7

سیکڑوں مزدوروں کا طورخم تک مارچ، بارڈر کھولنے کیلئے 3دن کی مہلت

سیکڑوں مزدوروں کا طورخم تک مارچ، بارڈر کھولنے کیلئے 3دن کی مہلت

لنڈی کوتل( نما ئندہ جنگ) سیکڑوں مزدوروں کا لنڈی کوتل بازار سے طورخم بارڈر تک 7 کلو میٹر پیدل مارچ، بارڈر مزدوروں کے لئے کھولنے کے لئے تین دن کی مہلت، مزدوروں اور پیدل آمدورفت کے لئے بارڈر کھول دیا جائے، مزدور کش پالیسی تسلیم نہیں کرینگے،مظاہرین نے کہا کہ سیکڑوں خاندان فاقوں پر مجبور ، گاڑیوں کے لئے بارڈر کھولنے سے مسائل حل نہیں ہونگے، مظاہرین سے فرمان، اسرار اور معراج الدین کا خطاب،عینی شاہدین، لنڈی کوتل بازار میں ٹینٹ لگا کر سینکڑوں مزدوروں نے احتجاج کا آغاز کیا مظاہرین نے پیدل آمدورفت اور مزدوروں کے لئے طورخم بارڈر بندش کے خلاف نعرے لگائے اور کہا کہ بارڈر بندش کی وجہ مزدور اور ان کے سیکڑوں خاندان فاقوں پر مجبور ہو گئے ہیں صرف مال بردار گاڑیوں کے لئے بارڈر کھولنے سے مزدوروں کے مسائل حل نہیں ہونگے بعد میں مزدوروں نے بازار سے طورخم بارڈر تک سات کلومیٹر پیدل مارچ کیا جس میں سینکڑوں مزدور اور عام لوگوں نے شرکت کی مزدور راستے میں بارڈر پیدل آمدورفت کے لئے بند رکھنے کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ طورخم بارڈر پر مزدوروں نے دھرنا دیا جس سے خطاب کرتے ہوئے مزدور یونین کے رہنماء فرمان شینواری، تنظیم نوجوانان قبائل کے رہنما اسرار شینواری، خیبر سپورٹس کلب اور کلئیرنگ ایجنٹس کے رہنما معراج الدین شینواری و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این ایل سی اور ایف سی کے مظالم کی وجہ سے مقامی کاروباری لوگوں اور مزدوروں کا معاشی قتل عام جاری ہے اور پیدل آمدورفت اور مزدوروں کے لئے طورخم بارڈر بند رکھنے سے مزدوروں فاقوں پر مجبور ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مزدوروں کے پیچھے ان کے سارے خاندان پڑے ہیں جن کی معاش کا دارومدار ان مزدوروں کی مزدوری پر ہے اگر مزدور بے روزگار ہونگے تو ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑے رہینگے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو حقوق، سہولتیں اور روزگار فراہم کریں لیکن یہاں مقامی لوگوں سے روزگار چھینا جا رہا ہے۔ مقررین نے دھمکی دی کہ اگر تین دنوں میں پیدل آمدورفت اور مزدوروں کے لئے طورخم بارڈر نہیں کھول دیا گیا تو وہ زیروپوائنٹ پر دھرنا دیگر بارڈر کو مستقل بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔معراج الدین شینواری نے الزام عائد کیا کہ شام کے بعد طورخم بارڈر پر بااختیار حکام انسانی سمگلنگ کی شکل میں مال کما رہے ہیں جبکہ غریب مزدوروں کے بچے بھوک سے ہلاک ہو رہے ہیں۔ مظاہرین کے احتجاج کے باعث طورخم بارڈر کو دو گھنٹے تک بند کرنا پڑا اور احتجاج ختم ہوتے ہی بارڈر کھول دیا گیا۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.