18

 پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پھر اضافہ

 پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پھر اضافہ

ایک عرصے سے ہمارے معاشی اور معاشرتی ہی نہیں، بلکہ سیاسی منظر نامے پر بھی توانائی کا بحران  چھایا ہوا ہے۔ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کا شعبہ شدید قسم کے مسائل و حوادث کا شکار ہے۔ توانائی کے حصول کے ان ذرائع کی قیمتیں سالانہ یا ماہانہ نہیں،بلکہ ہر دو ہفتے بعد تبدیلی کے عمل سے گزرتی ہیں۔ نتیجتاً اشیاء و خدمات کی لاگت و قیمت بارے حتمی فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سے ایک طرف اندرون ملک مارکیٹ میکانزم متاثر ہوتا ہے۔ اشیائے صرف کی قیمتیں عدم استحکام کا شکار رہتی ہیں، دوسری طرف برآمدات کا شعبہ بھی مستحکم نہیں ہو پاتا، کیونکہ برآمدی مال کی پیداواری لاگت اور قیمت کا تعلق بھی توانائی کے ذرائع کی قیمت سے ہوتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ٹرانسپورٹیشن کے ریٹس میں اضافہ کرتا ہے جس کے نتیجے میں ہر شے کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی ہماری لوکل مارکیٹ میں تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب عالمی منڈی میں گرم بازاری ہوتی ہے تو ہمارے ہاں قیمتوں میں دل کھول کر اضافہ کر دیا جاتا ہے لیکن جب عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کا فائدہ کماحقہ عوام کو نہیں پہنچایا جاتا جو سراسر زیادتی ہے۔ بات اب قیمتوں سے آگے بڑھی ہوئی نظر آنے لگی ہے۔ توانائی کا شعبہ اپنے داخلی معاملات کے حوالے سے دباؤ کا شکار ہے۔ بجلی پیدا کرنے والی لوکل اور غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ کئے گئے معاہدے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ یہ صرف انتظامی مسئلہ ہی نہیں ہے، بلکہ اس کے دیگر پہلو بھی ہیں۔دوسری طرف ہمارے پالیسی سازوں نے، ٹیکس اکٹھا کرنے والے اداروں کی استعدادِ کار بڑھانے کی بجائے ایک آسان راستہ تلاش کر لیا ہے کہ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کرو اور ایسے کرو کہ لوگ پریشان رہیں انہیں سمجھ ہی نہ آئے۔ ہر پندرھواڑے رد و بدل کا اعلان کرکے عامتہ الناس کے دماغ پر دباؤ بڑھا دیا جاتا ہے۔ ہمارے نئے وزیر خزانہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ پٹرولیم کی قیمتوں میں کم از کم 25روپے فی لٹر اضافہ ہونا ہے۔ لیکن یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ عید سے چند دن پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا اعلان کرکے عامتہ الناس کی خوشیوں کو درہم برہم کر دیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے پالیسی سازوں اور دیگر افسروں کو اتنا بھی شعور نہیں کہ سخت فیصلے کو کس طرح قابلِ قبول یا کم تکلیف دہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ حکومت ایسے افراد کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے۔ حکومت نے بجٹ میں ریلیف کے حوالے سے کچھ ٹیکس کم کرنے اور کچھ ختم کرنے کا اعلان کرکے مہنگائی کی چکی میں پستے ہوئے عوام کی مشکلات کا ازالہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ تنخواہوں اور پنشن کے اضافے کا اعلان بھی خوش آئند تھا لیکن اسی دوران جی پی فنڈ پر انکم ٹیکس لگانے کا اعلان کرکے اور پھر واپس لے کر حکومت نے نجانے کیا ثابت کرنے کی کوشش کی۔ پھر بجٹ میں تبدیلیاں کرکے جو اکھاڑ پچھاڑ کی گئی اس بارے میں ناقدین کا کہنا تھا کہ ٹیکس چھوٹ کے نتیجے میں وصولیوں کے اہداف پورا کرنے کے حوالے سے حکومت نے کچھ نہیں بتایا، اس لئے لگتا ہے کہ ریلیف کی باتیں جھوٹ ہی ثابت ہوں گی۔ ابھی بجٹ دستاویز کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی کہ حکومت نے بڑی بے رحمی کے ساتھ ٹیکس اکٹھا کرنے کے لئے نہ صرف بجلی و پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کر لیا، بلکہ یوٹیلٹی سٹور پر مہیا کی جانے والی اشیائے صرف کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اسی طرح ناقدین کے خدشے سچ ثابت ہونے لگے ہیں اور عوام کو ریلیف دیئے جانے کے دعوؤں کی حقیقت کھلنے لگی ہے۔

بات دراصل یہ ہے کہ ہماری معیشت، سردست قرض خواہوں کی سخت نگرانی میں ہے۔ ہم ان سے مزید قرض لینا چاہتے ہیں، ان کی ادائیگی بھی ہمارے ذمے ہے وہ اپنی شرائط ہم سے منوانا چاہتے ہیں۔ ان کی شرائط کا محور ”ٹیکس وصولیوں کے اہداف اور ان کا یقینی حصول“ ہے، تاکہ ان کے قرضوں کی واپسی یقینی بنائی جا سکے۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں ان کے نقطہ ء نظر سے درست ہوتا ہے، لیکن ان کے نفاذ سے، ان کی شرائط پوری کرنے کے نتیجے میں عوام پر بہت زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔ مہنگائی ہوتی ہے اس کے سیاسی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اب حالت یہ ہو چکی ہے کہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنا حماقت ہی ہوگی، اس لئے حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط کو من و عن قبول کرنے اور عوام پر لادنے کی حماقت نہیں کی، لیکن آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرنے کی درخواست سے دستبرداری بھی نہیں کی۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ہم 3ماہ تک آپ کی معاشی کارکردگی دیکھیں گے، اگر معیشت نے ویسے ہی پرفارم کیا، جیسے آپ کہہ رہے ہیں تو پھر اگلا پروگرام دینے کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے بجٹ کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی وصولیوں کے سہ ماہی اہداف حاصل کرنے کی حکمت عملی پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔بجلی،گیس اور یوٹیلٹی سٹورز کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ اسی حکمت عملی کا عکاس ہے۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.