7

روٹی اور جہاز 

فرانس میں تو ایک ملکہ میری تھی جس کی وجہ سے ملک میں خونی انقلاب آگیا۔ ہمارے یہاں حکمرانوں میں ملکہ میریوں کے جتھے کے جتھے ہیں جو کہتے ہیں روٹی نہیں ہے تو کیک کھا ؤ۔بلوچستان میں حکومت کی اتحادی باپ پارٹی (BAP) کے سینیٹر منظور احمد نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت سینیٹرز کے لئے جہاز خریدے۔ جس ملک میں عوام کو دو وقت روٹی ملنا مشکل ہو، وہاں کی میری ملکائیں جہاز مانگ رہی ہیں۔ نہ جانے کیوں اقتدار کے نشہ میں انہیں پتہ ہی نہیں چل رہا کہ ریت کتنی تیزی سے ہاتھ سے سرک رہی ہے۔ جب خونی انقلاب آتا ہے تو نہ امیر غریب دیکھتا ہے اور نہ حکمرانوں اور عوام میں تمیز کرتا ہے۔ ایسے حکمرانوں کو اگر عوام کا خیال نہیں آتا تو کم از کم اپنے ہی بچوں کا خیال کر لیں۔ اللہ نہ کرے کل ہمارے حکمرانوں کے بچوں کے ساتھ وہی ہو جو فرانس کے حکمرانوں کے بچوں کے ساتھ ہوا تھا۔ قومی اسمبلی کے ممبران کا حلقہ انتخاب ہوتا ہے، سینیٹرز کا تو حلقہ انتخاب بھی نہیں ہوتا کہ وہ کہیں کہ انہیں حلقہ میں عوام سے زیادہ رابطوں کے لئے جہاز چاہئے۔ یہ صرف کشکے ہیں، ٹیکس گذاروں کی ہڈیوں کے گودے سے نچوڑے گئے ٹیکسوں کے پیسے سے پورے کئے گئے ان ملکاؤں میریوں کے کشکے۔ ہمارے وزیراعظم بہت اچھی تقریر کرتے ہیں، اللہ ان کا زور بیان اور زیادہ کرے، لیکن بہادر شاہ ظفر بھی تو اچھی شاعری کرلیتے تھے۔ لیکن عوام کا پیٹ روٹی سے بھرتا ہے، نہ تقریروں سے بھرتا ہے اور نہ ہی شاعری سے۔ ورنہ تو دو گز زمین بھی نہیں ملتی کوئے یار میں۔ 

بھوک سے بد حال عوام کو غصہ اس وقت آتا ہے جب انہیں وزیر اعظم عمران خان یہ بتاتے ہیں کہ عوام پہلے سے زیادہ خوش حال ہو گئے ہیں۔ بھوک سے بد حال عوام کو غصہ اس وقت بھی آتا ہے جب انہیں ایک وفاقی وزیر یہ بتاتے ہیں کہ مہنگائی سے کسانوں کو بہت فائدہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے پاس زیادہ پیسے آتے ہیں۔ بھوک سے بد حال عوام کو غصہ اس وقت آتا ہے جب انہیں ایک اور وفاقی وزیر یہ بتاتے ہیں کہ مہنگائی 27فیصد بڑھی ہے لیکن عوام کی خوش حالی 37 فیصد بڑھ گئی ہے اور اس طرح وہ پہلے سے 10 فیصد زیادہ خوش حال ہو گئے ہیں۔ بھوک سے بد حال عوام کو غصہ اس وقت بھی آتا ہے جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ جتنے ترقیاتی کام موجودہ حکومت کے دور میں ہوئے ہیں اتنے پہلے 70سال میں نہیں ہوئے لیکن انہوں نے سلیمانی ٹوپی پہن رکھی ہے اس لئے کسی کو نظر نہیں آتے۔ بھوک سے بد حال عوام کو غصہ اس وقت آتا ہے جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ جان بچانے والی سمیت تمام ادویات کئی گنا مہنگی ہو گئی ہیں یا پٹرول، بجلی، گیس اب ان کی قوت خرید میں نہیں رہے….. اور بھوک سے بد حال عوام کو غصہ اس وقت بھی آتا ہے جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ سینیٹر حضرات کو ان پیسوں سے جہاز چاہئے جو عوام کا حق تھا۔

پہلے روٹی کی بات کرتے ہیں اور پھر جہاز کی۔ منگل کو وفاقی کابینہ غریب عوام کے لئے خوراک کا پیکج منظور کرنے جا رہی ہے جس کے لئے 100 ارب سے زائد”خیراتی“ رقم رکھی گئی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی یہ پیکج پہلے ہی منظور کر چکی ہے اور اس میں یوٹیلٹی سٹوروں پر سستی اشیاء کی فراہمی اور سبسڈی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ خوردنی تیل کی درآمدی ڈیوٹی میں بھی کچھ کمی کی جائے گی۔ بھارت پہلے ہی خوردنی تیل پر تمام درآمدی ٹیکس معاف کر چکا ہے لیکن ہماری حکومت ”کچھ“ کمی کرکے حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے جا رہی ہے۔پاکستان بناسپتی مینو فیکچرر ایسوسی ایشن کے چئیرمین کہتے ہیں کہ حکومت جو بھی کرنے جا رہی ہے اس میں ان کی تجاویز نہیں لی گئیں۔ اس حکومت کا ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ فیصلے کرتے ہوئے سٹیک ہولڈروں سے مشاورت نہیں کرتی جس کی وجہ سے یا تو درست فیصلے نہیں کرتی یا پھر ان پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہتی ہے۔ کسانوں کے لئے حکومت ایگری مال بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ شوکت ترین یہ ناکام تجربہ اس وقت بھی کر چکے ہیں جب وہ پیپلز پارٹی کے دور میں وزیر خزانہ تھے۔ ناکام تجربہ دہرانے سے پہلے کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ دیکھا جائے کہ پہلے یہ ناکام کیوں ہوا تھا۔ عوام کا پیٹ اعدادوشمار اور تجربات سے نہیں بھرے گا، انہیں دو وقت کی روٹی چاہئے اور یہ اس وقت ہی ممکن ہے جب ان کے پاس روزگار ہو گا۔ عوام کو 100 ارب کے فوڈ پیکج کی نہیں روزگار کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی روٹی خود کمائیں نا کہ خیرات میں حاصل کریں۔ وزیراعظم بتائیں کہ ایک کروڑ نوکریوں کے وعدہ کا کیا ہوا۔ اب بھی عوام امید رکھیں یا جھوٹا وعدہ سمجھ کر بھول جائیں۔ 

اب آتے ہیں سینیٹروں کے جہاز کی طرف۔ آج سوموار کو یہ قرارداد سینیٹ میں پیش کی جا رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صوبوں کے وزرائے اعلی کے پاس جہاز ہیں تو سینیٹرز کے پاس کیوں نہیں؟ اس لئے حکومت سینیٹروں کو جہاز دے۔ کیا یہ ”ملکہ میری“ صاحبان نہیں جانتے کہ وزیراعلی صوبہ کا چیف ایگزیکٹوہوتا ہے جسے انتظامی معاملات کے لئے ہمہ وقت اضلاع جانا پڑسکتا ہے۔ اس قرارداد میں یہ بھی مطالبہ پیش کیا گیا ہے کہ اندرون و بیرون ملک دوروں کے لئے سینیٹرز کو خصوصی جہاز دیا جائے یعنی بیرونی دوروں کا تڑکہ بھی ساتھ لگایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس سے بیرون ملک پاکستان کے ڈیکورم میں اضافہ ہو گا۔ دنیا کے امیر ترین ملکوں کے سینیٹروں کو بھی حکومت جہاز نہیں دیتی ہے تو کیا ان کا بیرون ملک کوئی ڈیکورم نہیں ہوتا؟ اس میں کہا گیا ہے کہ جہاز کی فراہمی کے بعد سینیٹرز زیادہ جذبہ سے کام کریں گے، گویا ہمارے حکمرانوں میں جہاز کے بغیر کام کا جذبہ پیدا نہیں ہو سکتا۔پاکستان کے ملکہ میریوں نے گذشتہ سال اپنے اور اہل خانہ کے لئے بزنس کلاس کے 25 اضافی ہوائی ٹکٹ منظور کرائے تھے۔ یہ بیوی بچوں اورذاتی ملازموں نے کون سے سرکاری فرائض ادا کرنے ہوتے ہیں؟ اللہ نہ کرے کل ہمارے حکمرانوں کے بچوں کے ساتھ وہی ہو جو فرانس کے حکمرانوں کے بچوں کے ساتھ ہوا تھا۔حکمرانو!! جہاز چھوڑو اور عوام کی روٹی روزگار کا بندوبست کرو ورنہ کچھ بھی آپ کے پاس باقی نہیں رہے گا۔ 

مزید :

رائےکالم



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.