28

تیل، گیس اور کوئلے کی ’’قاتل آلودگی‘‘ نے 10 لاکھ انسان مار ڈالے، تحقیق

فضائی آلودگی کی سب سے خطرناک قسم وہ ذرّات ہوتے ہیں جن کی جسامت 2.5 مائیکرون یا اس سے کم ہوتی ہے۔ (تصاویر: انٹرنیٹ/ ای پی اے)

فضائی آلودگی کی سب سے خطرناک قسم وہ ذرّات ہوتے ہیں جن کی جسامت 2.5 مائیکرون یا اس سے کم ہوتی ہے۔ (تصاویر: انٹرنیٹ/ ای پی اے)

واشنگٹن / مونٹریال / بیجنگ: ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ رکازی ایندھن (فوسل فیول) کی آلودگی سے 2017 میں دس لاکھ سے زیادہ انسان موت کا نوالہ بن گئے۔

واضح رہے کہ معدنی تیل، گیس اور کوئلے کو مجموعی طور پر ’’رکازی ایندھن‘‘ (فوسل فیول) کہا جاتا ہے۔

امریکی، کینیڈین اور چینی ماہرینِ ماحولیات کی اس مشترکہ تحقیق میں کیمیائی مادّوں کے فضا میں پھیلنے سے متعلق مختلف سائنسی ماڈلز استعمال کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 2017 میں مجموعی طور پر دنیا بھر میں ہونے والی 5 کروڑ 60 لاکھ اموات میں سے کم از کم 10 لاکھ اموات کی وجہ رکازی ایندھن کے باعث پیدا ہونے والی فضائی آلودگی تھی۔

فضائی آلودگی کی سب سے خطرناک قسم وہ ذرّات ہوتے ہیں جن کی جسامت 2.5 مائیکرون یا اس سے کم ہوتی ہے۔ ماحولیات کی زبان میں انہیں ’’پی ایم 2.5‘‘ (PM2.5) کہا جاتا ہے۔

یہ ذرّات نہ صرف لمبے عرصے تک فضا میں معلق رہتے ہیں بلکہ سانس کے ذریعے پھیپھڑوں تک پہنچتے ہیں اور خون میں جذب ہو کر انسانی صحت کےلیے شدید نوعیت کے خطرات کو جنم دے سکتے ہیں۔

اگر فضا میں پی ایم 2.5 کی آلودگی بڑھ جائے تو یہ متعدد بیماریوں کے علاوہ موت کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

آن لائن ریسرچ جرنل ’’نیچر کمیونی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، اگر صرف چین اور بھارت میں بڑے پیمانے پر کوئلہ جلانے سے خارج ہونے والے پی ایم 2.5 ذرّات ختم کردیئے جائیں تو دنیا بھر میں آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریاں بھی 20 فیصد کم ہوجائیں گی۔

پی ایم 2.5 کی فضائی آلودگی لکڑی اور کوئلہ جلانے والے گھریلو چولہوں سے لے کر تیل، گیس اور کوئلے پر چلنے والے بڑے بجلی گھروں تک سے خارج ہوتی ہے۔

اگر فضا میں پی ایم 2.5 ذرّات کی فی مکعب مقدار 35 مائیکروگرام سے بڑھ جائے تو وہ انسانی صحت کےلیے خطرہ بن جاتے ہیں جبکہ 250 سے 500 مائیکروگرام کی شرح پر یہ ’’ہلاکت خیز‘‘ فضائی آلودگی قرار دیئے جاتے ہیں؛ کیونکہ تب کھلی فضا میں سانس لینا، موت کو دعوت دینے کے مترادف ہوتا ہے۔

تازہ تحقیق میں دنیا کے 21 علاقوں سے فضائی آلودگی اور اموات سے متعلق 2017 کا ڈیٹا جمع کرکے کھنگالا گیا جو مجموعی طور پر 204 ملکوں اور 200 مقامات (بالخصوص شہروں) کا احاطہ کرتا ہے۔

تجزیئے سے معلوم ہوا کہ 2017 کے دوران بیشتر ملکوں میں فضائی آلودگی کی شرح، عالمی ادارہ صحت کی مقرر کردہ محفوظ حد سے کہیں زیادہ رہی جبکہ اُس سال تقریباً 20 فیصد اموات، ممکنہ طور پر پی ایم 2.5 ذرّات کی فضائی آلودگی سے ہوئی تھیں۔

البتہ ان میں سے بھی 10 لاکھ اموات کی تقریباً یقینی وجہ فضائی آلودگی کو قرار دیا جاسکتا ہے۔

اس تحقیق سے مزید معلوم ہوا کہ زیادہ فضائی آلودگی والے ملکوں میں اموات بھی زیادہ واقع ہوئیں جبکہ اضافی اموات کے ظاہری اسباب میں دل کی بیماریاں، فالج، سانس کے مختلف امراض، پھیپھڑوں کا سرطان اور ذیابیطس تک شامل تھے۔

فضائی آلودگی سے بڑے پیمانے پر اموات کے علاوہ بچوں کی قبل از وقت پیدائش، پیدائشی نقائص اور بیماریوں جیسے اضافی مسائل بھی آج ایک تلخ حقیقت کا درجہ رکھتے ہیں جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

ویسے تو بیشتر ممالک نے فضائی آلودگی کم کرنے کےلیے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کردیا ہے لیکن اب بھی بہت سے ملک اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنے سے گریز کررہے ہیں جس کی وجہ سے بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی اب تک قابو سے باہر ہے۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.