8

 ہمیں تو لوگوں کی عجلت مار گئی

 ”ہمیں تو لوگوں کی عجلت مار گئی“

جھنگ کے ایک زمیندار نے اپنے ملازم کو کسی ضروری کام سے بھیجا اور جلد واپس آنے کا کہا۔ملازم بھائی اپنے گاؤں چلا گیا۔گاؤں میں میلہ لگا ہوا تھا۔اطمینان سے میلہ دیکھنے کے بعد بھائی کو یاد آیاکہ قریبی گاؤں میں کسی عزیز کی شادی ہے۔ اس میں ابھی دو دن رہتے تھے۔ ہمارے دوست نے وہ  دو  دن ادِھر اُدھر ملنے میں گزارے۔ ہفتہ بھر شادی کی تمام تقریبات میں شرکت کی اور اس کے بعد واپسی کا ارادہ کیا۔ راستے میں پاؤں کو ٹھوکر لگی تو منہ سے بے ساختہ نکلا ہمیں تو مہر صاحب کی عجلت ما ر گئی۔ایک افسر گیارہ بجے اپنے دفتر تشریف لائے اور ایک ذاتی دوست کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر گپ شپ میں مصروف ہو گئے۔دو گھنٹے بعد ان کے سینئر نے بلایا تو شدید ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ نہ تو یہ صاحب خود چین کا سانس لیتے ہیں اور نہ ہمیں لینے دیتے ہیں۔صبح سویرے ہی تنگ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ایک صاحب نے اپنی بیٹی کی شادی کی تقریب میں ایک دوست کومدعوکرتے ہوئے بار بار تاکید کی کہ وقت کی پابندی کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ شادی کا وقت دو بجے کاتھا۔ مہمان شدید ندامت کی حالت میں سوا دو بجے ہوٹل پہنچاتو میزبان خود ابھی تشریف نہیں لائے تھے۔ساڑھے تین بجے کے قریب میزبان کی آمد ہوئی اور نہایت عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھ بجے مہمانوں کو کھانا پیش کر دیا گیا۔ایک یونیورسٹی میں ایک گلوکار کے ساتھ شام منانے کا اہتمام کیا گیاجب پہلا گانا رات کے ایک بجے گایا گیا تو ایک صاحب نے گزارش کی، آئندہ اشتہارات میں اگر شام کی بجائے رات کا لفظ لکھ دیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔بتایا گیا کہ اس سے امن و امان میں خلل کا اندیشہ ہے۔

میرے پسندیدہ مزاح نگار کے بقول کچھوے اور خرگوش کے درمیان دوڑ کی کہانی کا اصل انجام کچھ یوں ہے کہ جب کچھوا مقررہ مقام پر پہنچا تو خرگوش کو موجود نہ پایا۔کافی دیر بعد خرگوش آیا تو کچھوے نے اپنی جیت پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے نعرے  لگانا شروع کر دیے۔خرگوش نے بصدِ احترام ریکارڈ کی درستی کے لئے گزارش کی “کچھوا میاں آپ نے  میرے دادا حضور کے ساتھ شرط لگائی تھی جو اپنے آخری لمحات میں میرے  والد کو بتا گئے تھے کہ ایک دن ایک کچھوا آئے گا۔والد سے یہ روایت اس ناچیز کو منتقل ہوئی۔ اگرچہ اس ناچیزنے بھی اپنی آل اولاد کو آپ کے بارے میں وصیت کر دی تھی مگر خوش بختی کی انتہا ہے کہ زندگی میں ہی آپ کی زیارت ہو گئی۔ کچھ عرصہ پہلے تک میڈیکل اور انجینئرنگ  میں ناکام ہونے پر ادارے سے نکال دینے کا قانون نہیں تھا۔ بہت سارے علم کے پیاسے یہ ٹھان کر داخلہ لیتے تھے کہ ایک اچھے انسان کو ساری زندگی طالب علم رہنا چاہئے اور استقامت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک ہی ادارے میں رہنا چاہئے۔ فائنل ایئر ایم بی بی ایس کے ایک پختہ طالب علم سے ایک نوخیز کلاس فیلو نے یہ معصومانہ سوالات کیے کہ اب اس عمر میں فائنل ایئر کا امتحان پاس کر کے وہ ادارے کو کس کے بھروسے پر چھوڑ کر جائیں گے اور کیوں کر جائیں گے؟۔ انہوں نے نہایت رقت آمیز لہجے میں بتایا کہ بیٹی نے  ایف ایس سی کا امتحان دیا ہے اور اصرار کر رہی ہے کہ ابو اگر آپ ایم بی بی ایس کر لیں تو میرا شاید ڈاکٹر کے بچوں کے کوٹے والی سیٹ پر داخلے کا چانس بن جائے۔

انجینئرنگ یونی ورسٹی لاہور میں دو ہم جماعت انجینئرز کی ملاقات کافی مدت بعد ہوئی۔ ایک نے دوسرے کو فخر سے بتایا کہ وہ زبانی امتحان میں ممتحن ہے اور اس سے آنے کی وجہ پوچھی۔ جواب ملا میں زبانی امتحان دینے کیلئے آیا ہوں۔ ایک آفیسر کا ایک جگہ سے تبادلہ ہوا تو انہوں نے کافی دنوں تک چارج نہ چھوڑا۔کئی ماہ بعد جب چارج چھوڑنے کا ارادہ کیا تو دوست سے پوچھنے لگے قبل از دوپہر چھوڑوں یا بعد از دوپہر۔ دوست نے کہا اتنی عجلت کی کیا ضرورت ہے؟ بعد از دوپہر چھوڑیں۔ایک صاحب کے مزاج میں بہت تیزی تھی۔ ایک سینئر انکی عجلت پسندی سے بہت نالاں تھے۔ ایک دن انہوں نے جونیئر آفیسر کو بلایا اور ایک فائل دکھائی جس پر کسی زمانے کے انگریز آفیسر نے ماتحت عملے سے رپورٹ مانگی تھی۔ انہوں نے فائل پر جونیئر سے رپورٹ مانگتے ہوئے اس دن کی تاریخ ڈالی اور جلد بازی کے نقصانات اور تحمل کے فوائد بھی بتائے۔ ایک صاحب وقت کی پابندی کے لیے مشہور تھے۔ انکی شادی ایک معلمہ سے ہوگئی۔خاتونِ خانہ نے اپنے سینئر رفقاء کار کو کھانے پر بلایا۔ٹائم سات بجے شام کا طے ہوا۔ مہمان ساڑھے نو بجے تشریف لائے اور آتے ہی نہایت فقیرانہ لہجے میں پوچھا،ہمیں دیر تو نہیں ہوئی؟ صاحبِ خانہ نے نہایت تحمل سے جواب دیا نہیں، قطعاََ نہیں، بس میں نے شادی میں جلد کر دی۔الہامی کتاب میں حکم خدا وندی درج ہے کہ بیشک نماز مومنوں پرمقررہ وقت کے حساب سے فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے احکامات کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔     

(کالم نگار نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہیں اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر، چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں)

مزید :

رائےکالم



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.