32

2018 کشمیر میں خوں ریز ترین سال

جموں اینڈ کشمیر کولیشن سول سوسائٹی کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2018میں 586 افراد ہلاک ہوئے ان میں 267 شدت پسند، 160 شہری جن میں 31 بچے بھی شامل تھے ہلاک ہوئے۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 2018 گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ خون ریز سال رہا اور ماہرین کو 2019 میں اس خون ریزی میں شدت آتی نظر آ رہی ہے۔

ماہرین کے خیال میں نئے سال میں بھی اس متنازعہ علاقے میں حالات مزید خراب ہونے کے خدشات ہیں کیونکہ دہلی سرکاری اور علیحدگی پسندوں دونوں کے موقف میں کوئی نرمی آتی نظر نہیں آ رہی۔

نئے سال کے آغاز پر ہی انڈین سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر سرحد پار کرتے ہوئے دو دراندازوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔ حکام اس خطے میں تین عشروں سے جاری پرتشدد تحریک کا ذمہ دار ہمسایہ ملک پاکستان کو ٹھہراتے ہیں جس کی زد میں اب تک دسیوں ہزار افراد آ چکے ہیں۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں سیاست دانوں اور انڈیا میں آزاد ذہن رکھنے والے سیاسی تبصرہ نگاروں کا یہ ہی خیال ہے کہ اس علاقے میں تعینات پانچ لاکھ سے زیادہ فوج اور سنہ 2019 میں عام انتخابات کے پس منظر میں اس بات کی امید بہت کم ہے کہ یہاں خون ریزی تھم جائے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم جموں اینڈ کشمیر کولیشن سول سوسائٹی کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2018میں 586 افراد ہلاک ہوئے ان میں 267 شدت پسند، 160 شہری جن میں 31 بچے بھی شامل تھے ہلاک ہوئے۔ باقی مرنے والوں کا تعلق سکیورٹی فورسز اور فوج سے تھا۔

جانی نقصان کے ان اعداد و شمار میں درجنوں کی تعداد میں ان نوجوان کو شامل نہیں کیا گیا جو مبینہ طور پر سرحد عبور کرتے ہوئے سکیورٹی اہلکاروں سے مڈھ بھیڑ میں ہلاک ہوئے۔

سنہ 2018 میں شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو ہونے والا جانی نقصان گزشتہ ایک دہائی میں سب سے زیادہ رہا اور اس سال شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان مسلح تصادم کے آٹھ سو واقعات پیش آئے جو گزشتہ ایک عشرے میں سب سے زیادہ ہیں۔

یہ تشویشناک اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ‘آپریشن آل آوٹ’ کے نام سے ہونے والی سکیورٹی فورسز کی کارروائی کو زیادہ شدت سے جاری رکھا جائے گا تاکہ مسلح شدت پسندوں سے علاقے کو پاک کیا جا سکے۔

جموں اینڈ کشمیر کولیشن سول سوسائٹی کے مطابق اس شورش زدہ خطے میں تعینات انڈین فورسز کے اہلکاروں کو جس ذہنی دباؤ سے گزرنا پڑتا ہے اس کے باعث گزشتہ سال بیس سکیورٹی اہلکاروں نے خود کشی کی۔

مسلم اکثریت والی انڈیا کی اس ریاست میں جس کی کل آبادی ایک کروڑ پچیس لاکھ کے قریب ہے شدت پسندوں کو بھر پور عوامی حمایت حاصل ہے۔

لیکن مودی حکومت شدت پسندوں اور پاکستان سے اس مسئلہ پر بات چیت کرنے کے معاملے پر سخت گیر موقف اپنائے ہوئے ہے۔ اس سال ہونے والے عام انتخابات میں جب ان کے سخت گیر ہندو نظریات کی حامل جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی دوسری مرتبہ منتخب ہونے کی کوشش میں ہو گی کشمیر اور پاکستان کے بارے میں ان کی پالیسی میں کوئی نرمی آنے کی کوئی توقع نہیں ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے نے کمشیر یونیورسٹی کے سیاسی تجزیہ کار صدیق واحد سے بات کی جن کے مطابق اس سال صورت حال میں کوئی تبدیلی آنے کا امکان نہیں ہے۔ صدیق واحد نے کہا کہ بی جے پی اس سال کوشش کرے گی کہ کشمیر پر گرفت مضبوط کی جائے۔

دہلی میں قائم ایک تحقیقاتی ادارے آبزرو رسرچ کے منوج جوشی نے کہا کہ کشمیریوں کے موقف کو کسی قسم کے سیاسی عمل میں شامل کرنے یا اس پر غور کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی
انھوں نے مزید کہا کہ ‘ انڈیا میں عام انتخابات کا مطلب ہے کہ ہندتوا کی سیاست میں مزید شدت آئی گی خاص طور پر کشمیر کے معاملے پر۔’

سکیورٹی حکام اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کشمیر میں مزید سختیاں کرنے سے حالت مزید خراب ہو گے اور زیادہ سے زیادہ نوجوان شدت پسندی پر مائل ہوں گے۔

ایک سکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ گزشتہ سال کم از کم ایک سو اٹھائیس نوجوان زیر زمین مسلح گروپوں میں شامل ہوئے جو سنہ دو ہزار سترہ کے مقابلے میں ستر فیصد زیادہ تھے۔

دہلی میں قائم ایک تحقیقاتی ادارے آبزرو رسرچ کے منوج جوشی نے کہا کہ کشمیریوں کے موقف کو کسی قسم کے سیاسی عمل میں شامل کرنے یا اس پر غور کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی۔

انھوں نے کہا اس لیے یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ کشمیر کے مایوس نوجوان شدت پسند پر مائل ہو رہے ہیں۔

وادی میں خوف اور عدم اعتماد کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

انڈیا کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے حال میں ایک بیان میں کہا ہے کہ علیحدگی پسند احتجاج اور بدامنی پیدا کرنے کا کوئی موقع نہیں جانے دیتے۔

حکام شدت پسندوں پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور ان کے رشتہ داروں کو نشانہ بنانے کے الزامات بھی عائد کرتے ہیں۔

کشمیر کی شہری آبادی بھی انڈیا سے اپنے غم و غصے کے اجتماعی اظہار کے اکثر مظاہرے کرتی رہتی ہے۔ کشمیر میں تازہ ترین رجحان یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب کبھی سکیورٹی فورسز شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہوتی ہیں تو مقامی آبادی ان پر پتھراؤ کرتی ہے اور مزاحمت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.