176

70 ہزار کے بلّے کی گمشدگی آوارہ بلی کے سر

بلے کے مالک امیر عمر چمن نے بتایا کہ یہ رشین نسل کا بلا ہے جو انھوں نے آٹھ ماہ قبل لاہور سے 70 ہزار روپے کا خریدا تھا
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع چنیوٹ میں پولیس کے مطابق چوری کی انوکھی واردات پیش آئی ہے جس میں ایک بلے کی چوری کے مقدمے میں دو نامعلوم افراد اور ایک نامعلوم بلی کو نامزد کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق پیر کو امیر عمر چمن نے تھانہ سٹی چنیوٹ پولیس کو تحریری درخواست دی کہ ’نامعلوم افراد نے ان کے گھر میں بلی بھیج کر بیش قیمت رشین بلے کو ورغلا کر چوری کر لیا ہے‘۔

پولیس نے بلے کی چوری کی ایف آئی آر درج کر لی ہے جس میں دو نامعلوم افراد اور ایک نامعلوم بلی کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق ’بلے کو گھر سے باہر نکالنے کے لیے ملزمان نے بلی گھر کے اندر بھیجی۔ کچھ دیر کے بعد بلی کے پیچھے پیچھے بلا گھر سے باہر آیا تو ملزمان اسے موٹر سائیکل پر اٹھا کر بھاگ گئے‘۔

سکیٹو نامی بلے کے مالک امیر عمر چمن نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ رشین نسل کا بلا ہے جو انھوں نے آٹھ ماہ قبل لاہور سے 70 ہزار روپے کا خریدا تھا، اس وقت اس کی عمر صرف پانچ دن تھی۔

دوسری جانب چنیوٹ پولیس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزمان اور بلی کی تلاش شروع کر دی ہے۔

پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کسی مقدمے میں بلی کو ملزم نامزد کرنے کا یہ انوکھا واقعہ ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ جلد ہی ملزمان اور بلے کو ڈھونڈ لیں گے۔

بلے کے مالک امیر عمر چمن سے جب آیف آئی آر میں نامعلوم بلی کو ملزم نامزد کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’اصل ملزم وہ نامعلوم بلی ہی ہے جس کی مدد سے بلے کو گھر سے باہر کی راہ دکھائی گئی اور ملزم اس کو چوری کرنے میں کامیاب ہو سکے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’بلے کے چوری ہونے کے بعد گھر میں بچوں نے رو رو کر برا حال کر لیا ہے جبکہ بچوں نے دو دن سے کھانا بھی نہیں کھایا۔‘

’وہ ہمارے گھر میں ہی پلا بڑھا ہے اس لیے اس کے ساتھ سب کا بہت لگاؤ تھا۔‘

دوسری جانب سکیٹو نامی بلے کی چوری اور بلی کو ملزم نامزد کرنے کے گونج سوشل میڈیا پر بھی سنائی دی۔

ایک صحافی صدیق جان نے طنزیہ ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ کہیں ’بلے کی چوری کا الزام بھی عمران خان پر نہ لگ جائے، کیا قوم نے آپ کو اس لیے ووٹ دیا تھا کہ آپ کے دور میں بلیوں کے‌ ذریعے بلے چوری ہونے لگیں۔‘

ایک صارف خوشحال نے لکھا کہ بلے کا چوری ہونا افسوس ناک ہے لیکن ایف آئی آر میں بلی کا نامزد ہونا الگ ہی بات ہے۔

پاکستان میں پالتو، جنگلی اور آوارہ جانوروں کو ہلاک کرنے یا ان پر تشدد کے واقعات تو سامنے آتے رہتے ہیں لیکن ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کسی جانور کو کسی مقدمے میں ملزم نامزد کیا جائے۔

گذشتہ سال نومبر میں خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ کے علاقے شبقدر میں پولیس نے سڑک پر ہونے والے حادثے کے بعد ایک گدھے کو گرفتار لیا تھا اور رپورٹ درج کی تھی۔ اس واقعے میں ایک گدھا گاڑی اور رکشے کی ٹکر کے بعد گدھا گاڑی کا مالک فرار ہوگیا تھا جس کے بعد پولیس نے گدھے کو گاڑی سمیت تحویل میں لیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.