27

 تبدیلی کے نعرے کی کچھ عزت تو رہنے دیں 

 تبدیلی کے نعرے کی کچھ عزت تو رہنے دیں 

آزاد کشمیر کے حالیہ الیکشن میں تحریک انصاف کی کامیابی نے اس روایت کو بڑی خوبصورتی سے دہرایا کہ اسلام آباد کے حکمران ہی کشمیر میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اگرچہ مریم نوازشریف کا خیال تھا کہ اب کی بار تاریخ مختلف ہوگی مگر ان کا خیال ضروری نہیں ”کوئی اور” بھی سوچے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف کی کامیابی پاکستان میں عمران خان کی کامیاب داخلہ و خارجہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے یا روایتی تسلسل یا ”انوکھا لاڈلا” ہونے کا تحفہ… میرا خیال ہے آخری دو باتیں درست ہیں۔ بظاہر تو خارجہ اور داخلہ محاذوں پر سوائے انگریزی زبان میں تقریروں کے، جو وزیراعظم اور وزیر خارجہ اکثر کرتے ہیں، کوئی خاطر خواہ کامیابی نظر نہیں آتی۔ وزیر داخلہ تو قومی لباس اور قومی زبان کے جھنڈے ہر دور میں گاڑتے نظر آتے ہیں۔ میرے سمیت جس تبدیلی کے خواب کی تکمیل کے لئے تحریک انصاف کے بَلّے کو” فل ٹاس” بالز دی گئی تھیں اس طرف کا سفر ابھی بہت طویل نظر آتا ہے۔ یہ بات سمجھ سے اب تک بالاتر ہے کہ جس الزام پر نوازشریف کو نکالا گیا تھا اور جس کی بنیاد پر تحریک انصاف کو لایا گیا تھا اس پر اَب تک سیاست کیوں کی جارہی ہے؟ نئی حکومت، نیا بندہ، نئی کابینہ، نئی جماعت اقتدار میں آئی یا لائی ہی اس لئے جاتی ہے کہ وہ پہلے دن سے اپنے منشور پر عمل پیرا ہو۔ بدقسمتی سے ایسا ہوا نہیں۔

اگر پچھلوں کو برا بھلا کہنا، مہنگائی، قانون شکنی، اقرباپروری، بدانتظامی کو ہی لے کر چلنا تھا تو پھر تبدیلی پارٹی کا تو کوئی فائدہ نہیں۔ وزیراعظم جب اپوزیشن میں تھے تو مغربی جمہوریت اور شیڈو کابینہ کی باتیں کیا کرتے تھے مگر جیسے ہی اقتدار میں آئے روایتی وزیراعظم بن گئے۔ شیڈو کابینہ کا مطلب تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ ان کے پاس ہر شعبے کا وزیر تیار ہوتا۔ وزیراعظم بنتے ہی  کابینہ کا رسمی اعلان ہوتا اور کام شروع ہوجاتا۔ سوائے اَسد عمر کے، جن کی قابلیت ”بعد میں کھل کر سامنے آگئی” کوئی شیڈو وزیر سامنے نہ آیا۔ اَسد عمر کی تو بس ”آنیاں جانیاں ” ہی دیکھتے رہے۔ اَب حکومت کے پاس ایک بہانہ ہے کہ کرونا نے ہمیں کام نہیں کرنے دیا اور یہ کہ ہم تو ابھی پرانا “گند” صاف کررہے ہیں۔ یاد رکھیں! لیڈروں اور قوموں کی زندگیاں چیلنج ہی بناتے اور بگاڑتے ہیں۔ عام حالات میں تو ہر کوئی کام چلا سکتا ہے۔ مزہ تو تب ہے جب چیلنجوں کو سامنے دیکھ کر ان کا مقابلہ کیا جائے۔ عام آدمی کو اس حکومت میں کیا ملا؟ بظاہر تو کچھ نظر نہیں آتا؟  مہنگائی نے کڑاکے نکال دیے ہیں. حیرت اس وقت ہوتی ہے جب مہنگائی کی بات کرنے پر گزشتہ حکومت کا موازنہ کیا جاتا ہے. آپ کے خیال میں گزشتہ حکومت تو تھی ہی چور، اس چوری کو روکنے کے لئے تو آپ کو لایا گیا.

سوال یہ ہے کہ آپ نے کیا کیا؟ خارجہ پالیسی میں ہمیں کتنی کامیابی ملی؟ بظاہر تو اس میں بھی کوئی کامیابی نظر نہیں آتی۔ کشمیر پالیسی اچانک خارجہ پالیسی کی فائلوں سے نکل کر جلسوں میں آگئی اور ریفرنڈم تک چلی گئی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے منشور والی فائل بند ہوگئی ہے، روزانہ کی بنیاد پر منشور بنتا ہے اور پالیسیاں بھی… اعلان کردیا جاتا ہے، عمل کے لئے کوئی ٹائم فریم نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور حکومت چلانے والے مل بیٹھیں اور فیصلہ کرلیں کہ اگلے الیکشن سے پہلے کرنا کیا ہے؟عام آدمی کے لئے سوچا جائے۔ اشرافیہ تو پہلے ہی مراعات یافتہ ہے۔ اور وہ جو احتساب کانعرہ تھا اس میں حقیقت کا روپ دکھا دیں۔ حالات تو یہ ہوگئے ہیں کہ انڈیا تو آنکھیں دکھاتا ہی تھا، افغانستان بھی دکھانے لگا ہے۔حکومت کچھ ایسا ضرور کرے کہ جس اْمید پر ہم نے تبدیلی کے نعرے کا ساتھ دیا تھا اس کی کچھ عزت تو رہ جائے۔ اس لئے کہ امید پر دنیا قائم ہے.

مزید :

رائےکالم



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.