14

طالبان کا اثرورسوخ بڑھنے پر امریکا افغانستان پر دوبارہ حملہ کرسکتا ہے، نیویارک ٹائمز

امریکا افغانستان چھوڑنے کے بعد بھی طالبان کا بڑھتا اثر دیکھ کر حملے کیلیے بمبار ڈرون اور جنگی طیارے بھیج سکتا ہے،رپورٹ (فوٹو : انٹرنیٹ)

امریکا افغانستان چھوڑنے کے بعد بھی طالبان کا بڑھتا اثر دیکھ کر حملے کیلیے بمبار ڈرون اور جنگی طیارے بھیج سکتا ہے،رپورٹ (فوٹو : انٹرنیٹ)

 نیویارک: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا افغانستان میں طالبان کے اثرورسوخ بڑھنے پر دوبارہ حملہ آور ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ افغانستان میں ’غیر معمولی بحران‘ اور طالبان کے اثرورسوخ کے پیش نظر امریکا اپنے بمبار ڈرون اور جنگی طیارے بھیج سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ افغانستان میں فوجی اڈے چھوڑنے کے بعد امریکا کو طویل عرصے تک طالبان کے حملے روکنے میں مشکلات کا سامنا ہوگا، اس کے لیے خلیج فارس  میں قائم امریکی فوجی اڈے کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اخبار کے مطابق امریکی حکام نے انہیں بتایا ہے کہ امریکا مستقبل میں اس وقت افغانستان میں انسداد دہشت گردی آپریشن کے تحت حملے کرے گا جب اس سے امریکا کو براہ راست کوئی خطرہ محسوس ہوگا۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا سمیت نیٹو اتحاد کی افواج کا افغانستان سے انخلا ہو رہا ہے۔ افواج کے انخلا کی آخری تاریخ 11 ستمبر ہے تاہم امریکی پینٹاگون کا ماننا ہے کہ انخلا جولائی میں ہی مکمل ہوسکتا ہے۔

امریکی انتظامیہ کو افواج کے انخلا اور افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات کاسامنا ہے۔ جب سے امریکی صدر جوبائیڈن نے افواج کے انخلا کا حکم دیا ہے تب سے امریکا کے عسکری حکام کو تشویش لاحق ہے کہ دوبارہ افغانستان میں حالات بگڑ سکتے ہیں اوراس سے سب سے زیادہ نقصان افغان فورسز کو ہوگا۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.