24

بندوق کی ’بجلی بھری گولیاں‘ جو ایک سیکنڈ میں 200 فٹ دور پہنچ سکتی ہیں

تصویر میں دستی برقناطیسی گن دیکھی جاسکتی ہے جس کی فروخت اس سال شروع ہورہی ہے۔ فوٹو: بشکریہ آرک فلیش کمپنی

تصویر میں دستی برقناطیسی گن دیکھی جاسکتی ہے جس کی فروخت اس سال شروع ہورہی ہے۔ فوٹو: بشکریہ آرک فلیش کمپنی

لاس اینجلس: دستی گن ہو، ریوالور ہویا رائفل ان میں ایک قدرمشترک ہے کہ گولی میں جلنے والا بارود گولی کو آگے دھکیلتا ہے جس کی اپنی حد ہوتی ہے۔ اب دنیا کی سب سے تیز گولی پھینکنے والی ایک گن بنائی گئی ہے جو 200 فٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے آگے بڑھتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ گن برقی مقناطیسی قوت سے گولی کو آگے دھکیلتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت جلد یہ گن امریکہ میں فروخت کےلیے پیش کی جائے گی جسے دنیا کی طاقتور ترین کوائل گن کا اعزاز حاصل ہے۔ اسے آرک فلیش لیب نے بنایاہ ے اور اس کا پہلا ماڈل جی آر ون اینوِل 3375 ڈالر میں فروخت کیا جائے گا۔ اس ماڈل کا وزن 20 پاؤنڈ ہےجس کے اندر بیٹری نصب ہے اور اس کا چارجر الگ سے خریدا جاسکتا ہے۔

جی آر ون اینول آٹھ اسٹیج کی نیم خودکار گن ہے جسے دنیا کی پہلی دستی گن کہا جاسکتا ہے جو کوائل کی وجہ سے برقی مقناطیسی قوت سے چلتی ہے۔ اس میں آہنی مقناطیسی گولیاں ڈالی جاتی ہیں جو فائر ہونے پر 200 فٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہیں۔ ایک منٹ میں پوری قوت سے اس سے 20 راؤنڈ فائر ہوسکتے ہیں جبکہ نصف پاور میں 100 راؤنڈ فائر کئے جاسکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عام افراد بھی اسے خرید سکیں گے لیکن ابھی آرڈر دے کر آپ کو 6 ماہ تک انتظار کرنا ہوگا۔

ان سب کے باوجود دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ جان لیوا ہتھیار نہیں اور اسے قانون نافذ کرنے والے افراد ربڑ کی گولیوں کی طرح فائر کرسکیں گے کیونکہ اپنی ساخت کی بنا پر یہ ہلاکت خیز نہیں رہتے۔ اس گن کی بدولت بے حس کرنے والے کارتوس بھی فائر کئے جاسکتے ہیں۔

جس طرح ایئرگن کا چھرا بے ضرر ہوتا ہے اسی طرح اس گن کا فائر بھی کم نقصاندہ ہوگا اور اسی طرح کی گن کھیلوں کے مقابلے کی شروعات کے لیے بھی استعمال ہوتی ہیں۔ لیکن اسے خرگوش جیسے چھوٹے جانوروں کو شکار کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.