8

ڈاکٹر عبدالقدیر خان  

قوموں کی زندگی میں کچھ لمحات اور شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے بارے میں بات کرنا دشورا ہوتا ہے۔۔خاص طور پر جب وہ دنیا سے رخصت ہو جائیں توسینے میں جذبات کا طوفان امڈ آتا ہے منہ سے الفاظ نہیں نکل پاتے آج میری بھی کیفیت ایسی ہی ہے یہ کالم لکھتے ہوئے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور سینہ غم سے لبریز ہے، اکٹر عبدالقدیر خان کو مرحوم لکھتے ہوئے بولتے ہوئے سوچتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اس قوم پر بے پایاں احسانات ہیں بلکہ یہ احسانات یاد کروانے والے نہیں بلکہ ہمیں یاد ہیں کہ انہوں نے کیسے اس قوم کو اپنے سے بڑے دشمن کے مقابلے کیلئے تیار کیا اور ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔انسان کی باطنی شخصیت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے،جب وقت پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرے،جب زندگی کی حرکت محدود ہو جائے،  بالکل اس طرح

تنہائی سے کب میں ہارتا ہوں 

گزرے ہوئے دن گزارتا ہوں 

ڈاکٹر صاحب ریٹارئر منٹ کے بعد بھی ریٹائر نہ ہوئے بلکہ اپنی تحریروں کے ذریعے اصلاح معاشرہ کا کام کرتے رہے۔نبی اکرمؐ   سے خصوصی لگاؤ رکھتے تھے اورنبیؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی پوری کوشش کرتے تھے۔انہوں نے پاکستان کیلئے جو کام کیا وہ ایسا کام ہے کہ قیامت کی دیواروں تک پاکستان کا بچہ بچہ ان کا احسان مند رہے گا یقینا آپ نے  پاکستان کے لیے غیر معمولی کارنامہ سر انجام دیا۔اپنے اس منفرد کام کے متعلق خود ان کا کہنا تھا کہ ایٹم بم بنانے کا مقصد خطے میں خون ریزی کوروکنا تھاتا کہ بھارت پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے۔اس میں کوئی شک و شبہ کی بات ہی نہیں ہے کہ ڈاکٹر صاحب جب تک یہ دنیا موجود ہے قوم آپ کی احسان مند رہے گی۔جناب ڈاکٹر صاحب اپنی آزادنہ نقل و حرکت چاہتے تھے۔مگر  وہ نظر بندی کی حالت میں انتقال کر گئے۔ ان کے چلے جانے کے بعد انہیں ریاستی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔

ہالینڈ سے ڈاکٹر صاحب کا آنا،بھٹو صاحب کا عزم،ضیا الحق کا ڈٹے رہنا،نواز شریف دور میں اس کا عملی تجربہ یہ ان کی زندگی کانچوڑ تھا۔2012میں  ڈاکٹر صاحب نے سیاسی جماعت تحریک تحفظ پاکستان بھی بنائی بعدازاں 2013 میں صرف ایک سال بعد انہوں نے اپنی جماعت یہ کہہ کر تحلیل کر دی کہ وہ چھوٹی جماعتیں گروہ بنا کر ملک و قوم کو مزید تقسیم نہیں کرنا چاہتے بلکہ جو بھی اچھا کام کرے گا اس کا ساتھ دیں گے۔ جب انہوں نے سیاسی جماعت بنائی تو راقم الحروف کو بھی ان سے اس دوران اسلام آباد میں رہائش  پر پھر ایک دو بار مشترکہ سیاسی اجلاسوں میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔

جب ان سے میری ملاقات ہوئی تو میرے ذہن میں خاکہ تھا کہ ایٹمی سائنسدان ہیں،بڑ کروفر ہو گا کہ ملک و قوم کیلئے ایک بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہے لیکن ان سے ملاقات کر کے پتہ چلا کہ ان کی شخصیت تو سرتاپا عاجزی و سادگی کا دوسرا نام ہے۔ نواب صاحب چونکہ بھارت کی ریاست بھوپال میں پیدا ہوئے تھے اور بر صغیر کی تقسیم کے بعد بھوپال سے ہجرت کر کے پاکستان تشریف لائے۔ تو جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے تواتر سے ملاقاتیں ہوئیں تو باتوں باتوں میں نواب صدیق الحسن خان صاحب کا بھی تذکرہ ہوا تو انہوں نے بڑی عقیدت کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ نواب صدیق الحسن خان کے بڑے معتقد رہے ہیں (نواب صدیق الحسن خان بڑے بلند پائے کے عالم اور ریاست بھوپال کے نواب تھے ان کی شادی بھوپال کی ملکہ سے ہوئی تھی،نواب ہونے کے باوجود انہوں نے درس و تدریس کا سلسلہ برقرار رکھا اور ان کی بیگم بھی ان کے ساتھ اس کارخیر میں شریک رہیں)سادہ غذا پھر سادہ بود و باش ان کا اوڑھنا بچھونا سادگی سے لبریز تھا۔اگر آپ کی عملی زندگی پر نظر دوڑائیں تو آپ پندرہ برس یورپ میں رہنے کے دوران  مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بلجیم کی یونیورسٹی آف لیوؤن میں پڑھنے کے بعد 1976کو واپس پاکستان لوٹ آئے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بلجیم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئر کی اسناد حاصل کرنے کے بعد 1976ء کو ذوالفقار علی بھٹو کی دعوت پر ”انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز“ کے پاکستانی ایٹمی پروگرام میں حصہ لیا۔

بعد ازاں اس ادارے کا نام صدرپاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے 1981میں تبدیل کرکے ”ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز“ رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شخصیت کا اعجاز ہے کہ جنہوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل عرصہ میں اَن تھک محنت اور لگن کے ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کرکے دنیا کے نامور سائنس دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔حکومت پاکستان نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کی خدمات کے اعتراف میں 1989 میں ہلال امتیاز اور 1996 میں نشان امتیاز سے نوازا۔  1998 میں جوہری ہتھیاروں کے کامیاب تجربے کے بعد 1999 میں ایک بار پھر نشان امتیاز سے نوازا گیا اور شاید وہ پاکستان کی واحد شخصیت ہیں جنہیں دو بار نشان امتیاز دیا گیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان چاہتے تو یورپ میں رہ کر پر سکون زندگی گزار سکتے تھے لیکن انہوں نے یورپ کی پر تعیش اور نشات سے بھرپور زندگی چھوڑ کر ملک کی خدمت کو ترجیح دی  اور پاکستان کو بھارت جیسے بڑے ملک کے مقابل دفاعی طاقت بنانے کیلئے دن رات ایک کیا اور اپنا سکون تیاگ دیا،لیکن ملک کو ایٹمی قوت بنا کر ہی دم لیا جس پر پاکستان کا بچہ بچہ ان کا احسان مند ہے۔

مزید :

رائےکالم



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.