6

عوام بد حال بیورو کریٹس خوشحال 

عوام بد حال بیورو کریٹس خوشحال 

مشکلات میں گھرے عوام کو تو یہ کہا جاتا ہے انہوں نے گھبرانا نہیں اچھے دن آنے والے ہیں مگر ان برے دنوں میں بھی اگر سرکاری عمال کے لچھن وہی رہتے ہیں جنہیں ہدف بنا کر اقتدار حاصل کیا گیا تھا تو پھر اس غریب قوم کا کیا بنے گا اس کے دن کیسے بدلیں گے۔ مجھے ملتان کے ایک صحافی نثار احمد اعوان نے کچھ دن پہلے بتایا تھا ڈپٹی کمشنر ملتان کے بیڑے میں آٹھ گاڑیاں سرکاری پٹرول پر چل رہی ہیں۔ جبکہ قانون میں صرف ایک گاڑی رکھنے کی اجازت ہے، لاکھوں روپے ماہانہ کا پٹرول علیحدہ اور دیکھ بھال پر اتنے ہی پیسے علیحدہ خرچ کئے جا رہے ہیں۔ پٹرول چاہے سو روپے لٹر ہو یا 123 روپے ایسے افسران کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا فرق تو صرف اس عام آدمی کو پڑتا ہے جو اپنی محدود آمدنی میں سے پیسے بچا کر ایسی ضروریات پوری کرتا ہے۔

خیر سے جب موجودہ حکمران اقتدار میں نئے پاکستان کا نعرہ لگا کے آئے تھے تو انہوں نے اعلان کیا تھا ماضی میں روا رکھی گئی تمام ایسی شہ خرچیاں بند کر دی جائیں گی، جو اس غریب قوم پر بوجھ ہیں، مگر جب نئے پاکستان کا غلغلہ شروع ہوا تو کہیں سے بھی نہیں لگا حکومت ایسا کوئی کام کرنے جا رہی ہے، وہی پرانے پاکستان والی عیاشیاں اب بھی جاری ہیں لیکن عوام کو ریلیف دینے کے لئے حکومت کے پاس کچھ نہیں، ابھی چند روز پہلے پنجاب حکومت نے صوبے میں اساتذہ کی 33 ہزار خالی آسامیوں پر بھرتی کا سلسلہ منسوخ کر دیا، کہا یہ گیا موجودہ اساتذہ کو بھی تنخواہیں ادا کرنے کے پیسے نہیں نئے اساتذہ کیسے بھرتی کریں۔ صرف ضلع لاہور میں اساتذہ کی 9 ہزار آسامیوں پر ابھی تک تقرری نہیں ہو سکی اور نو نہالانِ قوم بغیر اساتذہ کے سکولوں میں وقت ضائع کر رہے ہیں۔ ایک طرف یہ صورتحال ہے اور دوسری طرف بیورو کریسی کے اللے تللے ہیں جو اسی طرح جاری و ساری ہیں، ان کے لئے فنڈز بھی مل جاتے ہیں اور خزانہ بھی خالی نہیں ہوتا۔

پچھلے دنوں پنجاب حکومت نے یہ اعداد و شمار جاری کئے کہ وزیر اعلیٰ آفس اور گھر کے اخراجات میں خاطر خواہ کمی کی گئی ہے۔ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اخراجات تقریباً چالیس فیصد تک کم ہو گئے ہیں، چلو جی یہ تو اچھی بات ہے لیکن کیا اخراجات صرف وزیر اعلیٰ ہاؤس پر ہوتے ہیں پنجاب میں کمشنروں، ڈپٹی کمشنروں، پولس افسروں اور دیگر سرکاری محکموں کے عمال کو جو سرکاری رہائش گاہیں ملی ہوئی ہیں، وہ ایکڑوں پر مشتمل ہیں ان کی دیکھ بھال کے لئے ملازمین کی ایک بڑی تعداد تعینات ہے۔ گویا ایک ایک افسر کروڑوں روپے ماہانہ میں پڑتا ہے۔ ایسا تو ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں ہوتا، جیسی پر تعیش زندگی پاکستان میں افسر گزارتے ہیں اور وہ بھی سرکاری خرچ پر ویسی تو امریکہ اور برطانیہ کے افسر بھی نہیں سوچ سکتے۔ وہ ملک جہاں کروڑوں افراد کا مسئلہ دو وقت کی روٹی ہے، جہاں حکومت اپنے خسارے پورے کرنے کے لئے آئے روز پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھاتی ہے،

وہاں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جسے ایسی تمام فکروں سے آزاد کر کے بس خلقِ خدا پر حکمرانی کا منصب سونپا گیا ہے، یہ طبقہ عوام کے بدن سے نچوڑے گئے ٹیکسوں کی آمدنی سے مغلیہ شہزادوں جیسی زندگی گزارتا ہے۔ یہ سوال علیحدہ ہے کہ ان افسروں سے عوام کو ریلیف کیا ملتا ہے۔ ان کا کام تو عوام کی تکلیفوں میں اضافہ کرنا ہے۔ عام آدمی کو تو یہ اچھوت سمجھتے اور اس کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے عمران خان بھی اپنے اس اعلان پر عملدرآمد نہیں کر سکے جس میں انہوں نے کہا تھا افسروں کی بڑی بڑی رہائش گاہیں خالی کرا کے انہیں چھوٹے گھروں میں منتقل کیا جائے گا، کیا یہاں بھی انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور مجبوراً بیورو کریسی کو انہوں نے اس امر سے مبراء قرار دیدیا کہ اس سے معاشرے کی ریلیف بلکہ حاکم کلاس کا اسٹیٹس نہیں چھینا جائے گا۔ اس کے بجٹ میں کوئی کمی نہیں آئے گی چاہے بچوں کو پڑھانے کے لئے اساتذہ کی بھرتی ہی کیوں نہ روکنی پڑے۔

عوام کی بدقسمتی ہے 74 برسوں سے قربانی صرف انہی سے مانگی گئی ہے۔ اشرافیہ نے کبھی قربانی دی ہے اور نہ مشکلات جھیلی ہیں، اس ملک کے سیاستدان، جرنیل، بیورو کریٹس، اعلیٰ عدلیہ کے جج اور بڑے بڑے امراء صرف اچھے دن ہی دیکھتے ہیں، انہیں اچھے دنوں کا عوام کی طرح کبھی انتظار نہیں کرنا پڑتا، ان پر کبھی برے دن نازل ہی نہیں ہوتے۔ آج خلقِ خدا مہنگائی کی چکی میں بری طرح پس رہی ہے آج خبر آئی ہے گیس 270 فیصد مزید مہنگی کی جا رہی ہے مگر یاد رہے یہ گیس جن طبقوں کا اوپر ذکر کیا گیا ہے انہیں مفت ملتی رہے گی، ان کا خرچہ عام آدمی کی جیب سے پورا کیا جائے گا۔ مجھے کوئی بتائے حکومت نے اپنے تین برسوں میں مشکل معاشی صورتحال کے نام پر جو قیامتیں ڈھائی ہیں ان کا طبقہ اشرافیہ پر کیا اثر ہوا ہے۔ صرف یہ اعداد و شمار آ جاتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اپنے اخراجات میں اتنے کروڑ روپے کی بچت کی ہے مگر اس بارے میں آج تک کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی صوبے میں انتظامی اخراجات کتنے کم ہوئے،

کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں، نیز سیکریٹری صاحبان اور پولیس افسروں کے بے بہا بلکہ ہوشربا اخراجات میں کمی لا کے کتنے کروڑ روپے بچائے گئے۔ سب کچھ تو پہلے کی طرح شاہانہ انداز میں چل رہا ہے۔ پھر عوام چیخیں نہ تو کیا کریں۔ ان اخراجات کو پوراکرنے کے لئے عوام کو مہنگی بجلی دینے اور گیس کی قیمت بڑھانے کی ضرورت تو پیش آئے گی۔ نت نئے ٹیکس تو لگانا پڑیں گے۔ چلیں جی لوگ پیٹ کاٹ کر یہ بھی برداشت کر لیں گے مگر انہیں کوئی فرق تو نظر آئے۔ کہیں گڈ گورننس تو ملے۔ یہاں تو ہر طرف لوٹ مار مچی ہے۔ سرکاری افسران نے اب ایک نیا ڈرامہ شرع کر دیا۔ سوشل میڈیا پر کمشنر، ڈپٹی کمشنر، آر پی او اور ڈی پی او کے اکاؤنٹ بنا لئے ہیں ان پر ہر وقت اپنے کارنامے دکھاتے رہتے ہیں میڈیا پر اپنی تعریف میں چلنے والی رپورٹوں اور اخبارات میں چھپنے والی خبروں کو بڑھا چڑھا کے نمایاں کرتے ہیں، زمین پر صورتحال یکسر مختلف ہوتی ہے۔ شہر گندگی سے اٹے ہوئے ہیں، عوام کو چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے دفاتر میں ذلیل ہونا پڑتا ہے، رشوت دیئے بغیر کام نہیں ہوتا مگر یہ افسران سوشل میڈیا پر سب اچھا کی  ڈگڈگی بجاتے نظر آتے ہیں۔

یہ تاثر اب گہرا ہوتا جا رہا ہے حکومت نے بیورو کریسی کو کچھ زیادہ ہی سر چڑھا لیا ہے۔ اس کا مظاہرہ تو اس وقت بھی ہوا تھا جب وزیر اعظم کو نیب کے اختیارات کم کر کے سرکاری افسروں کو اس کی گرفت سے بچانے کا اعلان کرنا پڑا تھا۔ اس سے پہلے وہ یہ اعلان کر چکے تھے بیورو کریسی کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرائیں گے۔ ان دونوں اقدامات سے بیورو کریسی سدھرنے کی بجائے مزید بگڑ گئی۔ عوامی نمائندے بھی اس کے سامنے بے بس ہو گئے آج کل ارکان اسمبلی ڈپٹی کمشنر کے سامنے یوں ہاتھ باندھے بیٹھے   ہوتے ہیں جیسے وہ ضلع کا ان داتا ہو۔ پنجاب بیورو کریسی کی پہلے ہی جنت تھا اب تو اس کی را جدھانی بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے یہاں یہ تاثر موجود ہے کہ صوبے میں حکومت نام کی کوئی شے موجود نہیں، افسر  من مانیاں کر رہے ہیں اور انہوں نے حکومت کے بجٹ ایجنڈے سمیت عوامی مفاد کے ہر ایجنڈے کو ہوا میں اڑا دیا ہے، پنجاب کی بیورو کریسی گھوڑے کی طرح سرپٹ دوڑ رہی ہے اور اس کی ٹاپوں سے اڑنے والی گرد میں گڈ گورننس خاک چاٹ رہی ہے۔

مزید :

رائےکالم



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.