8

 طالبان کے نام ایک خط (1)

 طالبان کے نام ایک خط (1)

آج ارادہ تھا کہ افغانستان سے ہٹ کر کسی ا ور موضوع پر کالم آرائی کی جائے لیکن موبائل کی سکرین پر انگشت فرسائی کرتے کرتے ایک ایسے آرٹیکل پر نظر پڑی جس کا مصنف میرے پسندیدہ لکھنے والوں میں شامل ہے۔ اس کا نام پیپ ایسکو بار (Pepe Escobar) ہے۔  برازیل کا باشندہ ہے لیکن اپنے براعظم پر لکھنے کی بجائے باقی سارے براعظموں پر لکھتا ہے۔ اس کا اندازِ نگارش بڑا جاندار اور کاٹ دار ہے، جس موضوع پر لکھتا ہے اس کے بارے میں تمام پہلوؤں کی پیشگی چھان بین اس کا طرۂ امتیاز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا کالم پڑھنے کے لئے موضوعِ زیرِ بحث کا ہمہ پہلو مطالعہ پیشگی شرط ہے۔

یہ کالم جس کا ذکر کیا گیا ہے اس کا عنوان ہے: ”طالبان کے نام ایک خط“۔

A Letter to the Taliban

میں نے جب اس ”خط“ کو کھولا تو یہ کالم کی بجائے ایک بسیط مضمون نکلا۔ میں نے جلدی جلدی ’ورق گردانی‘ کی تو جگہ جگہ رکنا پڑا۔ وجہ یہ تھی کہ یہ آرٹیکل ”سٹرٹیجک کلچر فاؤنڈیشن“ میں شائع ہوا تھا۔ یہ فاؤنڈیشن، ایک روسی تھنک ٹینک ہے جس کا ہیڈ کوارٹر ماسکو میں ہے۔ مغربی تھنک ٹینکوں کے مقابلے میں اس کا مواد، مغربی سیاسی اور دوسرے بہت سے موضوعات کے استدلال کا بطلان ہوتا ہے۔ اسی نام سے ایک میگزین بھی ماسکو ہی سے ’آن لائن‘ شائع کیا جاتا ہے۔

آج کل جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں مسئلہ افغانستان کی حل کے سلسلے میں اس ملک میں ایک ہمہ مسلکی اور ہمہ نسلی حکومت کا بہت ذکر کیا جا رہا ہے جس کے لئے (All Inclusive) کی اصطلاح سکہء رائج الوقت بن چکی ہے۔ پاکستان بھی اسی کرنسی کو استعمال کر رہا ہے۔ اگلے روز دوشنبہ(تاجکستان) میں ہمارے وزیراعظم نے وہاں کے صدر کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ایک نیا فارمولا وضع کیا۔ تاجکستان کے صدر نے اس معاملے پر صاد کیا کہ وہ تاجک، ازبک اور ہزارہ قبائل کو طالبان حکومت میں شمولیت پر راضی کریں گے جبکہ پاکستانی وزیراعظم نے پشتونوں کو اس امر پر قائل کرنے کا وعدہ کیا کہ وہ ان اقلیتوں کو آنے والی ”مخلوط حکومت“ میں نمائندگی دلوانے کے لئے طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے۔

31اراکین پر مشتمل ایک عبوری حکومت کا اعلان طالبان نے کئی روز پہلے کر دیا تھا۔ اب تاجک، ازبک ہزارہ اور دوسرے کئی چھوٹے نسلی گروپوں کو بھی شاید نمائندگی دینے پر مذاکرات چل رہے ہیں۔ تادمِ تحریر کوئی حتمی اور قطعی فیصلہ نہیں ہوا۔شائد آنے والے چند دنوں میں ہو جائے۔ چار روز پہلے ایک غیر ملکی کو ایک طویل انٹرویو میں عمران خان نے یہی کہا تھا کہ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ ان کا اکلوتا فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ دوشنبہ میں طے پایا تھا کہ افغانستان کے پڑوسی ممالک یک زبان ہو کر اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کریں گے۔ ان پڑوسیوں میں پاکستان، ایران، ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان اور چین شامل ہوں گے۔ مجھے ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ چین اس معاملے میں پہل کرے گا۔ اگر چین نے افغانستان کی نئی حکومت کو تسلیم کر لیا تو پاکستان ایسا کرنے میں دیر نہیں لگائے گا۔ تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان بھی بادلِ نخواستہ ’ہاں‘ کر دیں گے۔ البتہ ایران کے بارے میں کچھ نہیں کہاجا سکتا کہ اس کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ یہ بڑا الجھا ہوا موضوع ہے جس پر کچھ نہ کہنا، کچھ کہنے سے زیادہ بہتر ہوگا۔ یعنی وہی بات جو کسی انڈین فلم کے ایک گیت کے مکھڑے میں کہی گئی ہے:

چپ ہوں تو کلیجہ جلتا ہے

بولوں تو تری رسوائی ہے

میں ’ایسکوبار‘ اور ”سٹرٹیجک کلچر فاؤنڈیشن“ کا ذکر کر رہا تھا جس کے آرٹیکل نے مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی افغانستان پر ایک اور کالم لکھنے پر مجبور کر دیا……

جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ یہ ایک طویل اور بسیط آرٹیکل ہے جس کی شاید 5،6قسطیں ہو جائیں۔ قسط وار کالم سے میں بھی اتنا ہی گھبراتا ہوں، جتنا آپ قارئین گھبراتے ہوں گے۔اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اردو روزناموں میں ایک ایک ادارتی صفحہ میں 8،8کالم چھپ رہے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ کورونا کی کسی اگلی پچھلی لہر نے ایک کالم کے مواد پر ایک ہزار الفاظ کی شرط عائد کرا دی ہے۔ میں جناب چیف ایڈیٹر کا ازحد ممنون ہوں کہ انہوں نے میرے کالموں کو اس شرط سے استثنا دے رکھا ہے لیکن خود اندیشی بھی تو ایک خوبی ہے، اس کو خامی میں تبدیل کرنے کا ارتکاب کبھی کبھار تو شاید جائز ہو، بار بار باعثِ ندامت بن سکتا ہے۔

ایسکو بار نے اپنے مضمون میں ایک پاکستانی دانشور کا ذکر بھی کیا ہے۔ ڈاکٹر اعجاز اکرم کو میں نہیں جانتا۔ وہ الیکٹرانک میڈیا پر آنے سے بھی شائد (میری طرح) گریزاں رہتے ہیں …… سطور ذیل میں ایسکوبار کے آرٹیکل کے صرف پہلے پانچ سات صفحات کا ترجمہ قارئین کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ان صفحات کا زیادہ تر مواد ڈاکٹر اعجاز اکرم کے افکار و خیالات سے مشتق ہے:

……………………

افغانستان میں جو کچھ ہوا وہ محض حکومت کی تبدیلی نہیں تھی۔ ایک کٹھ پتلی ریاست جو اس خطے میں دہشت گردی اور تخریب کاری پھیلانے کی مرتکب تھی، اس کا تختہ الٹ دیاگیا تھا۔

اس کے بعد جب طالبان نے عبوری حکومت کا اعلان کیا تو معلوم ہوا کہ پہلی حکومت نہ صرف افغانستان کے طول و عرض میں متنازعہ تھی بلکہ افغانستان کے ایشیائی اور یورپی ہمسائے بھی اس سے نالاں تھے۔]یورپی سے مراد روس ہے۔مترجم[ چنانچہ میں نے ڈاکٹر اعجاز اکرم سے رابطہ کیا۔ وہ اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (NDU) میں مذہب اور عالمی سیاسیات کے پروفیسر ہیں۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ اس موضوع پر اپنی آرا ارسال کریں۔ اس کے جواب میں انہوں نے ایک حیران کن اور بے مثال مضمون مجھے بھیج دیا جو مشرق و مغرب کے اہلِ علم و دانش کے لئے قابلِ غور ہے۔ میں نے اس میں تھوڑی سی کاٹ چھانٹ اور ایڈٹنگ کی ہے۔ لیکن اس تحریرکا اندازِ بیان ویسے کا ویسا ہی زور دار ہے۔ ڈاکٹر اعجاز اس ریجن کی بساط کے ہر مہرے سے بخوبی واقف ہیں،اس لئے وہ اپنے آرٹیکل میں طالبان کے لئے ایسا صراطِ مستقیم بھی پیش کرتے ہیں جو چار عشروں پر پھیلی اس جنگ کے زخموں کا اندمال بھی ہے۔

یہ صراطِ مستقیم جس کا ذکر ایسکو بار نے کیا ہے وہ اس مضمون کے وسطی حصے میں بیان کیا گیا ہے۔ لیکن یہاں تک پہنچتے پہنچتے شاید چار پانچ کالم بن جائیں۔ اس لئے اس موضوع پر ایک الگ عنوان قائم کرکے اس کا ترجمہ رقم کرنا بہتر ہوگا۔ دیکھا جائے تو یہ موضوع از خود ایک الگ اہمیت اور نوعیت کا حامل ہے لیکن مضمون نگار نے اس کا جو عنوان (طالبان کے نام ایک خط) قائم کیا ہے اس میں یہ ”صراط مستقیم“ سما سکتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس ذیلی عنوان کے بعد بھی دو تین عنوانات اور بھی ہیں جو از حد اہم، دلچسپ اور معلوماتی ہیں۔ لیکن مقالوں کو قسط وار کالموں میں ڈھالنا میرے نزدیک کوئی قابلِ قدر کاوش نہیں۔ مترجم[۔(جاری ہے)

مزید :

رائےکالم



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.