایم پی او کے تحت نظر بند کیا گیا تاکہ ان کی طرف سے کی جانے والی ممکنہ ذخیرہ اندوزی سے بچا جا سکے۔

تاہم ڈپٹی کمشنر لاہور دانش افضل کے مطابق ضلعی حکومتی کے پاس نگرانی اور جاسوسی کا نظام موجود ہوتا ہے۔ اس کے تحت کارندے انھیں چینی ذخیرہ کرنے والوں کی اطلاع دیتے رہتے ہیں جیسا کہ لاہور کا شادی ہال پکڑا گیا۔

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے ترجمان چوہدری عبدالحمید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہر دکان یا سٹور کا گودام ہوتا ہے جس پر چینی کا ذخیرہ موجود ہوتا ہے۔ ’وہ کوئی چوری چھپے نہیں رکھتے۔‘

’بیوروکریسی کی صوابدید ہے کہ وہ معائنہ کرتے ہیں اور کبھی تو کئی سو تھیلوں والوں کو چھوڑ دیتے ہیں اور کبھی 100، 200 تھیلوں والے کے خلاف کارروائی کر لیتے ہیں۔‘

اور اگر چینی ملوں ہی میں روک لی جائے تو؟
بعض حلقے اس خدشے کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ شوگر ملز بھی ذخیرہ اندوزی میں ملوث ہو سکتی ہیں۔ ایسا چینی کی مانگ کو بڑھانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ اگر ملیں چینی مارکیٹ میں نہ جانے دیں تو اس کی مانگ اور نتیجتاً قیمت میں اضافہ ہو گا۔

اس کا فائدہ شوگر ملز کو ہو سکتا ہے۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے ترجمان چوہدری عبدالحمید کے مطابق پنجاب میں چینی کا بحران نہیں ہے۔

’بحران تو تب ہوتا ہے کہ چینی مل نہ رہی ہو۔ چینی مل رہی ہے، صرف اس کی قیمت بڑھ گئی ہے۔‘

تو کیا اس قیمت کے بڑھنے کی وجہ ملز کی طرف سے ذخیرہ اندوزی ہو سکتی ہے؟

چوہدری عبدالحمید کے مطابق ملوں میں موجود چینی کا ریکارڈ روزانہ کی بنیاد پر حکام کے حوالے کیا جاتا ہے اور پہلے یہ ہر مہینے ہوتا تھا، اب ہر روز کیا جاتا ہے۔

ان کے خیال میں چینی کی قیمت کے بڑھنے کی بنیادی وجہ گنے کی قیمت میں اضافہ ہے جس میں کچھ حصہ سیلز ٹیکس میں اضافے کا بھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.