16

نفرتوں سے کہہ دو دور جا بسیں 

”نفرتوں“ سے کہہ دو، دور جا بسیں 

مغلیہ خاندان کے آخری تاجدار نے شاعری بھی کی اور ان کا آخری کلام ان کی مایوسیوں کا بھی علمبردار ہے۔ بہادر شاہ ظفر نے غزل کہی، ”لگتا نہیں ہے دِل میرا، اجڑے دیار میں“ اسی کے ایک مصرع سے ہم نے تھوڑی سی ترمیم کی کہ زمانہ حال کے مطابق ہو گیا ”ان نفرتوں، سے کہہ دو، کہیں اور جا بسیں، اتنی جگہ نہیں ہے، میرے اس دیار میں“ یہ گذارش اِس لئے کی کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں کینیڈا میں نسلی اور مذہبی تعصب کی بھینٹ چڑھنے والے پاکستانی نژاد خاندان کے حوالے سے حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف میں اتفاق رائے پایا گیا اور یہ طے ہوا کہ ”اسلامو فوبیا“ کے حوالے سے عالمی پارلیمانی انفرنس بلائی جائے،اسی اتفاق رائے کے حوالے سے ہم نے یہ عرض کیا کہ نفرتوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اور نفرتوں کی ہی بنا پر ہمارا دِل حقیقتاً اتنا داغدار ہو چکا کہ اس میں اور کوئی گنجائش ہی نہیں ہے،ویسے یہ پہلی بار نہیں کہ اراکین میں ایسا اتفاق رائے ہوا ہو۔یہ تو پہلے ہی کئی بار ہوا،ابھی تھوڑے دن قبل ہی اسی ایوان نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں بھی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی تھی، قارئین اور ہم سوچتے ہیں کہ اگر ایسے قومی اور بین الاقوامی امور کے حوالے سے اتفاق رائے ہو سکتا ہے، تو قومی اور عوامی مسائل کے حوالے سے کیوں نہیں ہوتا،

ان مسائل کے حوالے سے توحزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف ایک دوسرے کے لتّے لیتی نظر آتی ہے۔ معذرت کے ساتھ کہ ہمارے محترم وزیراعظم عمران خان ”کالا لوگ“ سے ہاتھ ملانا تو دور کی بات، ان سے آمنے سامنے بات چیت بھی نہیں کرنا چاہتے، کہ کہیں ان کا کرپشن والا بیانیہ ہی کمزور نہ پڑ جائے،حالانکہ ایسا تو نظر ہی آ رہا ہے،ابھی تک سندھ میں پیپلزپارٹی اور وسطی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے ووٹ بنک کو کوئی فرق نہیں پڑا، کپتان ہیں کہ ایک اینڈ پر ڈٹ کر کھڑے ہیں، اگرچہ ابھی تک وہ22 ہزار ارب ڈالر منگوائے نہیں جا سکے،جو سوئٹزر لینڈ کے بنکوں میں پڑے ہیں اور نہ ہی پارک لین لندن، فرانس اور سپین میں موجود ”سیاسی محلوں“ کے عوض کچھ وصول ہوا اور یوں قومی خزانے میں آئی ایم ایف اور دوست ممالک کے تعاون ہی سے زرمبادلہ پڑا ہوا ہے۔ ہم نے کئی بار عرض کیا کہ کرپشن اور قومی امور کو الگ الگ رہنے دیں اور ان سے اسی طرح نمٹیں، احتساب جاری رہے،رکے نہ،اور عدالتیں اپنا کام کرتی رہیں، حکومت اور حزبِ اختلاف قومی مسائل اور امور کے حوالے سے تعاون کریں اور پارلیمان کو چلتا رہنے دیں کہ اس طرح ”نفرتوں“ میں کمی ہو گی، اور یہ کہیں دور  جا بسیں گی۔

کینیڈا میں ہونے والی اس واردات نے بھی ہلا کر رکھ دیا ہے،کتنی سفاکی سے ایک گورے ڈرائیور نے خبث باطن کا مظاہرہ کیا اور ایک پورے خاندان کو کچل ڈالا، کینیڈین وزیراعظم بھی بڑے اعتدال پسند ہیں اور انہوں نے نوٹس بھی لیا ہے، تاہم ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی مطمئن نہیں،ان  کا کہنا ہے کہ کینیڈین وزیراعظم بھی نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی پیروی کریں،اسی سے اندازہ لگا لیں کہ جب انصاف ہوتا نظر آئے تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے، کہ ہم جو  ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے، اس امر پر متفق ہیں کہ دُنیا کو ”نفرتیں“ ختم کرنا ہوں گی۔

یہ دکھ کی بات ہے کہ کس طرح ایک سفاک ڈرائیور  نے ”نفرت“ کی بنا پر ایک پورے گھرانے کو اس کی بھینٹ چڑھا دیا، کیا یہ ضرورت یہاں نہیں کہ ہم اپنی نفرتوں کو دفن کریں اور اپنی سماجی روایات اور دینی احکام پر عمل کر کے ”نفرت، سے نفرت، کریں“ ابھی تو دو روز پہلے کی بات ہے کہ دو مسافر ریل گاڑیوں کے تصادم کا سانحہ پیش آیا، اندوہناک حادثہ ہے اس میں بھی کنبے جاں بحق ہوئے اور پاکستان کے شہریوں کے دِل غم سے بھر گئے، جائے حادثہ پر امدادی سرگرمیوں کی یہ کیفیت تھی کہ سرکاری تعاون اور مدد کے پہنچنے سے قبل، زندہ بچ جانے والے مسافر اور اردگرد سے دیہات والے شہری اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں کر رہے تھے، اور یوں یہ تاثر پھر سے پیدا ہوا کہ نفرتوں کے اس دور میں بھی ”ہمدردی“ کہیں نہیں گئی اور نقص جو بھی ہے وہ اوپر ہے،اور شاید یہ بھی ”جنیاتی مسئلہ“ ہے، مسافر ریل گاڑیوں کے حوالے سے جو شواہد سامنے آ رہے ہیں وہ تکنیکی نوعیت کے عام فہم بھی ہیں، اور ان پر بات کرنا کچھ مشکل بھی نہیں،لیکن یہاں تو حالات یہ ہیں کہ حزبِ اختلاف کا سارا زور حزبِ اقتدار کو رگیدنے پر ہے،

جبکہ حزبِ اقتدار کا کھیل جیسا رویہ ہے اور مَیں نہ مانوں والی بات ہے، قومی اسمبلی مقدس ایوان ہے،لوگ یہاں اپنے نمائندے منتخب کر کے بھیجتے ہیں کہ ان کو اور ان کی آنے والی نسلوں کو تحفظ ملے گا،لیکن یہاں تو صورتِ حال یہ ہے کہ ”نفرتوں“ نے اپنی جڑیں اور مضبوط کر لی ہیں کہ ”محبتوں“ پر بات ہی نہیں ہوتی، فواد حسین چودھری نے کتنے ”پولے“ منہ سے مسافر گاڑی اور پہلے حادثات کو اپوزیشن کے کھاتے میں ڈال دیا اور خود کو بری الزمہ قرار دے لیا ہے،لیکن ایسے بیانات سے تو جان نہیں چھوٹتی، بات پر بات ہوتی رہے گی، اور سوال مگر یہ ہے کہ کیا حالات بھی ”جوں کے توں“ رہیں گے؟

ہماری خواہش اور عرض ہے کہ ”نفرتوں سے کہیں،کہیں دور جا بسیں“ اتنی جگہ نہیں ہے، ہمارے دِل داغدار ہیں“ ریل حادثے کے حوالے سے اب تک کی اطلاعات ایک مخصوص ٹکڑے میں ریلوے پٹڑی کی خستہ حالی ہے،اس  سلسلے میں ایک مثال سے عرض کرتے ہیں۔

پاکستانی شہریوں کو یاد ہو گا کہ لاہور، گوجرانوالہ کے درمیان کالا شاہ کاکو کے مقام پر حادثات ہوتے رہتے تھے کہ توہم پرستی بھی غالب ہوئی اور مسافر مسلسل پریشان تھے اور پھر وہ دن آیا، جب یہاں سڑک کی توسیع ہوئی اور حادثات بھی رُک گئے،وجہ تکنیکی تھی کہ اس مقام پر سڑک میں ایک ”چور خم“ تھا، ڈرائیور حضرات تیز رفتاری کے باعث احساس نہ کر پاتے اور حادثات ہوتے تھے۔ تعمیر نو میں یہ خم دور ہوا تو حادثات بھی ختم ہو گئے تھے۔

مزید :

رائےکالم



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.