41

خواجہ سرا ایک ایسی خدا کی پیدا کی ہوئی مخلوق جسےہم کئی ناموں سے پکارتے ہیں، (وہ نام یہاں ظاہر نہیں کرسکتا) آج تک ہمارے معاشرہ نے یہ گوارہ ہی نہیں سمجھاکہ یہ کیوں ہمارے درمیان موجود ہیں۔
ہم نے جب بھی انھیں دیکھا، نیچ، غلیظ اور گندی نظروں سےدیکھا۔ کبھی بھی ہم نے انھیں وہ مقام نہیں دیاجو ہم نے اپنے لئے پسند کیاہو۔
یہ بیچارے لوگ (بیچارے لفظ اسلئے استعمال کر رہا ہو کیونکہ ہمارے رویے نےانھیں بیچارے بنا دیاہے)جسے ہم اکثر سڑکوں اور کئ دوسری جگہوں پر بھیک مانگتے، ناچتے اور عجیب حرکتیں کرتے دیکھتے ہیں، کیا یہ ہماری طرح ایک پروقار زندگی نہیں گذار سکتے۔
بے شک گذار سکتے ہیں اگر ہم انھیں وہ مقام دے جو انکا حق ہے اور جو ہم پر فرض ہے۔
خواجہ سرا کی زندگی تو ویسے بھی بہت محدودہوتی ہے جب پیدا ہوتے ہیں تو سب سے پہلے والدین انھیں اپنے آپ سے الگ کرلیتے ہےجس کی وجہ سے یہ اپنے بھائی،بہن اور رشتے داروں سے دور چلے جاتے ہے۔
بچپن میں ہی انکی آہ و سسکیاں شروع ہوجاتی ہے جو ہمارے کانوں تک نہیں پہنچتی۔ انکی جوانی جوبظاہر موج مستی ہمیں نظر آتی ہےلیکن انکے پیچھے بھی ان کی کئی مجبوریاں ہوتی ہیں۔
بڑھاپا تو ویسے بھی انکے لئے قیامت سے کم نہیں ہوتا، ہروقت اپنے لئے موت مانگ رہےہوتے ہیں اور سب سے انکی موت درد ناک ہوتی ہے جب انکی لاش کو دفنانے کیلئے چار کندھے بھی آسانی سے نہیں ملتے، نا قبروں پر تختہ سیاہ لگتے ہے اور ناپھول سجھتے ہیں اورنہ انکےلئے دعائیں مانگنے والے ہاتھ ملتے ہیں۔
لیکن آخر کیوں یہ اتنی محرومی کی زندگی گزارتے ہیں، کیا حکومتی سطح پر ایسے کوئی اقدامات اٹھائے گئے ہیں کہ جسکی وجہ سے انکی محرومیاں ختم ہو سکے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت ایسا کیا کرے۔
کیا ان کیلئے الگ سکول نہیں ہونے چاہئے، کیا ان کیلئے الگ ووکیشنل سنٹر نہیں ہونے چاہئے جہاں پر باعزت روزگار سیکھ سکے۔
کیا ہاسپیٹل میں انکے لئے الگ وارڈ نہیں ہونے چاہئے.
کیا سرکاری نوکریوں میں انکا سپیشل کوٹہ نہیں ہونا چاہیئے۔ بلکل ہونے چاہئے بلکہ ایسے کچھ اور اقدامات حکومت کو اٹھائے چاہیے۔
عوامی سطح پر ہمیں انکی عزت کرنی چاہیئے، انکے وجود پر سر جھکانا نہیں چاہیئے انکو جینے کا پورا حق دینا چاہئیے۔ تاکہ یہ بھی ایک کامیاب انسان کہلائے جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.