14

     شہید کی موت۔۔۔۔ مشن کی حیات 

     شہید کی موت۔۔۔۔ مشن کی حیات 

ڈاکٹر نذیر احمد شہید نے والد بزرگوار کی زندگی سے بڑے سبق سیکھے۔ نہ حالات کی تنگی سے گھبرائے نہ جہد مسلسل سے پہلو تہی اختیار کرنے کا سوچا۔ والد بزرگوار نے یتیمی کی تلخیاں اور محرومیاں ثابت قدمی سے جھیلیں۔ جالندھر ضلع سے دھکے کھاتے ہوئے لائلپور (فیصل آباد) آ گئے۔ ہل چلانے کے قابل ہوئے تو خوب محنت کی۔ اللہ تعالیٰ نے چار پیسے دے دئے  تو 19/20 سال کی عمر میں حج بیت اللہ کا قصد کیا۔ کئی مہینوں کا سفر ہوتا تھا۔ سن 26/27 بڑے پر آشوب دن تھے۔ غربت، تہی دامنی اور  پیدل سفر تھے۔ سمندر میں دخانی کشتیوں کا سفر ہوتا تھا۔ بحری قزاق حاجیوں کو لوٹ لیتے،  کشتیاں طوفان میں پھنس کر ڈوب جاتیں۔ قسمت والے حج بیت اللہ کے مناسک پورے کر پاتے، اور مدینہ منورہ میں روضۂ رسولؐ کی زیارت اور درود  و سلام کے نذرانے پیش کر پاتے۔

والد بزرگوار حاجی میاں اللہ بخش مرحوم کو قدرت راجن پور تحصیل و ضلع ڈیرہ غازی خان لے آئی۔ انگریز حکومت نے جیسے نیلی بار کے علاقے آباد کرائے تھے،  اسی طرح ڈیرہ غازی خان میں بھی فاضل پور سے 2 میل مغرب میں نظام آباد بستی بسائی۔ 13 گھرانے وہاں آباد ہوئے۔ سو سو بیگھے غیر آباد زمین ہر ایک کو دی گئی، کہ شرائط پوری ہونے کے بعد حقوق ملکیت ملیں گے۔ خاندان میں کوئی ایک بشر بھی سکول کا منہ نہ دیکھ پایا تھا۔ خاندان کا پہلا فرد بھائی جان ڈاکٹر نذیر احمد سکول گئے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، عشر، صدقات، خیرات، ضرورت مندوں کی ضروریات کی طرف والد صاحب کی توجہ بہت تھی۔ 

   13 فروری 1929 کو پیدا ہونے والے  ڈاکٹر صاحب شہید کی تربیت بھی اسی ماحول میں ہوئی۔ ایمرسن کالج ملتان میں داخل ہوئے تو ڈاکٹر عبدالجبار شاکر سے دوستی ہوئی۔ دونوں مولانا خان محمد ربانی مرحوم امیر جماعت اسلامی ملتان کے شاگرد اور نیاز مند بن گئے۔ ڈاکٹر صاحب شہید کالج کے دوسرے سال میں جماعت اسلامی کے وفد کے ساتھ انڈیا صوبہ بہار میں مسلم کش فسادات کے موقع پر ریلیف کے سلسلہ میں چلے گئے،  باقی دوست ڈاکٹر محمد اشرف خان، ڈاکٹر عبدالجبار شاکر  اپنے اپنے شعبے میں تعلیم حاصل کر کے آگے بڑھتے رہے۔ زندگی کے آخری لمحے تک سارے دوستوں کا ڈاکٹر صاحب شہید سے انتہائی محبت و احترام کا رشتہ قائم رہا۔ صوبہ بہار میں 5 ماہ ریلیف کے کام کے بعد واپس لاہور آ کر ہومیو پیتھک کالج میں داخلہ لے لیا۔ وہاں سے فارغ ہو کر 1947ء میں ڈیرہ غازی خان آ کر مہاجر کیمپ میں دوا اور ریلیف کے کام میں لگ گئے۔ خلوص سے کام کرتے دیکھ کر ڈیرہ کے شہری اور سابق سکول اور کالج کے رفقاء  بھی تعاون کے لئے آ گئے۔تعلیم چھوڑنے پر والد بزرگوار ناراض تھے۔ جب مہاجر کیمپ میں بے لوث کام کرتے ہوئے اور جماعت اسلامی کی تنظیم بنا کر تنظیمی کام ہوتے دیکھا تو گلے لگا لیا۔ قائد اعظم روڈ بلاک 12 میں پلاٹ لے کر چار دوکانوں کے کمرے اور پیچھے اعلی پختہ مکان بنا دیا۔ مہاجر بھائی اپنے اپنے ٹھکانوں پر آ گئے۔ ڈاکٹر صاحب شہید جماعت اسلامی کے تنظیمی اور تربیتی کام میں لگ گئے۔ زندگی کا کوئی ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔

ڈاکٹر صاحب کی سرگرمیوں کے بعد بالآخر پولیس کی نگرانی ہونے لگی۔ جس کی زد ان کے بھائیوں پر بھی پڑی۔ پولیس خوفزدہ کرتی۔ ڈاکٹر صاحب کی زبان بندی کر دی گئی۔ مکان میں نظر بند کر دیا گیا۔ مقدمات بننے لگے۔ ایک مقدمے میں 2 سال قید با مشقت کی سزا بھی ہوئی۔ اس وقت کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چوہدری محمد رفیق تارڑ نے اپیل منظور کر کے سزا ختم کر دی۔  اس کے علاوہ دو درجن سے زیادہ مقدمات کا سامنا رہا۔ کام سے تھک جاتے تو آرام کے لئے اللہ انہیں جیل بھیج دیتا،  وہاں سے رہا ہوتے تو پھر کام میں لگ جاتے۔ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور ایک ہی ضلع تھا۔ محنت اور خلوص رنگ لائے۔ انتہائی نیک نام علمائے حق، مفتی اور اپنے اپنے علاقوں کے معروف معززین ساتھی بن گئے۔ ہر حکومت جماعت اسلامی اور مولانا سید ابو الاعلی مودودی کے خلاف منظم طور پر الزامات اور بہتان لگاتی رہی۔ ڈاکٹر صاحب بھی زد میں رہے۔ جنرل ایوب خان اور بھٹو کا دور بہت منحوس ثابت ہوا۔ 

1965ء کی جنگ میں سینکڑوں کشمیری مسلمانوں کو آزاد کشمیر میں پناہ لینی پڑی۔ حکومت آزاد کشمیر نے جماعت اسلامی سے کشمیریوں کے مہاجر کیمپوں کے لئے تعاون مانگا۔ جماعت اسلامی نے ڈاکٹر نذیر احمد شہید کی ڈیوٹی لگائی۔ ڈاکٹر شہید ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور مظفر گڑھ کے ڈاکٹر احباب اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے ساتھ پانچ ماہ تک آزاد کشمیر میں رہے۔ 

 1970ء کے الیکشن میں مغربی پاکستان سے بھٹو پارٹی اور مشرقی پاکستان سے شیخ مجیب الرحمٰن کی پارٹی جیتی، تو جنرل یحییٰ خان نے دونوں اقتدار کے حریص لیڈروں کے ساتھ کھیل شروع کر دیا۔ ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس طے کر کے ملتوی کردیا۔ جس سے عوامی لیگ بھڑک اٹھی۔ حکومت پاکستان کو وہاں فوج کو حرکت میں لانا پڑا۔ بھارت نے مشرقی پاکستان پر مکتی باہنی اور اپنی افواج سے حملہ کر دیا۔ جماعت اسلامی کی سرفروش تنظیم البدر اور الشمس نے افواج پاکستان کے ساتھ مل کر شہادتیں دیں۔ بالآخر ملک دو لخت ہو گیا۔ کیونکہ اس کے بغیر بھٹو اور پیپلزپارٹی کو اقتدار نہیں مل سکتا تھا۔ بھٹو صاحب فوج کے سایہ میں سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے صدر پاکستان بن گئے۔ڈاکٹر نذیر احمد شہید ممبر قومی اسمبلی کی حیثیت اور جماعت کی اسلام اور ملک پاکستان سے کمٹمنٹ کے نتیجے میں بے چین اور بے قرار ہو کر راولپنڈی، کراچی،  لاہور،  سرگودھا،  ملتان اور ملک کے اہم مقامات پر بھٹو کی سازشوں کو بے نقاب کرنے نکل کھڑے ہوئے۔

بھٹو کے وزراء تلملا اٹھے۔ سالار اعلیٰ پیپلز گارڈ وزیر مملکت نیشنل سکیورٹی نے پیپلز گارڈ کی تنظیم کا اعلان کیا……اور کہا کہ جماعت اسلامی کے ذمہ داروں کے خلاف دن رات محاسبہ کریں۔ ڈاکٹر نذیر احمد شہید بھٹو کو قائد اعظم کااسلام  کے نام پر بننے والے ملک کو توڑنے کا سبب بتاتے اور اعلانیہ فرماتے“  بھٹو صاحب! آپ فرماتے ہیں،  کہ اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی کہ ملک کس نے توڑا۔ میں عرض کرتا ہوں۔  صدر محترم جناب بھٹو صاحب ، جب مورخ تاریخ لکھے گا،  نہ آپ ہوں گے نہ میں ہوں گا۔ مورخ کا فرض میں آپ کی موجودگی اور آپ کے اقتدار میں ادا کرتا ہوں۔ المیہ مشرقی پاکستان،  سقوط ڈھاکہ کے ذمہ دار سب سے زیادہ آپ ہیں۔ بھٹو صاحب آپ کی حکومت جنرل ایوب خان اور جنرل یحییٰ خان کا ضمیمہ ہے۔ڈاکٹر شہید نے صحافیوں سے کہا کہ جرات کے ساتھ اقتدار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لکھو۔ کوئی تمہیں کھا نہیں جائے گا۔ حق ادا کریں۔ 

6 جون 1972ء کا حملہ ناکام ہوا۔ 8 جون 1972ء کو عین داغ سجود پر تین گولیاں پیوست ہوئیں۔ڈاکٹر صاحب شہید 44 سال کی عمر میں جان جان آفرین کے حوالہ کر کے عاشقان رسول اور محب وطن ہم وطنوں کو پیغام دے گئے۔ ان کے چہرے کی طمانیت اور فاتحانہ مسکراہٹ اللہ کے نور کا پتہ دیتی تھی۔ 

آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

مزید :

رائےکالم



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.