25

ہمیں اب بدلنا ہوگا

نامراد کورونا پھر سے لوٹ آیا ہے۔ کیسز کی بڑھتی تعداد نئے طوفان کا پتہ دے رہی ہے۔ خاکسار نے تو ایک ماہ پہلے کورونا کی چوتھی لہر کے خطرناک بھارتی ڈیلٹا وائرس کی آمد کے بارے میں متنبہ کیا تھا، جو سات دن کے اندر اندر پھیپھڑوں کو ہڑپ کرنے کے ساتھ انسان کو قبر تک چھوڑنے میں ذرا دیر نہیں کرتا،چنانچہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔ ماسک، سماجی فاصلہ اور جلد سے جلد ویکسین لگوانا زندگی بچانے کا نسخہ کیمیا ہے۔ اپنی شغل اعظم قوم کچھ بھی تو نہیں سن رہی۔ بولنے والے بول بول کر تھک گئے۔ کورونا مذاق، ڈرامہ، یہودی کی سازش نہیں ایک اٹل حقیقت ہے مگر کسی پر کوئی اثر نہیں وہی پرانی تھیوری۔”او جی! جس کی آئی ہے اسے بھلا کون ٹال سکتا ہے۔ فلاں شخص کی لکھی ہی ایسے تھی، اللہ کے ساتھ مقابلہ تو نہیں کیا جا سکتا“۔

 کسی کو کورونا ہو جائے تو فوری ٹیسٹ و علاج شروع کرنے کے بجائے دیسی ٹوٹکے آزمائے جاتے ہیں۔ اچھے بھلے پڑھے لکھے سمجھدار لوگ کورونا کی تشخیص ہونے کے باوجود دوائی لینے میں سستی سے کام لیں گے۔ نتیجہ میں بدبخت کورونا چپکے سے مریض کو وینٹی لیٹر یعنی مصنوعی سانس کی مشین پر منتقل کر دے گا اور پھر مریض کی اگلی منزل اس دنیا سے روانگی کے سوا کچھ بھی تو نہیں۔ اگر کوئی اللہ والا، مریض کے لواحقین کو بھرپور صدقہ و خیرات، ذکر و اذکار کرنے کا کہے تو سنی ان سنی کر دی جائے گی۔ کورونا کے اس پر خطر دور میں شادی بیاہ پر جانا، ایس او پیز کا خیال نہ رکھنا ہماری لا ابالی قوم کا پسندیدہ ترین کام ہے۔ رہی سہی کسر سکول، کالج، یونیورسٹیاں کھول کر پوری کر دی گئی۔

ماہرین کے مطابق بچوں کی اکثریت گھر میں کورونا لانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جس سے دادا، دادی، نانا، نانی اور والدین بیمار پڑ رہے ہیں۔ کوئی سوچنے والا نہیں پرائیوٹ سکول مالکان کو فیسیں اکٹھا کرنے سے غرض ہے۔ ان کی بلا سے کوئی بیمار ہو مرے جئے ان کا کیا لینا دینا۔ تاجر حضرات شام کو دکانیں، شاپنگ مالز بند کرنے کو تیار نہیں حالانکہ ہفتہ، اتوار کاروبار بند کرنے سے ٹریفک کے اژدھام، ماحولیاتی آلودگی، شور شرابہ، حادثات میں کمی نوٹ کی گئی۔پوری دنیا میں سر شام کاروبار بند کر دیا جاتا ہے اپنے ہاں الٹا پہیہ چل رہا ہے۔ رات گئے تک بازار، مارکیٹیں، مالز کا کھلا رہنا، آدھی قوم بالخصوص نئی نسل کا رات گئے جاگ کر موبائل سے کھیلنا، فاسٹ فوڈ کا بے تحاشہ استعمال، اگلے دن 12بجے اٹھنا، بچوں کا ناشتہ نہ کرنا، ہمیں نیچر سے دور کر رہاہے۔

چاہئے تو یہ کہ ہم صبح سویرے اٹھ کر نمازِ فجر کے بعد خالی پیٹ واک کریں۔ ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔ صبح 9بجے سے پہلے ناشتہ، دن 3 بجے سے پہلے لنچ اور رات 9 بجے سے پہلے ڈنر کرلیں۔ مرغن اور چکنائی سے اٹی ہوئی  غذائیں، مٹھائیاں، سافٹ ڈرنک، بیکری پراڈکٹ سے پرہیز ہماری قوت مدافعت بڑھائے گا۔ یہ عادات ہمیں ناصرف کورونا سے نبرد آزما ہونے،بلکہ دِل کی بڑھتی بیماریوں سے نجات پانے میں مدد دیں گی۔

دیہات میں رہنے والے افراد میں کورونا شاذو نادر ہی دیکھنے میں مل رہا ہے۔ اس لئے کہ وہ رات کو عشا کی نماز پڑھ کر سو جاتے ہیں۔ صبح سویرے اٹھ کر نمازِ فجر کے بعد کھیتوں میں نکل جانا، کھلی فضا میں سانس لینا، خالص خوراک وہ عوامل ہیں جو قوت مدافعت کا ذخیرہ جسم میں اکٹھا کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کورونا ان کے نزدیک پھٹکنے سے پہلے سو بار سوچتا ہے کہ ان کے جسم میں داخل ہو کر طویل اور بے فائدہ مشقت کیوں کرے؟

اب مسئلہ یہ ہے ……ملاوٹ، ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین بنانے والوں کو تو گالم گلوچ، ایک دوسرے پر الزام تراشی سے فرصت نہیں۔ صاف پینے کا پانی ہر شہری کو دینا کسی کی بھی ترجیحات میں شامل اس لئے بھی نہیں کہ منرل واٹر بیچنے والوں کا خیال آخر کس نے کرنا ہے؟آلودہ فضا کے خاتمہ کے لئے ٹریفک کے دھوئیں کے  بارے میں فکر کرنا، شجر کاری کو قومی فرض قرار  دینا تو مہذب قوموں کا شعار ہے۔اپنا اس سے کیا لینا دینا۔ ہمارے اکابرین کو تھانے، کچہری کی سیاست، الیکشن الیکشن کھیلنے سے غرض،مہنگائی ان کا درد سر نہیں۔

کرنے کا کام تو یہ ہے کہ تاجر برداری خود حکومت سے تعاون کر کے کہتی کہ یہ ہمارا پیارا دیس ہے۔ ہم ہمیشہ کے لئے ہفتہ اتوار آف اور مغرب کے بعد کاروبار بند رکھیں گے۔ گھر جا کر اپنی فیملی کو وقت دیں گے۔ رات جلد سونا، صبح جلد اٹھ کر عبادات، ورزش کرنا اپنی زندگی کی طوالت جانیں گے۔ صبح 8بجے کاروبار شروع کریں گے تاکہ ہماری صحت پر اچھا اثر پڑے۔توانائی کی بھی بچت ہو۔ فضا خوشگوار ہو جائے۔ اضطرابی کیفیت اور اوور ورک کی وجہ سے شہر کی سڑکوں پر آئے روز کے جھگڑوں اور ایکسیڈنٹ کی بدولت ہسپتالوں کے بڑھتے بجٹ میں کمی واقع ہو۔

سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں کے طلبا موسم گرما میں صبح 6 سے 11 بجے تک اور موسم سرما 8 سے 1 بجے تک پڑھائی کریں گے۔ انٹرنیٹ سے دوری اور کھیل کے میدان آباد کریں گے۔ پرائیویٹ سکول و پرائیویٹ ہسپتالوں کے مالکان قوم پر رحم کھا کر اپنے حصے کا خراج وصول کرنے سے توبہ کریں گے۔ کورونا کی اس جنگ میں ہمارے لئے یہ سب کرنا اس لئے بھی مشکل ہے کہ پوری دنیا میں بے صبری قوم کا نوبل پرائز تو کوئی مائی کا لعل ہم سے چھین نہیں سکتا اور جھوٹ بولنا اور دھوکہ دینا ہماری سرشت کا حصہ ہو چکا۔ اپنے پیٹ کے لئے جینا ہماری پہچان ہوگیا۔ بس میرا کام ہو جائے باقی سب بھاڑ میں جائیں ایسے شارٹ کٹ اور جگاڑ ہمارے خون کا حصہ ہو گئے ہیں لیکن ہمیں اب بدلنا ہو گا۔ ذاتی مفاد کی غلامی کا طوق اتار کر قومی مفاد کی چادر اوڑھنا ہو گی یہی دین اسلام کا دائمی سبق اور ہماری کامیابی کی کنجی ہے۔

مزید :

رائےکالم



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.