17

 آسٹریلیا کابل میں اپنا سفارت خانہ کیوں بند کر چکا ہے؟

 آسٹریلیا کابل میں اپنا سفارت خانہ کیوں بند کر چکا ہے؟

جس طرح آج تیسری دنیا میں الیکٹرانک میڈیا کے دو ادارے بی بی سی اور سی این این نہ صرف بہت مشہور ہیں بلکہ بہت قابلِ اعتماد بھی گردانے جاتے ہیں، اسی طرح مغرب کی دو خبر رساں ایجنسیاں بھی بہت مشہور ہیں۔ ایک کا نام AFP (ایجنسی فرانس پریس) ہے اور دوسری کو رائٹرز بولا اور لکھا جاتا ہے۔ CNN تو ابھی چند برس پہلے کی پیداوار ہے جبکہ باقی میڈیائی ادارے بہت پرانے ہیں۔ ان کا ایک گلوبل نیٹ ورک ہے اور بجٹ اربوں ڈالر میں ہے۔ یہ نیٹ ورک محض سرمائے کے زور پر نہیں چلائے جاتے بلکہ اس کے انتظامی اور پروفیشنل پہلوؤں کی دیکھ بھال اور ان کے آپریشنز کے لئے جس افرادی اور تکنیکی قوت کی ضرورت ہوتی ہے وہ جلد ہاتھ نہیں آتی۔ اس کے لئے برسوں محنت بلکہ ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ کام جان جوکھوں کا بھی ہے۔ درجنوں صحافی جو ان اداروں سے وابستہ تھے جان سے مارے گئے اور آج بھی ایسا ہو رہا ہے لیکن ان کی نہ صرف ساکھ قابلِ اعتبار ہے بلکہ ہر سانحے کے بعد ان کے پروفیشنل قد کاٹھ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

ان اداروں پر مسلمانوں کا یہ الزام ہے کہ ان کا عملہ زیادہ تر یہودیوں پر مشتمل ہے اور یہ الزام ایک سو ایک فیصد درست بھی ہے۔ بعض پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے تمام کرتا دھرتا یہودی ہیں۔ لیکن دوسری طرف سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی مسلمان صحافی نے بھی اس فیلڈ میں قدم رکھا؟ کہنے کو تو درجنوں ابلاغی اداروں میں سینکڑوں ہزاروں مسلمان صحافی کام کر رہے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ ان کی کارکردگی میں معیار و مقدار کی وہ کیفیت نہیں پائی جاتی جو ان میں پائی جاتی ہے جن کا کنٹرول صیہونیوں کے ہاتھوں میں ہے۔ اگر آپ کسی جغادری مسلم صحافی سے یہ سوال کریں گے تو وہ اس کے جواب کے لئے نجانے کتنی دور کی کوڑی لائے گا۔ لیکن بات پھر بھی وہیں آکر رک جائے گی کہ کیا ان مسلم ابلاغی اداروں کی خبریں قابلِ اعتبار و اعتماد بھی ہوتی ہیں یا نہیں اور کیا ان کی سپورٹنگ بصری کوریج لائقِ اعتنا بھی ہوتی ہے یا نہیں۔

کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے پاس پیسے کی کمی نہیں لیکن اس پیسے کو تعمیرِ قوم و وطن کے لئے کیسے استعمال کیا جاتا ہے اس کا شعور خال خال ہی پایا جاتا ہے، عملدرآمد کی تو بات ہی چھوڑ دیں۔

میں ایک طویل عرصے سے مشرقی اور مغربی میڈیا کا قاری بھی ہوں اور ناظر بھی۔ اور یہ ’ڈینگ‘ بھی مار سکتا ہوں کہ ملٹری امور و معاملات میں بھی شُد بُد رکھتا ہوں۔ مغربی ابلاغی اداروں میں برسہا برس سے جو افرادی قوت کام کر رہی ہے وہ کسی نہ کسی حوالے سے فوجی معاملات سے وابستہ رہ چکی ہوتی ہے۔ وہ لوگ چندبرس کسی عسکری شعبے (گراؤنڈ، نیول اور ائر) میں کام کرتے ہیں اور پھر وہاں سے فارغ ہو کر دوسرے شعبے کا رخ کرتے ہیں، پھر تیسرے کا اور پھر چوتھے کا…… ہم ان کو ہرجائی بھی کہہ سکتے ہیں لیکن ان کے مقابلے میں ہم ایسے ’یکجائی‘ ہیں کہ جس شعبے سے منسلک ہوئے، مرتے دم تک اس سے چمٹے رہے۔ دنیا میں علوم و فنون کی کمی نہیں۔ لیکن مسلمان کسی ایک فن میں مہارتِ کامل حاصل کرکے اسی میں ’امر‘ ہونا جانتے ہیں۔ جس طرح کسی سولجر کی انتہا یہ ہے کہ وہ سپاہی بھرتی ہو تو جرنیلی تک پہنچے، وکیل ہو تو چیف جسٹس بن جائے، ٹیچر ہو تو یونیورسٹی کا وائس چانسلر بن جائے، صحافی ہو تو کسی سیاسی پارٹی کے ناخداؤں کے ”لَڑ“ لگ کر ایک صحافتی ایمپائر کا شہنشاہ بن جائے اور علی ہذا القیاس…… مغرب میں ایسا نہیں …… وہ جیک آف آل ٹریڈز (Jack of all trades) بن کر کسی ایک فیلڈ میں ماسٹری حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور بسا اوقات کامیاب رہتے ہیں۔ خدا نے انسان کے اندر بے پناہ خوبیاں چھپا رکھی ہیں۔ شاعرِ مشرق نے کہا تھا:

پرے ہے چرخِ نیلی فام سے منزل مسلماں کی 

ستارے جس کی گردِ راہ ہوں وہ کارواں تو ہے

بلکہ اس سلسلے کو اتنا آگے تک لے جاتے ہیں کہ حیرت سے منہ کھلا رہ جاتا ہے:

جہانِ آب و گل سے عالمِ جاوید کی خاطر

نبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہے

انسانی شرف و فضیلت کی جو تصویر کشی حضرت علامہ نے اردو اور فارسی میں کی ہے، دوسری زبانوں کے عالمی ادب میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ان کے مزار کی چھت (سقف) پر جو نمائندہ فارسی غزل لکھی ہے اس کا یہ شعر بھی قابلِ توجہ ہے:

فروغِ آدمِ خاکی ز تازہ کاری ہاست

مہ و ستارہ کنند آنچہ پیش ازیں کروند

(آدمِ خاکی کا فروغ یہ ہے کہ وہ ہر آن اور ہر لمحہ نئے نقش تراشتا رہتا ہے اور یہ چاند ستارے جن کو دیکھ دیکھ کر ہم حیران ہو ہو جاتے ہیں وہ تو ایک خاص مدار (Orbit) پر گردش کرنے کے پابند ہیں)اس موضوع پر اقبال کے کئی اور اشعار نوک قلم پر آرہے ہیں لیکن آگے چلتے ہیں …… بعض اوقات سوچتا ہوں کہ مغرب کا انسان مریخ و مشتری تک جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس فیلڈ میں اسے کامیابیاں بھی مل رہی ہیں۔ لیکن اس سفر کی انتہا کیا ہے؟……اقبال کا ایک اور شعر ہے:

سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفیؐ سے مجھے 

کہ عالمِ بشریت کی زد میں ہے گردوں 

تو کیا یہ سمجھا جائے کہ مغرب کے خلانورد اور خلائی سائنس دان جس ”گردوں“ کی تلاش میں ہیں اس تک تو مسلمان کا ختم الرسلؐ آج سے 1400سال پہلے جا پہنچا تھا۔ لیکن مغرب کا خلائی سائنس دان مسلمانوں کے اس اعزاز کی طرف کم دھیان دیتا ہے…… دیکھئے بات کہاں سے شروع ہوئی تھی اور کدھر نکلی جا رہی ہے۔

ہم مغرب کے ابلاغی اداروں کی بات کر رہے تھے……ان اداروں میں، میں نے ایک بات اور نوٹ کی ہے جو شائد آپ کے مشاہدے اور مطالعے میں بھی آئی ہو گی۔ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ مشرق و مغرب میں نسلی، جغرافیائی، تہذیبی اور مذہبی امتیاز کے از بس قائل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ امریکہ اور یورپ نہ صرف سائنس اور ٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہیں بلکہ مستقبل بعید میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ روس کا ایک حصہ ایشیا میں ہے اور دوسرا یورپ میں …… چین اور جاپان ایشیاء میں ہیں لیکن میڈیا کے میدان میں جو جَستیں مغربی دنیا نے لگائی ہیں، ان کا جواب ابھی تک کسی ایشیائی قوم کو نصیب نہیں ہو سکا۔ شاید یہی وجہ ہو کہ مغرب کے یہودی ابلاغی ادارے کسی مشرقی ابلاغی ادارے کو خاطر میں نہیں لاتے۔ ان کامیڈیا اگر کسی فیلڈ میں غلط سمت بھی جا رہا ہو تو وہ اسی سمت کی جانب گامزن رہتے ہیں اور اسی کو ’صراطِ مستقیم‘ گردانتے ہیں۔ میرے خیال میں ان کی سب سے بڑی غلط فہمی یہی ہے۔

امریکہ ہمارے ہمسائے افغانستان میں 20برس تک پنجے گاڑ کر بیٹھا رہا۔ اس کے ہمراہ یورپ (ناٹو) بھی تھا۔ جو گُل ان ”مہذب“ مغربی ممالک نے افغانستان میں دو عشروں کی جنگ و جدال کے درمیان کھلائے اس کے منفی پہلوؤں سے اب آہستہ آہستہ پردہ اٹھ رہا ہے۔ دنیا کو معلوم ہو رہا ہے کہ جس افغانستان پر امریکہ نے صرف چھ ماہ میں قبضہ کر لیا تھا وہاں 240ماہ گزارنے اور بیٹھے رہنے کے مقاصد کیا تھے؟…… اس سے پہلے ویت نام کی جنگ میں امریکہ نے دس سال کے تجربے میں جو سیکھا وہی کچھ افغانستان میں 20سال کے تجربات میں بھی اس نے دیکھ لیا۔ میرے خیال میں ویت نام اگر امریکہ (اور مغرب) کی پہلی عالمی (اخلاقی) شکست تھی تو افغانستان اس کی دوسری عالمی (اخلاقی) شکست ہے۔ اس کا ثبوت رفتہ رفتہ طشت از بام ہو رہا ہے۔ پاکستان چونکہ برسوں تک اس جنگ میں دامے، درمے اور سخنے شریک رہا اس لئے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم اس جنگ کے نتائج سے بے خبر تھے۔ہاں اگر یہ کہیں کہ قوم کو بے خبر رکھا گیا تو شاید اس کا کوئی لولا لنگڑا جواز بن سکے۔ ہمارے موجودہ وزیراعظم نے اگرچہ برملا کہہ دیا ہے کہ اب پاکستان اس جنگ میں ’شرکت‘ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ لیکن ہمارا میڈیا دن رات اس شک و شبہ کی گردان کر رہا ہے کہ ایسا کیوں ہے اور کیوں نہیں۔

خدا لگتی بات یہ سوال بھی ہے کہ کیا کسی لکھاری نے اردو میں افغانستان کی اس جنگ کے ٹیکٹیکل پہلوؤں پر کچھ لکھا؟ اور اس کے سٹرٹیجک مضمرات پر کتنی کتابیں آپ کی نظروں سے گزریں؟ جہاں اہلِ مغرب نے ویت نام اور افغان وار پر تحریری کتب کے ڈھیر لگا دیئے وہاں ہم نے اپنی قوم کے لئے اردو میں کتنی کتابیں اور رسالے لکھے؟…… ہمارا میڈیا آج بہت سی لایعنی اور فضول باتوں کے نفی و اثبات کی بحث میں الجھا رہتا ہے لیکن عالمی ابلاغی اداروں کی پیروی میں ہم نے کتنا کام کیا ہے؟…… کیا ہم نے یہ فریضہ فوج کو سونپ رکھا ہے کہ ’لڑائی بھڑائی‘ کے موضوع پر اگر کچھ بولنا یا لکھنا ہے تو وہ فوج ہی لکھے۔ ہم نے تو سیاسی امور پر بولنے اور لکھنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے اور بس!

خدارا اس طرف دھیان دیجئے…… آپ نے پڑھا ہوگا کہ جب صدر امریکہ بائیڈن نے افغانستان چھوڑنے کا اعلان کیا تو ناٹو کے 7000ٹروپس یہاں موجود تھے جن میں جرمنی اور آسٹریلیا کے ٹروپس کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ ایسا کیوں تھا، ان ممالک کو کیا فائدہ تھا کہ وہ 20برس تک امریکہ کا دُم چھلا بنے رہے اور اب جبکہ بائیڈن نے اعلان کر دیا تھا کہ امریکہ ستمبر 2021ء تک اپنے ٹروپس واپس بلا لے گا تو آسٹریلیا کو کیا پڑی تھی کہ وہ اپنا سفارت خانہ ہی (کابل میں) بند کرکے واپس سڈنی سدھار گیا؟…… کیا اس موضوع پر کسی پاکستانی لکھاری نے کچھ لکھا؟…… کیا کسی الیکٹرانک میڈیا نے اس کی وجوہ کا بھانڈا پھوڑا؟…… اس پر تو کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں ……اگلے کالم میں اس کی ’ابجد‘ پر بات ہوگی!!

مزید :

رائےکالم



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.