8

 ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہم سے جدا ہوگئے

 ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہم سے جدا ہوگئے

محسن پاکستان اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہم سے جدا ہوگئے۔ ان کی رحلت پاکستان کے لئے بہت بڑا نقصان ہے۔ علامہ اقبال اور قائد اعطم محمد علی جناح کے بعد اس ملک کی سب سے بڑی ہستی کا نام ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھا۔ جن کی اس ملک کے لئے گراں قدر خدمات ہیں۔ کہا جاتا ہے کچھ لوگوں کا کام بڑا ہوتا ہے اور کچھ لوگوں کا نام لیکن ڈاکٹر عبدالقدیر خان واحد ایسی شخصیت تھے، جن کا نام بھی بہت بڑا ہے اور کام بھی، یہ دونوں تاقیامت تک ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی دس اکتوبر کی صبح چھ بج کر بیس منٹ پر طبیعت ناساز ہونے پر کے آر ایل کے ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے اور خالق حقیقی سے جا ملے۔مجھے ان کے انتقال کی خبر صبح ساڑھے 7 بجے کے قریب ملی اور یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے دوستوں اور مداحوں کے فون آنا شروع ہوگئے اور ساتھ ہی ساتھ پورے میڈیا میں ان کے انتقال کی خبریں نشر ہونا شروع ہوگئیں۔ اس دوران وزیر داخلہ شیخ رشید بھی میڈیا پر آئے، جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سرکاری اعزاز کیساتھ سپرد خاک کیا جائے گا؟ تو شیخ رشید نے جواب دیا کہ ابھی اس حوالے سے کچھ جواب نہیں دے سکتا تاہم کچھ دیر بعد حکومت نے اعلان کر دیا کہ معروف ایٹمی سائنسدان کو پوری سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی میں حکومت کی جانب سے ان کے ساتھ جو رویہ اپنایا گیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے بلکہ گزشتہ کچھ عرصہ قبل جب وہ ہسپتال میں زیر علاج تھے تو انہوں نے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے گلدستہ بھجوانے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور خط میں لکھا کہ مجھے میرے صوبے کے وزیراعلی نے یاد رکھا۔ وزیراعظم سمیت دوسرے صوبوں کے وزیراعلی کو میری یاد نہیں آئی۔

وہ اپنی آخری سانس تک حکومت سے ناروا سلوک کی وجہ سے ناراض تھے۔ اور انہوں نے کہہ رکھا تھا کہ جب میرا انتقال ہوجائے تو کسی بھی حکومتی شخصیت کو میرے جنازے کے پاس نہ آنے دیا جائے اور مجھے میرے گھر کے افراد اور قریبی دوست دفنائیں۔ ان کا یہ شکوہ بالکل بجا تھا کہ ان کی زندگی میں ان کی پرواہ نہ کرنے والوں کو ان کی تدفین کا بھی حق نہیں لیکن حکومت نے اپنے ماتھے پر یہ کلنک لگنے سے بچا لیا اور ان کی تدفین پورے سرکاری اعزاز کیساتھ کر دی۔ تمام اہم شخصیات کی جانب سے تعزیتی بیان بھی سامنے آئے لیکن ان کے جنازے میں کوئی اہم شخصیات نظر نہیں آئیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے محبت کرنے والے اور ان کے مداح بڑی تعداد میں جنازے میں شرکت کے لئے آئے، اسلام آباد میں بارش اور بڑے بڑے اولے پڑے لیکن یہ اولے عوام کے سمندر میں بہہ گئے۔ یہ وہ اولے تھے جس سے گاڑیوں کی سکرینیں تک ٹوٹ گئیں لیکن عوام اپنے محسن کو الوداع کرنے پہنچے۔ مداحوں کی محبت ان کی عقیدت کی وجہ سے تھی۔

انہیں پتہ تھا کہ اپنے محسنوں کو کس طرح الوداع کرنا ہے۔ میں شاہد ہوں اس بات کا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان  بہترین انسان ہونے کے ساتھ ساتھ درد دل بھی رکھتے تھے اور دکھی انسانیت کا مداوا کرنا چاہتے تھے۔ ان کا یہ جذبہ دیکھ کر میں نے دو ہزار گیارہ میں لاہور میں ایک فلاحی ہسپتال بنانے کا مشورہ دیا۔ جسے انہوں نے پسند کیا اور دو ہزار تیرہ میں مینار پاکستان کے سائے تلے اپنے نام سے منسوب ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کی بنیاد رکھی اور اس وقت وہ اپنی طبی خدمات انجام دے رہا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ناصرف اس ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنادیا بلکہ عوام کے لئے ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال جیسا میگا پراجیکٹ دیا جو کسی طور پر بھی غریب، نادار اور مفلس لوگوں کے لئے تحفے سے کم نہیں ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے کارنامے ایسے ہیں جو رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے۔

مزید :

رائےکالم



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.