20

شاہراہوں پر قتلِ عام 

عید سے دو روز پہلے 34 گھرانوں پر قیامتِ صغریٰ ٹوٹ پڑے، تو کیسی عید اور کیسی خوشیاں، ڈیرہ غازیخان میں تونسہ موڑ پر بس اور ٹرالر کے درمیان ہونے والا حادثہ اس حوالے سے انتہائی دکھ دے گیا ہے کہ اس میں جاں بحق ہونے والے سب مزدور تھے، جو سیالکوٹ سے عید کی خوشیاں منانے ڈیرہ غازیخان اور راجن پور آ رہے تھے۔ سیالکوٹ میں ایک تعمیراتی پراجیکٹ پر کام کرنے والے یہ مزدور اپنے لواحقین کی زندگیوں کا سہارا تھے، حادثے کے بعد لوگ ان مزدوروں کے سامان میں بچوں کے کھلونے، عید کے کپڑے، مصنوعی جیولری کے زیورات دیکھ کر اشکبار ہو گئے۔ مرنے والے یہ چیزیں اپنے بچوں اور اہل خانہ کے لئے لا رہے تھے، انہیں کیا معلوم تھا، یہ اشیا بھی مٹی میں مل جائیں گی اور وہ خود بھی مٹی کا رزق بن جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اس سانحے پر وزیر اعلیٰ معائنہ ٹیم کے چیئرمین کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی بنا دی ہے، جو اس حادثے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔ تاہم یہ کوئی مشکل بات نہیں، اس حادثے کا بھی ایک ہی سبب ہے اور وہ ہے غیر محتاط ڈرائیونگ اور تیز رفتاری، حادثے کا شکار ہونے والی بس بہت پرانی تھی، غالباً صبح کے وقت رات کے چلے ہوئے بس ڈرائیور کو اونگھ آ گئی اور اسی اونگھ کی وجہ سے بس سامنے سے آنے والے بڑے ٹرالر سے جا ٹکرائی، حادثہ اس قدر شدید تھا کہ بس کا ایک حصہ بالکل اُدھڑ کر رہ گیا۔ اس طرف جو درحقیقت ڈرائیور والی سائیڈ تھی ڈرائیور سمیت کوئی بھی نہیں بچا۔ بس اوور لوڈنگ کا شکار تھی  اور عید کی وجہ سے غالباً ایک سیٹ پر دو دو مسافر بٹھائے گئے اور بہت سے کھڑے ہو کر سفر کر رہے تھے، جس کی وجہ سے بس کا توازن بھی خراب ہوا اور اموات بھی زیادہ ہوئیں۔

حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی زیادہ تر تعداد راجن پور کی تھی، جبکہ ڈیرہ غازیخان کے جاں بحق ہونے والے دوسرے نمبر پر تھے، گویا سیالکوٹ ہی سے یہ بس راجن پور اور ڈی جی خان کے مسافروں کی بڑی تعداد لے کر روانہ ہوئی، ڈرائیور جس کا تعلق گوجرانوالہ سے تھا۔ نجانے کتنے دنوں سے آرام کے بغیر ڈرائیونگ کر رہا تھا۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے گاڑیاں آپس میں آمنے سامنے سے ٹکرا جائیں۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے ڈرائیونگ پر ڈرائیور کا کنٹرول نہ رہے یا پھر اسے نیند یا اونگھ آ گئی ہو۔ یہ حادثہ چونکہ موڑ پر پیش آیا اس لئے امکانِ غالب یہ ہے ڈرائیور کو ٹرالے کا اگلا حصہ تو نظر آیا مگر وہ پچھلا حصہ نہ دیکھ سکا اور بس اس میں  جا لگی۔ پبلک ٹرانسپورٹ ایک ایسا بے لگام گھوڑا بن گئی ہے، جسے کسی قانون قاعدے کی پروا نہیں، ابھی کچھ عرصہ پہلے موٹر وے پولیس نے پے در پے حادثات کی وجہ سے ایک نجی ٹرانسپورٹ کمپنی کی موٹر وے پر سروس بند کر دی تھی۔ جہاں موٹر وے پر بھی حادثات ہوتے ہوں وہاں سنگل ٹریک پر کیسے نہیں ہوں گے؟ ٹرانسپورٹر ایک ایسا مافیا بن گئے ہیں، جن پر حکومت ہاتھ ڈالنے سے قاصر ہے۔ من مانے کرائے وصول کرتے ہیں، بغیر لائسنس کے ڈرائیور رکھتے ہیں، گاڑیوں کی فٹ نس پر توجہ نہیں دیتے، کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ چکر لگواتے ہیں، ڈرائیوروں کو ریسٹ نہیں دیتے اور بے آرامی کی وجہ سے وہ سڑکوں پر ڈیرہ غازیخان جیسے قتل عام کا باعث بن جاتے ہیں۔

ہمارے ہاں کہنے کو موٹر وے پولیس بھی ہے اور ہائی وے پٹرولنگ پولیس  بھی مگر پھر بھی حادثات اتنے زیادہ ہیں  کہ شاید دنیا میں کہیں ہوتے ہوں۔ کوئی دن ہی جاتا ہوگا کہ سینکڑوں حادثات کی خبریں نہ ملتی ہوں، 1122 کے اعداد و شمار اٹھا کے دیکھیں تو دل دہل جاتا ہے، روزانہ بیسیوں لوگ زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں اور سینکڑوں اپنے اعضا سے محروم ہو جاتے ہیں، عمر بھر کے لئے بعض اوقات زندہ لاش بن جاتے ہیں اوور سپیڈنگ اور اوور لوڈنگ دو ایسی خرابیاں ہیں، جو حادثات کو جنم دینے کا بنیادی سبب ہیں۔ مسافروں کو چھتوں پر بٹھا کر اکثر ڈرائیور ایسے بس چلا رہے ہوتے ہیں، جیسے موت کے کنوئیں میں موٹر سائیکل چلا رہے ہوں۔ یہ سب سامنے کی چیزیں ہیں۔ مگر ہائی وے پولیس کو نظر نہیں آتیں، ڈرائیوروں کا مقولہ یہ ہے ٹول ٹیکس ادا کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس ٹیکس بھی جیب میں رکھو پھر چاہے جو مرضی کرتے رہو۔ ٹرانسپورٹ کا شعبہ ہمیشہ ایک منافع بخش کاروبار رہا ہے۔ جب سے نئی نئی کمپنیاں آئی ہیں، بسوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے اور مقابلے کا رجحان  بھی، مقابلے کا رجحان ایک اچھی بات ہے،مگر اسے قانون کے دائرے میں رہنا چاہئے۔ اس شعبے میں پولیس اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جس طرح رفتار کی حد مقرر ہے اسی طرح ایک شہر سے دوسرے شہر تک جانے کا وقت بھی متعین ہونا چاہئے۔ اس سے تیز رفتاری کے رجحان کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ اگر کوئی گاڑی اوورسپیڈنگ کی وجہ سے مقررہ وقت کی بجائے پہلے پہنچتی ہے تو اس کے ڈرائیور کا لائسنس منسوخ ہونا چاہئے۔ اب تو ٹرانسپورٹ کمپنیاں ایسے ڈرائیوروں کو شاباش دیتی ہیں۔

سڑکوں کو مقتل بنانے کا یہ سلسلہ آخر کب رکے گا؟ صرف پبلک ٹرانسپورٹ ہی نہیں عام گاڑیوں کے ڈرائیور بھی روڈ سینس نہیں رکھتے۔ موٹر وے پر ایک سپیڈ موجود ہے مگر زیادہ تر چالان اوور سپیڈنگ کی وجہ ہی سے ہوتے ہیں۔ ٹریفک قوانین کی پابندی کو ہمارے ہاں ایک قسم کی توہین سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر اعلیٰ گھرانوں کے مرد و زن کسی ٹریفک سارجنٹ کے روکنے پر آگ بگولہ ہو جاتے ہیں بڑے شہروں میں موٹر وہیکلز ایگزامینر موجود ہیں، مگر یہ ادارے رشوت کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں بغیر گاڑی کا معائنہ کرائے فٹنس سرٹیفکیٹ بآسانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کو بڑھتے ہوئے حادثات کے مسئلے پر فوری توجہ دینا ہو گی۔ اس کے لئے اعلیٰ سطحی قومی کمیٹی بنائی جائے جو اس معاملے کا ہر پہلو سے جائزہ لے کر اپنی رپورٹ اور تجاویز پیش کرے۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.