5

سیالکوٹ واقعہ کئی سبق دے گیا

سیالکوٹ واقعہ، کئی سبق دے گیا

سیالکوٹ کے رمضان بازار کا واقعہ سوشل میڈیا کا ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے خاتون اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف کو رمضان بازار میں قائم اسٹالز پر پھلوں اور سبزیوں کے معیار کو چیک نہ کرنے پر ڈانٹ پلائی اور سخت جملے بھی کہے، جس پر اے سی سونیا صدف غصے سے پنڈال چھوڑ کر چلی گئیں۔ اسی دن وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد کے ماڈل بازار کا بغیر پروٹوکول کے دورہ کیا۔ وہ خود گاڑی چلا کر وہاں گئے اور مختلف اسٹالوں کو دیکھا، تاہم فرق یہ تھا کہ وزیراعظم کی موجودگی کے دوران ان اسٹالوں پر کوئی خریدار نظر نہ آیا نہ ہی کوئی افسر موجود تھا کہ جس سے یہ اندازہ ہوتا کہ افسرو ں کی غفلت پر وزیراعظم کا ردعمل کیا ہوتا ہے اور ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کیا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ افسروں کو ڈانٹ پلانے کے حق میں نہیں، البتہ غفلت کی صورت میں وہ ان کا تبادلہ یا معطلی ضرور کر دیتے ہیں، لیکن ان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ایک وکھرے ٹائپ کا مزاج رکھتی ہیں۔

جلال میں آ جائیں تو پھر جو دل میں آ جائے کر جاتی ہیں۔ سیالکوٹ واقعہ کی جو معلومات سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان معائنے کے لئے جب رمضان بازار پہنچیں تو وہاں انتظامیہ کا کوئی آدمی موجود نہیں تھا، اسی دوران ایک غریب عورت ان کے پاس آئی اور کہا  کہ پھل بہت مہنگا مل رہا ہے اور ہے بھی غیر معیاری۔ اس پر انہوں نے پتہ کرایا کہ متعلقہ اے سی کدھر ہیں؟ جس پر یہ بات سامنے آئی کہ وہ اپنی سرکاری گاڑی میں ائر کنڈیشنر چلا کے بیٹھی ہیں۔ انہیں پیغام بھجوایا گیا۔ وہ جب تک آئیں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا عوامی مزاج گرم ہو چکا تھا۔ انہوں نے سونیا صدف سے کہا کہ کیا پھلوں کی قیمتیں اور معیار چیک کرنا ان کی ذمہ داری نہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ انہی کی ذمہ داری ہے اور وہ چیک کرتی بھی ہیں، اس پر پوچھا گیا کہ اس وقت وہ کہاں تھیں، جس کے جواب میں اے سی صاحبہ نے بتایا کہ رش اور گرمی کی وجہ سے وہ کچھ دیر سستا رہی تھیں، یہ سن کر معاون خصوصی صاحبہ کا پارہ گرم ہو گیا اور انہوں نے اے سی کو بے نقط سنانا شروع کر دیں۔ انہوں نے درمیان میں بولنے کی کوشش کی، مگر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ڈانٹ ڈپٹ کے انداز میں ان کی ایک نہ سُنی، یہی وہ وقت تھا جب اے سی سونیا صدف کو ڈٹ کر کھڑے رہنا چاہیے تھا، مگر وہ خلاف معمول غصے سے پیر پٹختی ہوئی، موقع سے چلی گئیں، اس سارے واقعہ کی چونکہ وڈیو بھی بنی اور وائرل ہو گئی سو ٹاپ ٹرینڈ بن گئی۔

ڈانٹ ڈپٹ تو شہبازشریف بھی بہت کرتے رہے ہیں، افسروں کی سرزنش تو ان کا معمول ہوتا تھا، مگر کبھی ان کی سرزنش پر کسی افسر کی یہ جرأت نہیں ہوتی تھی کہ غصے سے پیر پٹختا چلا جائے، بلکہ سر جھکا کے سنتا تھا اور اپنی غلطی تسلیم بھی کر لیتا تھا، یہاں سنسنی خیزی اس لئے پیدا ہوئی کہ معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور اے سی سونیا صدف میں ایک طرح کی توتکار ہو گئی، پھر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان غصے یا جذبات میں ایک ایسا لفظ بھی کہہ گئیں جو انتہائی غیر مناسب تھا۔ اسی لفظ کو سننے کے بعد سونیا صدف حد درجہ ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے موقع سے چلی گئیں، جس کے فوراً بعد چیف سیکرٹری کا ردعمل بھی سامنے آیا اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے بھی اس واقعہ کی مذمت کی گئی اور تو اور خود تحریک انصاف کے سیالکوٹ سے تعلق رکھنے ولے رہنما عثمان ڈار نے اے سی سونیا صدف کے حق میں بیان جاری کیا اور کہا وہ ایک فرض شناس اور باصلاحیت افسر ہیں، ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، اب اگر اس سارے واقعہ کا تجزیہ کیا جائے تو ہمارے کھوکھلے نظام کی بہت سی شکلیں بے نقاب ہو جاتی ہیں۔

قطع نظر اس واقعہ کے یہ سوال تو اکثر پوچھا جاتا ہے کہ ہماری بیورو کریسی عوام کی توقعات پر پورا کیوں نہیں اترتی، اب اس مہنگائی کے معاملے کو ہی دیکھئے، اوپر سے نیچے تک یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ یہ مصنوعی مہنگائی ہے اور ایک خاص طبقہ آپس کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے۔ سارا الزام حکومت پر آ جاتا ہے کہ وہ مہنگائی کم نہیں کر رہی، حالانکہ اس نے مہنگائی اگر کنٹرول کرنی ہے تو اس کے پاس ضلعی و تحصیل انتظامیہ کے سوا اور کوئی ذریعہ نہیں، اب اگر یہی لوگ اس کا ساتھ نہ دیں تو حکومت کیا کر سکتی ہے۔ آپ سارا دن یہ خبریں تو ضرور سنتے ہیں کہ فلاں ڈپٹی کمشنر نے مہنگائی مافیا کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے اجلاس کیا، لیکن اس کا نتیجہ کبھی سامنے نہیں آتا۔ پچھلے دنوں ملتان کے کمشنر نے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے لئے 60پرائس کنٹرول مجسٹریٹوں کو شوکاز نوٹس جاری کئے، اس کے بعد ہوا کیا کسی کو کچھ معلوم نہیں۔

عوام کبھی کسی بیورو کریٹ کو خرابی کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتے، ان کی نظر ہمیشہ حکومت یا اپنے عوامی نمائندوں پر پڑتی ہے۔ گویا بیورو کریسی اس ڈھال کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔ سیالکوٹ کا یہ واقعہ بھی اس صورتِ حال کی نشاندہی کرتا ہے۔ جب ڈی سی یا اے سی رمضان بازار کا دورہ کر رہا ہو تو ساتھ چلنے والے پولیس اہلکار کسی شہری کو اس تک نہیں پہنچنے دیتے، نہ ہی ان سے کوئی سوال پوچھ سکتا ہے، مگر اگر کوئی رکن اسمبلی یا عوامی نمائندہ وہاں آ جائے تو سب اسے گھیر لیتے ہیں اور شکایات کے انبار لگا دیتے ہیں۔ یہی کچھ سیالکوٹ کے رمضان بازار میں ہوا۔ اب ایک طریقہ تو یہ تھا کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اے سی کے بارے میں ایک رپورٹ بنا کر چیف سیکرٹری کو بھجواتی کہ وہ اپنے فرائض درست طریقے سے نہیں ادا کر رہیں اور دوسرا طریقہ وہ تھا جو انہوں نے اختیار کیا۔ انہوں نے زیادہ تر باتیں درست کیں کہ سرکاری افسروں کو تنخواہیں اسی لئے ملتی ہیں کہ وہ عوام کی خدمت کریں۔ وہ پبلک سرونٹس ہیں، لیکن انہوں نے اے سی تعینات کرنے والی اتھارٹی کے بارے میں جو لفظ استعمال کیا وہ نامناسب تھا۔

پھر سونیا صدف کو میرٹ پر تعینات کیا گیا ہے، وہ سی ایس ایس کے اپنے بیج میں نمایاں پوزیشن کی حامل ہیں۔ عمومی طور پر ان کی کارکردگی بھی بُری نہیں، البتہ ان میں بات سننے اور تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں۔ بعد میں انہوں نے اپنا موقف بھی دیا کہ بات آرام سے بھی کی جا سکتی تھی، بے عزت کیوں کیا گیا۔ انکی اس بات پر بہت سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر جواب دیا کہ یہی بیورو کریسی کیا عوام کے ساتھ آرام سے بات کرتی ہے، کیا ان کے دفاتر میں صبح و شام عوام کی تذلیل نہیں کی جاتی۔ بہرحال اس واقعہ کے تین فریق ہیں۔ عوام، عوامی نمائندے اور بیورو کریسی، سرکاری افسروں کو سوچنا چاہیے کہ وہ عوام کی نظروں میں اپنا مقام کیوں کھو چکے ہیں، کیوں ان کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہو گیا ہے کہ وہ عوام کو غلام سمجھتے ہیں۔ عوامی نمائندوں کو بھی ایسے مواقع پر بڑھک بازی کی بجائے تحمل سے کام لینا چاہیے، ہمارے نظام کا انحصار بیورو کریسی پر ہے، اس کی اصلاح ضرور کی جائے، مگر اسے بے توقیر کرنے سے ہم مزید نئے مسائل کو جنم دیں گے۔

مزید :

رائےکالم



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.