32

اماراتی خلائی جہاز نے مریخ کی ’پراسرار قطبی روشنیوں‘ کی تصویریں بھیج دیں

دبئی سٹی: متحدہ عرب امارات نے چند ماہ قبل مریخ پراپنا پہلا خلائی جہاز روانہ کیا تھا۔ یہ مریخ پر اترنے کی بجائے اس کے گرد مدار میں چکر کاٹ رہا ہے اور اب اس نے مریخی ارورا کی انتہائی خوبصورت تصاویر بھیجی ہیں۔

اُمید (ہوپ) نامی مداروی جہاز 19 جولائی 2020 کو روانہ کیا گیا تھا جو 9 فروری 2021 کو مریخی مدار کی گرفت میں آیا تھا۔ اس کی تیاری میں امریکی یونیورسٹٰی آف کولاراڈوکا خصوصی تعاون بھی شامل تھا۔ اب مریخ کی نئی تصاویر سے معلوم ہوا ہے کہ ماضی میں سرخ سیارہ گہری فضائی چادر رکھتا تھا جو اربوں سال کے دوران غائب ہوگیا۔

کرہِ ارض پربھی قطیبن پر ارورا عام دیکھے جاسکتے ہیں جنہیں ناردرن لائٹس بھی کہا جاتا ہے۔ جب بلند توانائی والے ذرات زمینی فضا سے ٹکراتے ہیں تو وہ دمکنے لگتے ہیں۔ اس میں ارضی مقناطیسی نظام غیرمعمولی کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن واضح رہے کہ مریخ کا قدرتی مقناطیسی میدان ہماری زمین جیسا ہرگز نہیں ہے۔

تاہم سیاراتی ارضیات دانوں کا اصرار ہے کہ سرخ سیارے مریخ کا اندرونی قشر(کرسٹ) اب تک مقناطیسیت رکھتا ہے۔ اب اسے مریخ پر بھی دیکھا گیا ہے جسے ڈسکریٹ ارورا کا نام دیا گیا ہے۔ یہ دھبے نما روشنی مریخی رات کو لی گئی ہے تاہم عام دن کی روشنی میں یہ دکھائی نہیں دیتی۔

’یہ اورارا بہت دھیمی روشنی والے ہیں اور دن کی روشنی محسوس کرنے والے جدید ترین آلات اگرچہ دن کی روشنی میں تصاویرسازی کے لیے ڈیزائن کئے گئے ہیں تاہم امید خلائی جہاز بالائے بنفشی (الٹراوائلٹ) شعاعوں کی بھی تصویر لے سکتا ہے اور اس طرح مریخی ارورا کو تفصیل سے دیکھا گیا ہے۔

انہیں سمجھ کر ہم جان سکتے ہیں کہ مریخ ایک اہم فضائی غلاف رکھنے والا سیارہ تھا جو اب بے فضا اور بے جان ہوچکا ہے۔ لیکن اس ضمن میں مریخی ارورا بننے کے پورے عمل کو سمجھنا ضروری ہے۔ واضح رہے کہ امید مریخی جہاز نے مدار میں جاتے ہیں تصاویر لی تھیں اور دو برس کے مشن میں وہ مزید تفصیلات ہم تک بھیجے گا۔

The post اماراتی خلائی جہاز نے مریخ کی ’پراسرار قطبی روشنیوں‘ کی تصویریں بھیج دیں appeared first on ایکسپریس اردو.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.