14

سندھ کی ترقی جھگڑا کس بات پر ہے؟

سندھ کی ترقی، جھگڑا کس بات پر ہے؟

پہلی بار سندھ اور وفاقی حکومت میں ایک ایسا تنازع کھڑا ہوا ہے،جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔وفاقی وزیر اسد عمر واضح طور پر کہہ رہے ہیں  کہ ہم نے سندھ کے عوام پر پیسہ خرچ کرنا ہے، سندھ حکومت پر نہیں، جبکہ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کہتے ہیں کہ وہ بہرے لوگوں سے مخاطب ہیں،جنہیں اس بات کی فکر ہی نہیں، سندھ اس وقت کتنے مسائل کا شکار ہے،کیونکہ اُسے وفاقی حکومت سے ترقیاتی فنڈز نہیں مل رہے۔انہوں نے یہ شکوہ بھی کیا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کو  وفاقی حکومت دِل کھول کر ترقیاتی فنڈز دے رہی ہے۔ سندھ سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اسد عمر نے اس کے جواب میں کہا ہے مراد علی شاہ بتائیں کہ  وہ وفاقی حکومت کو سندھ میں ترقیاتی کام کرنے دینا چاہتے ہیں یا نہیں،

ماضی میں یہ ہوتا رہا، سندھ کو وفاقی حکومت کی طرف سے فنڈز مل جاتے، مگر وہ کہاں اور کیسے خرچ ہوئے اس کا حساب وفاقی حکومت کو نہیں دیا جاتا تھا۔این ایف سی ایوارڈ کے تحت تو صوبوں کو گرانٹ ملتی ہی ہے تاہم جو وفاقی حکومت کے منصوبے ہوتے ہیں انہیں بھی سندھ حکومت ہی مکمل کراتی تھی اور اُسی کے ذریعے خرچ کئے جاتے تھے،تاہم سندھ کی پسماندگی کا جو حال ہے،وہ سب پر عیاں ہے، ترقیاتی کاموں کی رفتار اور معیار پر ہمیشہ سوالات اٹھتے رہے ہیں، کرپشن کے میگا سکینڈلز بھی آئے اور اندرون سندھ پانی، علاج معالجے،انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں صورتِ حال دِگرگوں ہی ہوتی چلی گئی، اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو پہلے سے زیادہ فنڈز ملے، لیکن سندھ میں ترقی کی رفتار اسی تیزی کے ساتھ نہیں بڑھ سکی۔ وفاق کا یہ آئینی اختیار موجود ہے،وہ صوبوں کی ترقی کے لئے براہِ راست منصوبے شروع کر سکتا ہے، یہی ہو رہا ہے، مگر پیپلزپارٹی کی حکومت کو یہ گوارا نہیں،وہ اس حوالے سے وفاق کی مداخلت نہیں چاہتی اور بلا شرکت ِ غیرے تمام فنڈز خود خرچ کرنا چاہتی ہے، جس کا وفاقی حکومت کی طرف سے صاف انکار کر دیا گیا ہے، اصل تنازع یہی ہے۔

تحریک انصاف کو سندھ سے اچھی خاصی نشستیں ملیں، خاص طور پر کراچی سے اُس نے تقریباً کلین سویپ کیا۔ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تحریک انصاف کا ہے اور قومی اسمبلی کی کراچی سے زیادہ تر نشستیں بھی تحریک انصاف کے پاس ہیں یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف سندھ خصوصاً کراچی میں اپنے وجود کو منوانا چاہتی ہے۔ اربوں روپے کے منصوبے کراچی اور سندھ کو دیئے گئے ہیں۔اب چاہئے تو یہ کہ سندھ حکومت اس پر اطمینان کا اظہار کرے،وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کرے، مگر اس کی بجائے اُلٹا سندھ کے وزیراعلیٰ، وزیراعظم عمران خان پر تنقید کر رہے ہیں،انہیں بہرہ قرار دے رہے ہیں،جو اُن کی بات نہیں سن رہے۔اگر تو وزیراعلیٰ سندھ کو کراچی اور صوبے کی ترقی سے دلچسپی ہے تو انہیں اِس بات پر اطمینان کا اظہار کرنا چائے، وفاقی حکومت کے اربوں روپے سے سندھ کے حالات بدل رہے ہیں۔ اسد عمر نے کہا ہے سندھ حکومت نے سڑک کے کسی میگا پراجیکٹ پر ایک روپیہ خرچ نہیں کیا۔ انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے، اگر وفاقی حکومت اسے بحال کرنے کے لئے منصوبے دے رہی ہے تو در حقیقت سندھ حکومت کا ہاتھ بٹا رہی ہے۔

اگر سندھ حکومت چاہتی ہے وفاقی حکومت یہ کام نہ کرے تو وزیراعلیٰ سندھ کھل کے بتائیں۔ ظاہر ہے یہ کام مراد علی شاہ کیسے کر سکتے ہیں۔ سو وہ وفاقی حکومت پر سندھ حکومت کو بائی پاس کرنے اور فنڈز نہ دینے پر تنقید کر رہے ہیں، اسے صوبائی تعصب کا مسئلہ بنا رہے ہیں، مثلاً ان کا یہ کہنا پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں کو فنڈز دیئے جا رہے ہیں، سندھ حکومت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ تکنیکی طور پر سندھ اور ان دو صوبوں میں بڑا فرق ہے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومتیں ہیں۔ وفاقی حکومت اگر انہیں فنڈز فراہم بھی کرتی ہے تو اس پر نظر بھی رکھ سکتی ہے، لیکن سندھ میں وفاقی گرانٹ اگر سندھ حکومت کے تحت خرچ ہو تو اس کے آڈٹ کا اختیار شاید اس طرح سے وفاقی حکومت کو حاصل نہ ہو، جیسا پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اپنی حکومتوں کی وجہ سے حاصل ہے۔

سندھ میں پیپلزپارٹی کی تقریباً تیرہ برسوں سے حکومت ہے ان تیرہ برسوں کے دوران کراچی سمیت سندھ کے مسائل میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ کراچی میں گڈ گورننس کا یہ حال ہے کہ پانی ٹینکروں کے ذریعے قیمتاً تو فراہم کیا جاتا ہے، ویسے دستیاب نہیں، گویا کراچی میں پینے کا پانی موجود ہے، مگر واٹر بورڈ کی کرپشن پر آج تک قابو نہیں پایا جا سکا۔ کراچی میں سیوریج کا نظام ہو یا پھر سڑکوں کی حالت ہر طرف ایک پسماندگی نظر آتی ہے، حتیٰ کہ کوڑا کرکٹ اٹھانے کے معاملے میں بھی سندھ حکومت کی ناکامی عیاں ہے اور وفاقی حکومت اس کے لئے وسائل فراہم کرتی ہے۔یہ سب معاملات اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ سندھ حکومت فنڈز کی عدم دستیابی کا شکار نہیں،بلکہ اس کے اندر کرپشن سے نمٹنے اور وسائل کو درست طور پر خرچ کرنے کی صلاحیت ہی موجود نہیں۔ شاید اسی لئے وفاقی حکومت نے براہ راست سندھ میں عموماً اور کراچی میں خصوصاً میگا پراجیکٹس کا آغاز کیا ہے۔ اگر ترقی عزیز ہے تو سندھ کی حکومت کو وفاقی حکومت کے ایسے تمام منصوبوں کو خوش دِلی سے قبول کرنا چاہئے،جو سندھ کی ترقی کے لئے شروع کئے گئے ہیں۔اگر معاملہ صرف اربوں روپے کے وسائل پر نظر رکھنے کا ہے تو وہ شاید اب عمران خان کے ہوتے ہوئے نہ مل سکیں۔

اس معاملے کو روزانہ کی بنیاد پر پریس کانفرنسوں کے ذریعے اچھالنے اور یہ تاثر دینے سے بات نہیں بنے گی کہ سندھ سے زیادتی کی جا رہی ہے، حقیقت یہ ہے فنڈز پہلے سے زیادہ خرچ کئے جا رہے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ سندھ حکومت کے ذریعے نہیں،میرے نزدیک تو یہ بڑی آئیڈیل صورتِ حال ہے، اگر وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان سندھ کی ترقی کے لئے مقابلہ شروع ہو جائے۔ سندھ حکومت اپنے منصوبے شروع کرے اور وفاقی حکومت اپنے منصوبے جاری رکھے۔یوں دو حکومتوں کی بیک وقت کوششوں سے جہاں کراچی کے مسائل حل ہوں گے وہاں سندھ کی پسماندگی دور کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ ضرورت اِس امر کی ہے دونوں حکومتیں مل بیٹھیں اور ایک دوسرے کی بات کو سمجھ کے سندھ کی ترقی کے لئے کام کریں۔اس طرح روزانہ جواب آں غزل کا سلسلہ جاری رکھنا مناسب نہیں۔ اگر سندھ کے عوام کی ترقی ہے تو اس پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں کیا رکاوٹ ہے سوائے سیاسی طاقت اور مفادات کے۔

مزید :

رائےکالم



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.