13

سالانہ امتحانات پر سیاست نہ کی جائے!

سالانہ امتحانات پر سیاست نہ کی جائے!

گزشتہ دو سال سے وطن عزیز میں تعلیمی اور امتحانی نظام کے ساتھ جو کھلواڑ ہو رہا ہے اس کے نتائج آہستہ آہستہ آنا شروع ہو گئے ہیں، کورونا کو کنٹرول کرنے کے لئے کئے گئے بغیر منصوبہ بندی کے انتظامات کے بعد ہمارا مستقبل، یعنی طلبہ و طالبات کا برا حال ہے، نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے، نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم۔ ملک بھر میں بالعموم اور پنجاب میں بالخصوص ہزاروں پرائیویٹ سکول یوٹیلٹی بلز اور کرایہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے بند ہو چکے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں مرد و خواتین اساتذہ بے روزگار کر دیئے گئے ہیں،بات یہیں  ختم نہیں ہوتی، سینکڑوں رکشہ اور ویگن ڈرائیور سینکڑوں سکولوں کے چھوٹے ملازمین، چوکیدار، سیکیورٹی گارڈ فارغ کر دیئے گئے ہیں۔ وفاق اور صوبوں کو اپنے سرکاری اداروں پر بڑا ناز ہے ان کی اندرونی صورتِ حال بھی ایک سروے میں سامنے آئی ہے۔چھوٹے تعلیمی ادارے تو وسائل نہ ہونے کی وجہ سے بند ہوئے ہیں۔یہ سلیبس مکمل نہیں کر پائے، سرکاری تعلیمی ادارے پرائیویٹ سکیٹر سے پیچھے نہیں رہے، پنجاب بھر کے بالعموم اور ملک بھر کے بالخصوص کسی سکول اور کالج نے کسی کلاس کا بھی سلیبس مکمل نہیں کروایا۔ سرکاری تعلیمی داروں کے اساتذہ اور ملازمین کے حوالے سے حقائق سامنے آئے ہیں،ان میں بیشتر اساتذہ اور ملازمین کورونا اور لاک ڈاؤن کو اللہ کی رحمت قرار دیتے ہوئے پائے گئے ہیں، بڑی تعداد میں سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور سٹاف نے لاک ڈاؤن میں کاشت کاری یا دوسرا کاروبار شروع کر رکھا ہے۔رونگٹے کھڑے کر دینے والی بات جو سامنے آئی ہے گرمیوں کی چھٹیاں ہر صورت کروانے میں بھی سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور یونین کے ذمہ داران کا کردار سامنے آیا ہے۔ کسی دانشور نے سچ کہا ہے ہر نقصان کا ازالہ ہو سکتا ہے، مگر تعلیمی نظام کا نقصان پورا ہونا ممکن نہیں ہوتا۔راقم کی باتوں کو بہت سے احباب سنجیدہ نہیں لیں گے،لیکن میں بڑے وثوق سے  بات کہہ رہا  ہوں۔ کورونا حقیقت ہے یا سازش، پر بحث مقصود نہیں ہے۔ البتہ کورونا کے بچاؤ کے لئے لگایا گیا لاک ڈاؤن اور تعلیمی اداروں کی بندش نے ہمارے پلے کچھ نہیں چھوڑا ہے۔ہماری نوجوان نسل جو پہلے ہی انٹرنیٹ اور موبائل کی اسیر ہو چکی ہے۔ دین اور دُنیا بھلا چکی ہے، اخلاقی قدروں کو پامال کر رہی ہے، عزتوں کو خاک میں ملا رہی ہے،اس کے لئے لاک ڈاؤن آزمائش نہیں، عذاب الٰہی بن کر آیا ہے،بلکہ اسی طرح جیسے فرمایا گیا ہے دنیا فاسق و فاجر کے لئے جنت اور مومن کے لئے آزمائش ہے۔کورونا کوئی سازش ہو نہ ہو میں اسے شیطانی فتنہ ضرور کہوں گا، جس نے بچے بچیوں کو کتابوں سے قرآن سے، مساجد سے، حرمین شریفین سے دور کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے16ماہ شیطانی چالوں کے آلہ کار بننے والے طلبہ و طالبات کو اب امتحانات موت نظر آ رہے ہیں۔کچھ کالجوں اور یونیورسٹیوں نے شور مچایا ہوا ہے، ہم نے آن لائن نصاب مکمل کرائے ہیں۔آن لائن امتحان لئے ہیں ان کی رام کہانی کا سروے بھی سن لیں، ان کی مجموعی تعداد 5سے7 فیصد کے قریب ہے ان میں 5فیصد طلبہ و طالبات جو اپنے اداروں سے آن لائن رہے ہیں۔ ان کی کلاسز بی ایس پروگرامات یا میڈیکل کے پروگرام میں مشتمل تھیں۔

عموماً ہمارے جیسے معاشرے میں ہی شاید کہا جاتا ہے مَیں کسی سے انصاف طلب کروں، اندھیر نگری کہہ لیں، ہمارا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ لمحہ ئ  فکریہ ہے، والدین حکومت کی نصاب تعلیم اور امتحانی نظام سے نالاں ہیں اور طلبہ و طالبات کے پلے کچھ نہیں رہا، کا رونا رو رہے ہیں، طلبہ و طالبات شرمندہ ہونے والدین سے معافی مانگنے کی بجائے سڑکوں پر امتحان لینے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، اپوزیشن جسے حکومتی غلطیوں کی نشاندہی کرنی ہوتی ہے۔ پہلی دفعہ دیکھا گیا ہے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وفاقی وزیر سیکرٹری جنرل مسلم لیگ(ن) اسمبلی کے فلور پر مطالبہ کر رہے ہیں۔ 9ویں،10ویں،12ویں، او لیول کے امتحانات نہ لئے جائیں۔ اپوزیشن رہنماؤں کی تقریر کے ایک فقرے نے تو ملک بھر کے سنجیدہ طبقے کے چودہ طبق روشن کر دیئے ہیں، جس میں وہ فرماتے ہیں امتحان نہ لیے تو کیا قیامت آ جائے گی؟حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ اپوزیشن 16ماہ کے تعلیمی اور امتحانی نظام کے ہونے والے نقصان کے ازلے کا پروگرام دیتے، قوم کے مستقبل کو بچانے کے لئے مشترکہ پارلیمانی اجلاس بلایا جاتا، ہنگامی تعلیمی ایمرجنسی کا فیصلہ کیا جاتا اور بچے بچیوں کے ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کے لئے مربوط اور مضبوط لائحہ عمل تک تشکیل دیا جاتا، افسوس ایسا نہ کیا جا سکا،حکومت اور اپوزیشن دونوں سیاست ہی کرتے رہے۔ رواں ہفتے وفاقی وزیر تعلیم کے بیان نے تو حیران ہی کر دیا ہے،جب انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں کے مطالبے اور طلبہ و طالبات کے امتحانات نہ لینے کے مطالبے کے جواب میں کہا ہے، جو کچھ مرضی کر لیں امتحان ہر صورت لیں گے، ساتھ ہی کہا سنٹرل کمانڈ اگر کہہ دے تو امتحان ملتوی کر دیں گے۔اللہ کے بندے آپ وفاقی وزیر تعلیم ہیں، پاکستان بھر کے طلبہ و طالبات کے تعلیمی اور امتحانی نظام کے سیاہ سفید کے مالک،آپ16 ماہ سے زائد تعلیمی اداروں کی بندش سے ہونے والے نقصان کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ آپ کی لچکدار پالیسی کی وجہ سے کیمرج یونیورسٹی نے بھی او لیول اور اے لیول کے حوالے سے کنفیوز پالیسی جاری کر دی ہے۔ جناب والا پاکستان میں تو آپ نے ایف ایس سی کے امتحان سے پہلے انٹری ٹیسٹ لینے کا فیصلہ کر لیا۔ 9ویں، 10ویں، 11ویں، 12ویں کے اختیاری مضامین کا امتحان لے کر پاس کرنے کا فیصلہ کر لیا،40فیصد نصاب کم کر دیا۔ یہ سب منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے ہوا ہے،جہاں لانگ ٹرم پالیسیاں ہیں وہاں کیمرج امتحانات کی ایک سال پہلے ڈیٹ شیٹ دے دیتا ہے۔ اس نے تو زیادتی کی انتہا کر دی ہے۔ 26جولائی سے او لیول کے امتحان شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، آٹھ میں سے صرف پانچ مضامین کے پرچے 2اگست تک مکمل ہوں گے، ان پانچ پیپر کے نتائج اکتوبر میں دینے کی تاریخ دی ہے۔ اکتوبر کے آخر میں بقایا تین پیپر لینے کی ڈیٹ شیٹ جاری کر دی ہے۔ جناب والا آپ نے ایف ایس سی کے داخلے اگست میں کرنے کا پروگرام دیا ہے، اسی لئے آپ نے انٹری ٹیسٹ ایف ایس سی کے امتحان سے پہلے لے لیا ہے۔ اب او لیول کے ایک لاکھ سے زائد طلبہ کو اے لیول میں یا ایف ایس سی میں داخلہ 26جولائی سے شروع ہونے والے پانچ پیپروں کی بنیا پر ملے گا یا ان کے بقایا اکتوبر کے آخر کے تین پیپروں کا انتظار کیا جائے گا۔ او لیول کے ایک لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ان کے ایف ایس سی میں داخلے کا چانس زیرو ہو گیا ہے۔ اندھیر نگری ہے کیمرج نے اکتوبر کے بعد اے لیول اور او لیول کے اگلے امتحان کے لئے25 اپریل2022ء کی ڈیٹ شیٹ بھی جاری کر دی ہے۔ اکتوبر میں فیل ہونے والے کب پیپر دیں گے،اپریل تک چاہ ماہ میں اے لیول کے پہلے سال کے سارے نصاب کو کیسے مکمل کریں گے۔جناب والا یہ آپ کی ذمہ داری ہے اس سنجیدہ مسئلے کی طرف توجہ دیں۔ یہ آپ کی ذمہ داری ہے اس سنجیدہ مسئلے کی طرف توجہ دیں۔ دوسرا 9ویں، 10ویں کے لاکھوں طلبہ وطالبات کے اختیاری مضامین کے پیپر تو آپ لے رہے ہیں،کل نمبر کتنے ہوں گے، پاس ہونے کے لئے نمبر کتنے درکار ہوں گے، سب کچھ اندھیرے میں ہے، میڈیکل کے لاکھوں طلبہ وطالبات بھی سڑکوں پر ہیں،والدین اپنے بچوں کی تعلیمی کارکردگی دیکھ کر پہلے ہی مریض بن گئے ہیں، اب امتحانات کی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے والدین کا جینا دوبھر ہو گیا ہے،والدین پاکستان کے مستقبل میں کروڑوں طلبہ و طالبات کے تعلیمی اور امتحانی نظام جو مفلوج کر دیا گیا ہے، دو عملی کا شکار ہے، کس سے مطالبہ کریں وہ آگے بڑھے پاکستان میں بھی اور کیمرج میں بھی امتحانی نظام کو نئے سرے سے ترتیب دے۔ کیمرج نے ہمارے حکام بالا کی عدم دلچسپی کی وجہ سے پاکستان کے لئے علیحدہ نظام رائج کر رکھا ہے۔ کورونا کی وجہ سے بھارت سے یو کے تک رعایتی نظام دے چکا ہے۔ امید کریں گے پاکستان کا میڈیا، دانشور، کالم نویس اور سوشل میڈیا اہم ایشو کو موضوع بنائیں گے۔ کیمرج یونیورسٹی کے ذمہ دار بھی پانچ پیپر جولائی اور تین پیپر اکتوبر میں لینے کے فیصلے میں ترمیم کریں گے۔ اگر ضد پر قائم رہے تو ایک لاکھ طلبہ ایف ایس سی اور او لیول میں داخلے سے محروم ہو جائیں گے۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.