5

پولیس افسران کو رویے تبدیل کرنے کی ضرورت 

پولیس افسران کو رویے تبدیل کرنے کی ضرورت 

حقائق پر نظر ڈالی جائے تو سب سے زیادہ جس محکمہ پر تنقید ہوتی ہے وہ محکمہ پولیس ہے۔ جب جس کا جی چاہتا ہے اٹھ کر پولیس پر تنقید شروع کر دیتا ہے، ویسے بھی تنقیدآسان مگر اصلاح بہت مشکل ہے۔ پولیس کا شعبہ پاکستان میں اس تناظر میں انتہائی مظلوم ہے کیونکہ بعض اوقات ان کو ہر طرف سے ہی ہرزاسرائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی، کام کی زیادتی اور افسر شاہی کا دباء۔ آج تک شاید ہی کسی نے سوچا ہوکہ پولیس کی ان تھک محنت اور ان کا ایثار اور قربانیاں بھی تو اس وطن عزیز کے ما تھے کا جھومر ہیں۔ سٹریٹ کرائم ہوں یا دہشت گردی کا مسئلہ یہ پولیس کے جوان ہی ہیں جو اپنی جانوں کو ہتھیلی پر لئے انتہائی محدود وسائل کے ساتھ قوم کی خدمت کے لئے سرگرمِ عمل رہتے ہیں کہتے ہیں کہ اپنی تکلیف تو جانور بھی محسوس کرتا ہے لیکن انسان کو اشرف الخلومات اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کے درد کو بھی بالکل ویسا ہی محسوس کرے جس طرح اپنی کسی تکلیف کو کر سکتا ہے۔دوسرں کے درد کو محسو س کرنے والے ہی درحقیقت انسانیت کے منصب پر فائز ہوسکتے ہیں۔وہ لوگ جن کا جینا مرنا دوسروں کے لیے ہو وہ عظمت کی بلندی کو چھو لیتے ہیں۔ہم اپنے گرد و پیش میں نظردوڑائیں تو ہمیں ایسی شخصیات مل جاتی ہیں جن کو دیکھ کر انسان رشک کرتا ہے، حال ہی میں پنجاب میں تعینات ہونے والے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب راؤ سردار علی خان ان شخصیات میں سے ایک ہیں،ان کی تعیناتی سے پہلے اور بعد میں کبھی کسی سے یہ نہیں سنا کہ وہ پیشہ وارانہ امور کے حامل یا دیانت دار آفیسر نہیں ہیں ان کے اپنے اور مخالف سبھی ان کے کام اور میرٹ کی تعر یف کرتے ہیں کمانڈر ٹھیک ہو تو ادارے میں پائی جانیوالی خرابیاں خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہیں اگر کوئی بہت نیک ہو،دیانت دار اور محب الوطنی کے جذبے سے بھی سرشار ہومگر ایڈمنسٹریٹر اچھانہ ہو کمانڈنگ کے فن سے بے خبر ہو تو وہ ادارہ ٹھیک نہیں کرسکتا یہ ایک حقیقت ہے پنجاب پولیس کے سربراہ راؤ سردار علی خان بہترین منتظم تصور کیے جاتے ہیں مگر جس فورس کا انھیں سربراہ بنایا گیا اسے کنٹرول کرنا اتنا آسان نہیں ہے اگر لاہور پولیس جسے پنجاب پولیس کا چہرہ سمجھا جاتا ہے وہ اسے ٹھیک کرنے میں کامیاب ہو گئے تو آپ سمجھ لیں کہ صوبہ بھر کی پولیس ٹھیک ہو گئی ہے اگر پولیس کو ہم نے کسی دور میں سیدھا ہوتے دیکھا ہے تو وہ دور سابق سی سی پی او ”بی اے ناصر“کا تھا جب سپاہی سے لے کر ڈی آئی جی تک ان کے کمرے میں جانے سے خوف کھاتے تھے، اس دور میں پولیس کاکام معیاری اور ادارے کا مورال بھی بلند رہا، اس میں کوئی شک نہیں کہ سی سی پی او غلام محمود ڈوگر انتہائی ملنساز،محنتی اور جفاکش پولیس آفیسر ہیں روز آپ کاکسی نہ کسی تھانے یا کھلی کچہری میں ان سے آمنا سامنا ضرور ہو تا ہو گا،اگر یہ کہاجائے کہ یہ روزانہ 18سے 20گھنٹے کام کرتے ہیں تو بے جا نہ ہو گا یہ پوری کوشش کرتے ہیں کہ انصاف کی فراہمی کو بروقت یقینی بنایا جاسکے مگر ان کے اپنے ہی آفیسرز ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کردیتے ہیں۔ پچھلے دنوں ان کی ہدایت پر لاہور پولیس نے میڈیا کے ساتھ ایک”گیٹ ٹو گیدر“تقریب رکھی جس میں میڈیا کو اپنے شکوے شکایات کھل کر بیان کرنے کا کہا گیا ہال میں بیٹھے نوے فیصد میڈیا پرسن نے یہ شکوہ کیا کہ ان کے ماتحت پولیس افسران کا میڈیا کے ساتھ رویہ درست نہیں ہے ایس پی صاحبان کو درجنوں کالز کی جاتی ہیں وہ کسی کا جواب نہیں دیتے بار بار فون کرنے کی صورت میں افسران نمبر بلاک کردیتے ہیں، میڈیا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ملکی تہذیب و ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے اور ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے پروگرامز سے یہ اندازہ لگایا جا تا ہے کہ جو کچھ دکھا یا جا رہا ہے وہ سب اس معاشرے میں وقوع پذیر ہو رہا ہے،گو میڈیا نمائند گان معاشرت کے ہر پہلو کی عکاسی کرتے ہیں،آجکل ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کیپٹن ریٹائرڈ سہیل چوہدری کے متعلق بھی مشہور ہے کہ وہ کسی کا فون سننا تو درکنار دفتر میں آئے میڈیا افرادسے ملنا پسند نہیں کرتے،جب آپ کے افسران میڈیا نمائند گان کا سامنانہیں کر پائیں گے تو ان افسران سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ یہ عوام کے درمیان پائے جانے والے فاصلوں کا خاتمہ اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنا پائیں گے۔آئی جی صاحب یہ ہی وہ آفیسرز ہیں جو اداروں کی بدنامی اور بیڈ گورننس کا باعث بنتے ہیں ماضی میں ایک کامیاب پولیس آفیسرکے لاہور سے فارغ ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہی تھی کہ وہ میڈیا پرسن سے بڑی بدتمیزی سے پیش آتا رہا وہ اپنے ادارے کے سربراہ کو بھی لے ڈوبا اور خود بھی فارغ ہو گیا آئی جی صاحب ایسے آفیسرز کو سمجھائیے، عہدے اور پوسٹنگ اعزاز ہے یہاں آنا جانا لگا رہتا ہے،خداراہ اداروں کو بدنام ہونے سے بچائیں ورنہ یہ آپکی پالیسی اور آپ کو لے ڈوبیں گے

مزید :

رائےکالم



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.