34

’100 روپے کا کارڈ ایک کے بجائے ڈیڑھ ہفتہ چلے گا`

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا کہنا ہے کہ عدالت کا فیصلہ قانون کی حیثیت رکھتا ہے اور اسے پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
لاہور سے تعلق رکھنے والی خالدہ خواندہ نہیں ہیں۔ وہ مختلف گھروں میں کام کر کے مہینے کے تقریباً پندرہ، بیس ہزار روپے کما کر اپنے چار بچوں کا پیٹ پالتی ہیں۔

40 سالہ خالدہ کے لیے موبائل فون ایک ضرورت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میرے بچے چھوٹے ہیں، گھر پر اکیلے ہوتے ہیں اسی لیے ان سے رابطے میں رہنا پڑتا ہے۔‘

وہ مجھے ڈی ایچ اے کے ایک سٹور پر موبائل کارڈ لوڈ کروا تے ہوئے ملیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ وہ مہینے میں کتنے کارڈ ڈلواتی ہیں؟

جواب ملا ’سو روپے والا ایک کارڈ مشکل سے ایک ہفتہ چلتا ہے۔‘

جب میں نے خالدہ سپریم کورٹ کے ان احکامات کے بارے میں بتایا کہ عدالت نے حکومت کو پری پیڈ موبائل فون کارڈز پر 38 فیصد ٹیکس کاٹنے سے روک دیا ہے تو بظاہر ٹیکس کی بات تو انھیں سمجھ نہیں آئی لیکن پورا سو روپے کا بیلنس ملنے اور موبائل کا کارڈ زیادہ دن چلنے کی امید سے خالدہ کا چہرہ کھل اٹھا۔

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے پیر کو ملک میں کام کرنے والی موبائل کمپنیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ پری پیڈ کارڈز پر عائد تمام ٹیکس ختم کر دیں اور اس کے لیے عدالت نے تمام موبائل کمپنیوں اور ایف بی آر کو دو دن کا وقت دیا ہے۔

اس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ جج صاحبان کے ریمارکس تھے کہ سو روپے کے کارڈ پر اتنے ٹیکس کی کٹوتی غیر قانونی اور استحصالی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ایک ریڑھی بان جو ٹیکس نیٹ میں ہی نہیں آتا، وہ یہ ٹیکس کیوں ادا کرے۔

چیف جسٹس آف نے ریمارکس دیے کہ صرف ان لوگوں پر ٹیکس نافذ کیا جائے جن کا موبائل فون کا ری چارج ایک خاص حد سے تجاوز کرے اور پری پیڈ کارڈز پر ٹیکس لگانے کے لیے پالیسی بنائی جائے۔

خالدہ سے بات کرنے کے بعد میں نے ایک سینئیر بینک افسر عامر شیخ سے بھی بات کی تو ان کا ردعمل بالکل مختلف تھا۔ ’مجھے تو اس بارے میں کوئی اندازہ نہیں کیونکہ کبھی سوچا نہیں، میرا بل میرا دفتر ادا کرتا ہے سو ٹیکس لگے یا نہیں مجھے فی الحال براہ راست کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔‘

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے ترجمان ڈاکٹر اقبال کا کہنا ہے کہ ’میں اس وقت اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ معزز عدالت کے فیصلہ پر کوئی رائے دے سکوں، البتہ عدالت کا فیصلہ قانون کی حیثیت رکھتا ہے اور اسے پر عملدرآمد کیا جائے گا۔‘

موبائل فون کمپنیز نے بھی فی الوقت اس معاملہ پر بات کرنے سے انکار کر دیا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے عدالت میں پیش کیے جانے والے ٹیکس کی تفصیلات کے مطابق جب سو روپے کا پری پیڈ کارڈ چارج کیا جاتا ہے تو اس پر ساڑھے 12 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی ہو جاتی ہے، دس فیصد کمپنی سروس چارجز کی مد میں کاٹتی ہے اور ساڑھے 19 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔

ان سب کٹوتیوں کے بعد کارڈ خریدنے والے کو 76 روپے 94 پیسے کا بیلنس ملتا ہے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اب جو وہ کالز اور ایس ایم ایس کرتا ہے ان پر پہلے سے ہی 19.5 فیصد (15 روپے) کا مزید سیلز ٹیکس کٹتا ہے اور سو روپے میں سے بچے صرف 61 روپے 93 پیسے۔

ماہر اقتصادیات ڈاکٹر قیس اسلم کا کہنا ہے کہ 100 روپے کے پری پیڈ کارڈ پر 38 فیصد کٹنے والے ٹیکس میں سے زیادہ تر حکومت کے پاس جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’حکومت کو جو پیسہ جانا ہے وہ اب نہیں جائے گا مگر وہ کہیں اور ٹیکس لگا کر پورا کر لے گی۔‘

ڈاکٹر اسلم کے خیال میں اب موبائل کمپنیوں کو براہِ راست فائدہ ہوگا۔ ’کالز بڑھ جائیں گی، جب کالز بڑھیں گی تو پیسہ ڈائریکٹ فون کمپنیز کو جائے گا ٹیکس کی مد میں نہیں بلکہ منافع کی مد میں جائے گا۔‘

لاہور ٹیکس بار کے سینیئر ممبر ایڈووکیٹ ناصر علی نے اس عدالتی فیصلے کو آئین اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کوئی بھی شخص جس کی سالانہ آمدن چار لاکھ یا اس سے زیادہ ہو گی، اس پر ٹیکس لاگو ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ’ٹیلی فون ٹیکس بھی تبھی لاگو ہوتا ہے جب فون کا بل کم از کم ہزار روپے ہو۔ اب ہزار روپے والے بل پر بھی ٹیکس تب کٹے گا جب فون استعمال کرنے والے کی آمدن چار لاکھ سالانہ ہو گی اور وہ اپنے ٹیکس رٹرن جمع کرواتے ہوئے ٹیکس ایڈجسٹمنٹ لے سکتا ہو۔‘

سالانہ آمدن کے لحاظ سے دیکھا جائے تو خالدہ اور اس جیسے کم آمدن والے طبقے کے افراد اس زمرے میں نہیں آتے کہ انھیں ٹیکس ادا کرنا پڑے جبکہ خالدہ سو روپے کے حساب سے مہینے میں صرف پانچ سو کے کارڈ خریدتی ہیں تو وہ یہ ٹیکس ادا کیوں کریں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.