24

شاہین کے ’فلائنگ کس‘ بھی تنقید کی زد میں آگئے

موجوہ مینجمنٹ اور پی سی بی کو مزید 3 سال دیں ٹیم کوآخری نمبر پرپہنچا دیں گے

موجوہ مینجمنٹ اور پی سی بی کو مزید 3 سال دیں ٹیم کوآخری نمبر پرپہنچا دیں گے

 کراچی:  شاہین شاہ آفریدی کے ’فلائنگ کس‘ بھی تنقید کی زد میں آگئے، سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کتہے ہیں کہ صرف ایک وکٹ کے بعد اس طرح خوشی منانا زیب نہیں دیتا، ہوائی بوسوں اورگلے لگنے کیلیے کم سے کم 5 وکٹیں تو لیتے، شکست کیلیے بہانے بنانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے، موجودہ مینجمنٹ اور پی سی بی کو مزید 3 برس دیں تاکہ ہماری ٹیم سب سے آخر میں پہنچ جائے۔

تفصیلات کے مطابق انگلینڈ کے خلاف دوسرے ون ڈے میں پاکستان کے شاہین شاہ آفریدی نے صرف ایک وکٹ لی تاہم ان کی جانب سے خوشی منانے کا انداز تنقید کی زد میں آگیا ہے، سابق اسپیڈ اسٹار شعیب اختر نے خاص طور پر پیسرکے فلائنگ کس پر شدید اعتراض کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ شاہین آفریدی اتنی وکٹیں نہیں لیتے جتنے ہوائی بوسے اچھالتے ہیں، انھیں گلے لگنے اور اس طرح فلائنگ کس کرنے کیلیے کم سے کم 5 وکٹیں تو لینا چاہئیں، صرف ایک وکٹ کے حصول پر اس انداز میں خوشی منانے کا کیا جواز بنتا ہے۔

یاد رہے کہ انگلینڈ کی دوسرے درجے کی ٹیم نے بھی پاکستان کو 52 رنز سے مات دے دی تھی، 47 اوورز تک محدود میچ میں گرین شرٹس 248 رنز کا ہدف حاصل نہیں کرپائے تھے، شعیب اختر کہتے ہیں کہ ٹیم آپس میں ہم آہنگ نہ تھی جیسے بہانے بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، انگلینڈ کی ٹیم بھی میچ سے صرف ڈھائی روز قبل تشکیل دی گئی تھی مگر وہ آپس میں ہم آہنگ ہوگئے جبکہ 30 روز سے ایک ساتھ رہنے کے باوجود آپ لوگ ہم آہنگ نہیں ہوسکے۔

آپ تو انگلینڈ کی اکیڈمی ٹیم سے بھی ہار گئے۔ شعیب اختر کا مزید کہنا تھا کہ میں یہ بات واضح طور پر کہہ رہا ہوں کہ موجودہ مینجمنٹ اور پی سی بی کو مزید 3 برس کا وقت دیں تو ہماری ٹیم سب سے نیچے پہنچ جائے گی، اس ٹیم میں نہ تو کوئی کھیل کی سمجھ ہے اور نہ ہی فائٹ کرنا جانتی ہے، اگر یہ ٹیم 1996 میں ہوتی تو ملک کی نمائندگی تو کیا کوئی انھیں ’بال پکر‘ تک نہ بناتا ، موجودہ سائیڈ میں کوئی ایک ایسا پلیئر نہیں ہے جوکہ کسی بچے کیلیے کرکٹر بننے کی تحریک کا باعث بن سکے۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.