32

2018ء کے انتخابات میں 13 خواجہ سرا بھی حصہ لیں گے

اعلان کے مطابق انتخابی دنگل میں اترنے والے 13 خواجہ سراؤں میں سے دو قومی جبکہ 11 صوبائی اسمبلیوں کے امیدوار ہوں گے۔

پاکستان میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی سیاسی اور انتخابی سرگرمیوں میں تیزی آنے لگی ہے اور اطلاعات ہیں کہ 25 جولائی کو ہونے والے ان انتخابات میں اس بار 13 خواجہ سرا بھی حصہ لیں گے۔

اس بات کا باضابطہ اعلان ’آل پاکستان ٹرانس جینڈر الیکشن نیٹ ورک‘ اور ’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ کی جانب سے مشترکہ طور پر منعقدہ قومی مشاورتی اجلاس میں کیا گیا۔

اعلان کے مطابق انتخابی دنگل میں اترنے والے 13 خواجہ سراؤں میں سے دو قومی جبکہ 11 صوبائی اسمبلیوں کے امیدوار ہوں گے۔

قومی مشاورتی اجلاس میں متوقع انتخابی امیدواروں اور ان کے انتخابی حلقوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

ان امیدواروں میں سے کچھ کے نام اور حلقے یہ ہیں: فرزانہ ریاض این اے 33، آرزو خان پی کے 33، لبنٰی پی پی 26، کومل پی پی 38، میڈیم بھٹو پی پی 189، نایاب این اے 142، جب کہ ندیم کشش قومی اسمبلی اور عاشی پنجاب اسمبلی کی نشست کے لیے انتخاب لڑیں گی۔

مشاورتی اجلاس کا مقصد امیدواروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مذاکرات تھے تا کہ وہ اپنے اپنے تحفظات اور خیالات شیئر کرسکیں۔

امیدواروں کی جانب سے جس چیز کے بارے میں سب سے زیادہ تحفظات ظاہر کیے گئے وہ شناختی دستاویز خاص کر کمپیوٹرائز قومی شناختی کارڈ ہے۔

اجلاس کے شرکا کا کہنا تھا کہ کچھ امیدواروں کو شناختی کارڈ میں مرد ظاہر کیا گیا ہے جب کہ وہ اپنے ظاہری خدوخال سے خاتون لگتے ہیں۔

پاکستان کے صوبے خیبر پخونخوا کی خصوصی کمیٹی برائے حقوق خواجہ سرا اور نیشنل ٹاسک فورس کے رکن قمر نسیم کے مطابق آرٹیکل 48 اے اور ‘بی ای سی پی ایکٹ 2017ء’ کے تحت خواجہ سرا کمیونٹی کو ’کمزور طبقے‘ میں شامل کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی کمیونٹی کو لائن میں کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں اور حقِ رائے دہی کے وقت بھی انہیں ترجیح دی جائے گی۔

گزشتہ انتخابات میں چار خواجہ سرا امیدواروں نے الیکشن میں حصہ لیا تھا تاہم وہ باقاعدہ تیاری سے الیکشن نہیں لڑے تھے۔ اس سال ’آل پاکستان ٹرانس جینڈر الیکشن نیٹ ورک‘ کے تحت خواجہ سرا منظم طریقے سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔

پاکستانی اخبار ‘ایکسپریس ٹریبیون’ کی ایک رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (جینڈر افیئرز) نگہت صدیقی کا کہنا ہے کہ کمیشن خواجہ سرا کمیونٹی کوانتخابات میں دوستانہ ماحول فراہم کرے گا کیوں کہ نہ صرف ووٹر بلکہ بطور امیدوار بھی خواجہ سراؤں کا الیکشن میں شرک ہونا ایک بڑی کامیابی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.