110

جنرل سلیمانی کو مارنے کا فیصلہ جنگ روکنے کے لیے کیا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے قاسم سلیمانی کو مارنے کا فیصلہ ’جنگ روکنے‘ کے لیے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں تمام ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہوں خاص طور پر ایران کے حوالے سے۔

خیال رہے کہ ایران نے بغداد میں امریکی حملے کے نتیجے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو ایک واضح دہشت گرد کارروائی قرار دیا ہے۔

امریکی صدر نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ’ہمارے اقدامات جنگ شروع کرنے کے لیے نہیں ہوتے۔‘

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جنرل قاسم سلیمانی ایک بیمار انسان تھے، انھوں نے معصوم لوگوں کو ہلاک کیا اور ان کے حملوں سے دور دور تک لوگ متاثر ہوئے حتیٰ کہ نئی دہلی اور لندن تک۔ ‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ہم یہ جان کر سکھ کا سانس لے سکتے ہیں کہ ان کی دہشت ختم ہوئی۔‘

صدر ٹرمپ نے جنرل سلیمانی کو ایک ’دہشتگرد‘ قرار دیا جو سینکڑوں امریکی عام شہریوں اور سپاہیوں کی موت کے ذمہ دار تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مختصر نیوز کانفرنس میں امریکہ کے دشمنوں کو تنبیہ کی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہم آپ کو تلاش کر لیں گے۔ ہم آپ کو تباہ کر دیں گے۔ ہم ہمیشہ امریکیوں کی حفاظت کریں گے۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دبئی میں بات کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف ان کا کہنا تھا کہ ’ایران بین الاقوامی سطح پر متعدد قانونی اقدامات کرے گا تاکہ سلیمانی کے قتل کے لیے امریکہ کو سزا دلوائی جاسکے۔‘

اس سے پہلے حملے کے فوراً بعد جواد ظریف نے ایک ٹویٹ میں امریکہ پر ’بین الاقوامی دہشت گردی‘ کا الزام عائد کیا تھا۔

اب تک کیا ہوا؟
امریکہ نے رات گئے ایک فضائی حملے میں ایران کے سب سے طاقتور فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کو ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا رہنماؤں کے ہمراہ ہلاک کر دیا۔ اس واقعے کے بعد صورتحال نہایت کشیدہ ہو گئی۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے یہ ڈرون حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر کیا تاکہ ایک ایسے شخص سے بیرون ملک موجود امریکیوں کا تحفظ کیا جا سکے جسے وہ ایک طویل عرصے سے خطرہ قرار دیتے ہیں۔
یہ اچانک اقدام امریکہ اور ایران کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد اٹھایا گیا۔ گذشتہ ماہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا نے امریکی کنٹریکٹر کو عراق میں قتل کر دیا جس کے بعد مغربی عراق اور مشرقی شام میں كتائب حزب الله ملیشیا کے خلاف امریکی فضائی حملے کیے گئے۔ اس کے بعد بغداد میں امریکی سفارتخانے کے باہر پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے۔ امریکہ نے اس کا الزام ایران پر عائد کیا۔
قاسم سلیمانی ایران کی قدس فوج کے قائد تھے۔ وہ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے کافی قریب تھے۔ انھیں ایران میں دوسرا طاقتور ترین فرد تصور کیا جاتا تھا۔
ایران نے فوری طور پر اس حملے کی مذمت کی اور بعد ازاں اس اقدام کا ’کڑا بدلہ‘ لینے کا عزم کیا۔ ملک بھر میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور امریکی اور اسرائیلی پرچم نذر آتش کیے۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا کہ ’جنرل سلیمانی سے ان کے ملک میں لوگ خوفزدہ بھی تھے اور نفرت بھی کرتے تھے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ انھیں کئی برس پہلے مار دیا جانا چاہیے تھا۔
جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ سنیچر کو ادا کی جائے گی۔
اس واقعے کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر عالمی رہنماؤں نے دیگر ممالک سے پر سکون رہنے کی اپیل کی ہے۔ ابتدائی طور پر عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ردِ عمل
مبصرین مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے اور ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ کے بارے میں تبصرے کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر اس وقت یہی موضوع زیرِ بحث ہے اور اسی خبر سے جڑے کئی ہیش ٹیگ، مثلاً #Iran #WWIII #Soleimani اور #قاسم_سليماني اس وقت ٹرینڈ کر رہے ہیں۔

اس حملے کے اب تک کئی نتائج سامنے آئے ہیں۔ جنرل سلیمانی کی ہلاکت کی خبر آنے کے چند گھنٹوں بعد ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ عموماً مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں ہوتا ہے۔

برطانوی ماہرِ معاشیات جیسن ٹووے کے مطابق ہر چیز کا انحصار ایران کے ردِعمل پر ہوگا۔ ’ہمیں خدشات ہیں کہ اس پیش رفت سے خطے میں تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔‘

بین الاقوامی ردِ عمل
اس وقت پوری دنیا کی توجہ عراق پر مرکوز ہے اور سب یہ جاننے کے لیے بے چین ہیں کہ جس ملک کی سرزمین پر یہ حملہ ہوا ہے ان کا ردعمل کیا ہو گا۔

عراق کا سرکاری موقف ہے کہ امریکی کارروائی اس کی ’سالمیت کی صریح خلاف ورزی اور ملک کے وقار پر کھلا حملہ ہے۔‘

دوسری جانب عراقی شیعہ رہنما اور مہدی ملیشیا کے سربراہ مقتدیٰ الصدر نے کہا ہے کہ ’قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانا جہاد کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے لیکن یہ ہمارے عزم کو کمزور نہیں کرے گا۔‘

انھوں نے اپنے پیروکاروں کو عراق کی حفاظت کرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت بھی کی۔

تاہم مشرقِ وسطی کے دیگر ممالک جیسے کہ قطر، سعودی عرب اور مصر کی جانب سے بھی ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

لبنانی گروہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنرل سلیمانی کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دلوانا دنیا بھر میں پھیلے تمام جنگجوؤں کا فرض ہے۔

تاہم شام کی جانب سے سامنے آنے والے ردِ عمل میں اس حملے کو ’بزدلانہ کارروائی‘ قرار دیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کے بعد اپنا ردعمل دیتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’جنرل قاسم سلیمانی نے ایک طویل مدت کے دوران ہزاروں امریکیوں کو ہلاک یا بری طرح سے زخمی کیا ہے، اور وہ بہت سے لوگوں کو ہلاک کرنے کی سازشیں کر رہا تھا۔۔۔ لیکن وہ پکڑا گیا۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.