17

 عیدالاضحی اور ہماری ذمہ داری

 عیدالاضحی اور ہماری ذمہ داری

مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ عیدالاضحی سے چند روز قبل میں نے اپنے والد محترم چودھری محمد دین مرحوم،(جو معروف بزنس مین اور سالارمسلم لیگ نیشنل گارڈ تھے)کو اپنے دوست سے فون پر بات کرتے ہوئے سنا۔ وہ عید قرباں پر قربانی کا جانور لینے کے حوالے سے بات چیت کر رہے تھے، میں بھی ان کی گفتگو سننے لگا اور دل ہی دل میں خوش ہورہا تھا کہ اس بار بھی ہم موٹا، تگڑا اور خوبصورت بیل اور بکرا لے کر آئیں گے، لیکن میری یہ خوشی زیادہ دیر تک نہ رہی جب میں نے اپنے والد صاحب کو کہتے  سنا کہ اس بار ہم قربانی نہیں کر رہے، ہمیں بھی قربانی کا گوشت بھجوا دینا۔ اتنی بات سننا تھی کہ میں افسردہ ہوگیالیکن اتنے میں ہی مجھے خیال آیا کہ چند روز قبل ہمارے کاروبار کے شوروم اور گودام میں آگ لگنے کی وجہ سے بہت بھاری نقصان ہوگیا تھا۔ جس میں سارا سامان اور تجوری میں پڑی رقم جل کر راکھ بن گئی تھی۔ والد صاحب دن رات محنت کی وجہ سے وہ اپنا کاروبار دوبارہ سنبھالنے میں کامیاب ہوگئے۔یہ واقعہ آج سے 45 سال قبل کا ہے۔

اچھا تو بات ہو رہی تھی کہ ہم قربانی نہیں کر سکتے،تو اس وقت کیا کیفیت مجھ پر طاری ہوئی، اسے کوئی نہیں سمجھ سکتا، جو لوگ قربانی نہیں کرپاتے، ان کے گھر کے بچوں پر کیا گزرتی ہوگی مجھے اس کا بخوبی احساس ہے۔قربانی کا مقصد صرف جانوروں کو ذبح کرنا، گوشت یا خون نہیں، درحقیقت اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت ہے۔اللہ تعالیٰ کا قرآن مجید میں ارشادمبارک ہے کہ مجھے قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا ماسوائے تقوی کے۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیاکہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کریں۔یہ باپ اور بیٹے کے لیے بہت بڑا امتحان تھا کہ باپ اپنے بیٹے کو ذبح کرے لیکن اللہ تعالیٰ کاحکم  تھا دونوں باپ بیٹا نے سر تسلیم خم کیا اور باپ اللہ کی راہ میں بیٹے کی قربانی کے لئے تیار ہوگئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی مقصود نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کودنیا کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا جذبہ ایمان و اطاعت دکھانا تھا۔جیسے ہی باپ نے آنکھیں بند کر کے بیٹے کے گلے پر چھری رکھی تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ بہشت سے آئے ھوئے ایک مینڈھے  نے لے لی جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کیا۔ بلاشبہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے گھرانے کی سب سے بڑی قربانی تھی۔ عیدقرباں پر ہمیں غریب غربا، مسکینوں اور یتیموں کا خیال رکھنا چاہیے۔ قربانی میں ان لوگوں کو حصہ دار بنائیں، جو قربانی نہیں کرسکتے، اپنے رشتہ داروں کو گھر میں مدعو کریں یا ہمسایوں کو خوشیوں میں شریک کریں، دوست احباب کا خیال رکھیں۔ عیدالاضحی کے تینوں ایام میں ہر خاص و عام گوشت کا استعمال بکثرت کرتے ہیں اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں لیکن ہمیں گوشت کھاتے وقت اعتدال کی راہ اپنانی چاہیے کہ بلاشبہ گوشت صحت کے اعتبار سے بہترین غذا اور اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ لیکن ایک مخصوص مقدار سے زائد استعمال صحت کے لئے نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے اس لئے اس کا استعمال اعتدال کے ساتھ کریں گے تو صحت کے لئے مفید ہوگا۔ گوشت پکاتے وقت کم سے کم تیل یا گھی استعمال کریں۔ ادرک، لہسن، ہلدی اور گرم مصالحہ ضرور شامل کریں۔ گوشت کے ساتھ سبزیوں کا سلاد ضرور استعمال کریں۔

اطاعت الٰہی دین اسلام کی پیروی ہے۔ وہ دین جو صفائی کو نصف ایمان قرار دیتا ہے۔ ہم لوگ عید کے لئے مہنگے سے مہنگا اور خوبصورت جانور خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں بلکہ ایسے کہیں کہ مہنگے جانوروں کی خریداری باعث فخر سمجھی جاتی ہے تو یہ غلط نہ ہوگا، پھر قربانی تک جانوروں کی خوب آؤ بھگت کرتے ہیں، انہیں چارا ڈالتے ہیں،مربہ جات کھلاتے ہیں، دودھ، مکھن سے تواضع کرتے ہیں،اس کے ساتھ ساتھ ان کی نمائش گلی محلوں اور سوشل میڈیا پر کی جاتی ہے لیکن قربانی کے بعد جانوروں کی اوجھڑیاں، فضلہ اور باقیات سڑکوں، گلی محلوں اور کھلے مقامات پر پھینک دیتے ہیں، ایک طرف ہم لاکھوں روپے جانوروں کی خریداری پر خرچ کرتے ہیں تودوسری جانب چند سو روپے دے کر صفائی نہیں کرواتے جبکہ صفائی ہمارے ایمان کا نصف حصہ ہے۔ اس سے لوگوں کو پریشانی بھی ہوتی ہے، اس کے علاوہ یہ بیماریاں پھیلنے کا سبب بھی بنتے ہیں۔ اس سب کا علم ہونے کے باوجود ہم احتیاط نہیں اپناتے۔ حضرت محمدؐ کا فرمان ہے کہ راہ میں اگر کوئی تکلیف دہ چیز نظر آئے تو اسے ہٹا دو۔ آپؐ  کی ہمیشہ کوشش یہی رہی کہ آپ کے کسی طرز عمل سے دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے۔ حدیث نبویؐ ہے کہ سچا مسلمان وہ ہے، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ تو یہاں ہمیں سوچنا ہوگا کہ جانوروں کی آلائشیں سڑکوں اور کھلے مقامات پر پھینکنے کے عمل سے ہم دوسروں کے لئے پریشانی کا باعث بنتے ہیں، لوگوں کو کن کن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس سے سب بخوبی وقف ہیں بلکہ اس سے جو خطرناک بیماریاں پھیلتی ہیں، اس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ عیدالاضحی کے دنوں میں حکومت تو اپنے طور پر صفائی ستھرائی کے انتظامات کیلئے اقدامات کرتی ہے لیکن ہماری بھی کچھ ذمہ داری ہے کہ ہم جن بکروں، بیل کے تکہ بوٹی، کڑاہی، بریانی اور دیگر چٹ پٹے کھانے کھاتے ہیں، ان کے فضلہ جات اور آلائشیں پھینکنے میں غفلت کا مظاہرہ کیوں کرتے ہیں؟۔ یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ آلائشوں کو شاپر میں ڈال کر محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگائیں تاکہ اس سے دوسروں کو تکلیف بھی نہ پہنچے اور بیماریاں پھیلنے کا بھی خدشہ نہ ہو۔ 

 ہمیں ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دینا ہوگا اور جانوروں کی آلائشوں کو اچھے طریقے سے ٹھکانے لگا کر صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا ہوگا۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.