6

حالات کا تقاضا قومی اتفاق رائے 

حالات کا تقاضا، قومی اتفاق رائے 

جب بھی پی ڈی ایم تھوڑی سی انگڑائی لے کر بیدار ہونے لگتی ہے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد یہ بیان داغ دیتے ہیں وزیر اعظم عمران خان ڈٹ کر اپنے پانچ سال پورے کریں گے۔ یہ شغل میلہ دونوں طرف سے لگا ہوا ہے اور اب تو معاملہ مدتِ تکمیل کی طرف جا رہا ہے صرف پانچ سال پورے کرنے کی حسرت ہی اگر دل میں ہے تو وہ پورے ہو ہی جائیں گے مگر سوال یہ ہے ملک کے حالات کون ٹھیک کرے گا؟ اَن گنت چیلنج درپیش ہیں اندرونیا ور بیرونی، معیشت کا چیلنج علیحدہ سر ابھار رہا ہے کیا ملک میں اسی طرح کی سیاسی کشیدگی اور پارلیمینٹ کی بے اثری و بے توقیری سے معاملات آگے بڑھ سکتے ہیں حالت یہ ہے وزیر اعظم اپوزیشن کا ذکر تک سننا گوارا نہیں کرتے اور اپوزیشن صبح و شام وزیر اعظم کو سارے مسائل کی جڑ قرار دے کر اپنا غبار نکالتی ہے۔

اس طرح تو کوئی مسئلہ بھی حل نہیں ہو سکتا بلکہ مسائل بڑھتے ہی چلے جائیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان کی باتوں سے لگتا ہے افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد امریکہ نے پاکستان پر اپنا سارا بوجھ ڈالا ہوا ہے خود وزیر اعظم عمران خان یہ کہتے ہیں امریکہ اپنی ناکامی کا غصہ ہم پر نکال رہا ہے، یہ وہ بات ہے جسے ایک پالیسی بیان کے طور پر انہیں پارلیمینٹ میں دینا چاہئے۔ اس موقع پر اگر پارلیمینٹ کو اپنی طاقت نہیں بنایا جاتا تو پھر کب بنایا جائے گا۔ اگر امریکہ مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے ہمیں واقعی نشانہ بنا رہا ہے تو اس کا حل یہ تو نہیں کہ وزیر اعظم کسی انٹرویو میں اس کا ذکر کر دیں یا پھر کسی تقریب میں تقرر کر کے امریکیوں سے کہیں وہ ہم پر نزلہ نہ گرائیں۔ اس کے لئے تو ایک قومی حکمتِ عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کام ایک بڑی مشاورت کے بغیر ممکن نہیں، مشاورت کا یہ عالم ہے کہ وزیر اعظم چیئرمین نیب کی تقرری کے مسئلے پر بھی اپوزیشن لیڈر سے آئینی مشاورت نہیں کرنا چاہتے، حالانکہ اس میں بظاہر کوئی رکاوٹ بھی نہیں۔

بظاہر یہی لگتا ہے اپوزیشن اور حکومت دونوں طرف سنجیدگی کا فقدان ہے اور سیاسی انا آڑے آئی ہوئی ہے پچھلے ادوار میں کبھی نہیں دیکھا گیا کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اتنی طویل لا تعلقی رہی ہو، کہیں نہ کہیں برف پگھل جاتی تھی اور کوئی نہ کوئی آگے بڑھنے کا راستہ نکل آتا تھا۔ اب تو دونوں طرف سے ایک ہی ٹیپ چل رہی ہے اور اس میں پہلے دن سے کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ حکومت کے زعماء یہی کہتے ہیں اپوزیشن چوروں کا ٹولہ ہے، این آر او مانگتے ہیں، انہیں نہیں دیں گے اور اپوزیشن کہتی ہے نا اہل اور سلیکٹڈ حکومت ہے اسے ایک دن بھی مزید برداشت نہیں کریں گے۔ معاملات اسی طرح چل رہے ہیں، اس دوران ملک پر بڑے مشکل حالات بھی آئے، خطے میں بڑی تبدیلیاں بھی رونما ہوئیں، قومی سلامتی کو کئی چیلنجوں کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر دونوں طرف کی ہٹ دھرمی ختم نہیں ہوئی اپوزیشن رہنماؤں کی باتیں سنیں تو لگتا ہے ملک کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے حکومت والے بولتے ہیں تو یوں نظر آتاہے جیسے اس سے اچھا ملک تو کسی نے چلایا ہی نہیں، اصل حقیقت کیا ہے کسی کو کچھ معلوم نہیں، عوام کے نقطہ نظر سے صورت حال دگرگوں ہے۔ انہیں بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی اندر کے حالات کا تو انہیں زیادہ علم بھی نہیں ہوتا وہ تو صرف ان حالات سے متاثر ہوتے ہیں جو ان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ حالات کی سنگینیاں انہیں آئے روز تکلیف دہ خبریں ہی سناتی ہیں اور زندگی مشکل سے مشکل بنا دیتی ہیں۔

اندھے کو بھی نظر آ رہا ہے اس وقت قومی سطح پر سیاسی قوتوں میں ایک ڈیڈ لاک موجود ہے۔ ڈیڈ لاک کسی بھی سیاسی نظام کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے۔ اب اپوزیشن نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے عمران خان میں اتنی جرأت نہیں اپوزیشن کا سامنا کر سکیں وہ نہ سیاسی میدان میں سامنا کر سکتے ہیں اور نہ پارلیمینٹ کے اندر، وہ صرف بنی گالہ تک محدود ہیں یا پھر وہ سرکاری تقریبات میں تقریریں اچھی کر لیتے ہیں۔ عمران خان کو اپنے بارے میں اس تاثر کو دور کرنے کے لئے آگے آنا چاہئے، وہ اسمبلی میں آئیں، سب کچھ بتائیں اور ان چیلنجوں سے آگاہ کریں جو اس وقت ملک کو درپیش ہیں، زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا اپوزیشن ان پر تنقید کرے گی، انہیں ہر خرابی کا ذمہ دار قرار دے گی۔ مگر قوم کو اس بات کا اندازہ تو ہو جائے گا کون سچ کہہ رہا ہے اور کون صرف الزامات کی سیاست کر رہا ہے۔ اس وقت فضاؤں میں ایک عجیب قسم کی پراسراریت ہے، یوں لگتا ہے کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔ سٹاک ایکسچینج آئے روز دھڑام سے نیچے آ گرتی ہے اور پھر اچانک اوپر چلی جاتی ہے، ڈالر ہے کہ سنبھل نہیں رہا اور مہنگائی ہے کہ اونچی چھلانگیں لگائے جا رہی ہے۔ ادھر کسی کو یہ معلوم نہیں امریکہ کا ہمارے بارے میں منصوبہ کیا ہے۔ وزیر اعظم کہتے تو ہیں اب ہم امریکہ کے اتحادی نہیں رہے مگر یہ کہتے ہوئے وہ کیا اس کے مضمرات سے بھی آگاہ ہیں۔ بہت بڑا فیصلہ ہے لیکن ہم جس طرح قرضوں کی معیشت میں جکڑے ہوئے ہیں اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے امریکی سرمایہ دارانہ نظام کے پروردہ ادارے ہمارے گلے پر ہر وقت انگوٹھا دبائے رکھتے ہیں کیا ان کی موجودگی میں ہم امریکہ کی بے لگام مخالفت مول لے سکتے ہیں۔

اپوزیشن تو اس وقت ہر مسئلے کا حل نئے انتخابات میں ڈھونڈ رہی ہے لیکن میرے نزدیک یہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کا اصل حل موجودہ مسائل پر قومی اتفاقِ رائے ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں طرف سے لچک کا مظاہرہ ہونا چاہئے۔ صرف وزراء کے بیانات سے معاملات حل نہیں ہوں گے۔ صرف یہ کہہ دینے سے بات نہیں بنے گی حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے گی۔ اس مدت کے دوران اگر حالات خرابی کی آخری حدوں کو چھو لیتے ہیں تو کیا بنے گا۔ اس وقت میرے نزدیک آگے قدم بڑھانے کی ضرورت حکومت کو ہے اپوزیشن کو نہیں کیونکہ اپوزیشن کے پاس کھونے کو کچھ نہیں جبکہ حکومت نے اگر حالات سدھارنے کی عملی کوششیں نہ کیں تو اپنی ساکھ بھی گنوا سکتی ہے اور ملک کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔ حالات کی بہتری کے لئے حکومت کے پاس کئی راستے ہیں۔ امریکی دباؤ کو کم کرنے کے لےء سب سے بہتر اور محفوظ راستہ یہی ہے وہ اس معاملے میں پارلیمینٹ کو فریق بنا دے۔ پارلیمنٹ قوم کی اجتماعی رائے کی آئندہ دار ہوتی ہے اور بڑے سے بڑا ملک اس کی رائے کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔

مزید :

رائےکالم



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.