146

’یہ ڈیل والی نہیں بلکہ جیل جانے والی باتیں ہیں‘

ایف آئی اے آصف زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید کے خلاف اربوں روپے کی مبینہ منی لانڈرنگ کے مقدمات کی تحقیقات کر رہا ہے
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری موسم سرما میں سیاسی گرما گرمی پیدا کرنے کی جستجو میں نظر آ رہے ہیں۔

ان کی حالیہ گرج برس سندھ کے شہر حیدر آباد میں منعقد ہونے والے ایک جلسے سے خطاب کے دوران اس وقت سامنے آئی جب انھوں نے کسی نام یا منصب کے ذکر کے بغیر کہا کہ جن کی مدت ملازت تین سال ہے وہ قوم کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ طاقت صرف پارلیمان کے پاس ہے۔ آپ کا اس سے کیا تعلق ہے؟ آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔‘ آصف زرداری کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالتوں میں 90 لاکھ مقدمات زیرِ التوا ہیں پہلے انھیں نمٹائیں۔

اس خطاب کے علاوہ انھوں نے صحافیوں سے گذشتہ چند دنوں کے دوران ہونے والی گفتگو میں یہ بھی کہا کہ انھیں وسط مدتی انتخابات کے اشارے مل رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن نے یہ باتیں ایک ایسے موقع پر کی ہیں جب جعلی اکاؤنٹس کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ آنے والے دنوں میں سپریم کورٹ میں پیش کی جا رہی ہے۔

ایف آئی اے آصف زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید کے خلاف اربوں روپے کی مبینہ منی لانڈرنگ کے مقدمات کی تحقیقات کر رہا ہے اور اس سلسلے میں تشکیل دی گئی جے آئی ٹی کے روبرو آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال بھی پیش ہو چکے ہیں۔

ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ اومنی گروپ کے بے نامی اکاؤنٹس سے زرداری گروپ کو بھی مالی منتقلیاں کی گئی تھیں۔

بات منی لانڈرنگ تک محدود نہیں رہی
تجزیہ نگار اور سینیئر صحافی مظہر عباس کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کے خلاف مقدمات پختہ ہو رہے ہیں اور اب بات منی لانڈرنگ تک محدود نہیں ہے۔

جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم نے سنہ 2008 سے لیکر 2018 تک سندھ حکومت کا تمام ریکارڈ طلب کیا ہے جو کہ بقول وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے دے دیا گیا ہے۔

مظہر عباس کے مطابق ’تحقیقات بہت باریک بینی سے ہو رہی ہیں اور آصف علی زرداری کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ انھیں دباؤ میں لانے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے ورنہ وہ موجودہ سیاسی صورت حال میں وسط مدتی انتخابات اور حکومت جانے کی بات کیوں کریں گے؟۔‘

آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور ایف آئی اے کے سامنے پیش ہو چکی ہیں
سینیئر صحافی عارف نظامی کا کہنا ہے کہ آصف زرداری اور ان کے خاندان کا گھیراؤ تنگ ہو رہا ہے۔ وہ اس کی شکایت بھی کر رہے ہیں۔ مجموعی صورت حال یہ ہے کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی دونوں کی قیادت کا کہنا ہے کہ انھیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اسی لیے آصف زرداری سخت زباں استعمال کر رہے ہیں جیسی نواز شریف نے اقتدار چھوڑنے کے بعد کی تھی اور بعد میں وہ خاموش ہو گئے۔

’آصف زرداری نے سنہ 2015 میں بھی ایسی باتیں کیں اور اس کے بعد وہ خود ساختہ جلاوطنی میں چلے گئے اور جب تک سابق آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف موجود رہے وہ واپس نہیں آئے۔ وہ اپنے خلاف کارروائی کو عمران خان کے علاوہ فوجی قیادت کو بھی مورد الزام ٹھرا رہے ہیں۔ اگر ڈیل ہونی ہوتی تو وہ اس قدر سخت زباں استعمال نہیں کرتے، یہ ڈیل والی نہیں بلکہ جیل جانے والی باتیں ہیں۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت پر امید ہے کہ صورت حال غیر معمولی نہیں۔ پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زماں کائرہ کا کہنا ہے کہ آصف زرداری نے اداروں کو اپنی حدود کے اندر رہ کر کام کرنے کے لیے کہا ہے تو اس میں غلط کیا ہے۔

’اس بیان کا نہ تو جے آئی ٹی سے کوئی تعلق ہے نہ ہی ان پر دائر مقدمات سے۔ کیا ان بیانات سے انھیں (آصف زرداری) کو کوئی ریلیف مل جائے گا؟ ایسا تو نہیں ہو گا۔ ہم نے عدالتوں کا احترام کیا ہے اور فوج کو مضبوط کرنے کی بات کی ہے ہم اس کے سیاسی کردار کی مخالفت کرتے رہے ہیں جو پارٹی کا بنیادی اصول ہے۔‘

مارچ سے پہلے جھاڑو پھر جائے گی؟
پاکستان تحریک انصاف اور اس کے اتحادی گذشتہ کچھ عرصے سے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ آصف زرداری کے خلاف بھی بڑی کارروائی ہونے جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کا دعویٰ ہے کہ مارچ سے پہلے جھاڑو پھر جائے گی، خزانہ لوٹنے والے قومی غداری کے مرتکب ہیں پوری قوم عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما تاج حیدر، شیخ رشید کے موقف کو توہین آمیز قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’سیاسی کارکن کے لیے اس سے بڑی توہین کیا ہو گی کہ آپ اسے یہ کہہ کر ڈرائیں کہ آپ جیل چلے جائیں گے۔ یہ جیل کی دھمکی کس کو دے رہے ہیں جو 11 سال جیل میں گزار چکا ہے۔‘

اسٹیبلشمینٹ سے ٹکراؤ اور ساتھ بھی
آصف زرداری کا جہاں اسٹیبلشمینٹ کے ساتھ ٹکراؤ رہا وہاں انھوں نے تعلقات میں بہتری کی بھی کوشش کی ہے۔

ایوان صدر میں موجودگی کے وقت انھوں نے کہا تھا کہ یہاں سے میں ایمبولینس میں ہی نکلوں گا، بعد میں نواز شریف کی حکومت میں انھوں نے بیان دیا کہ ہمیں چھیڑا گیا تو ہم اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے جس کے بعد ان کا حالیہ بیان سامنے آیا ہے۔

سینیئر تجزیہ نگار اور صحافی عارف نظامی کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری کی پوری کوشش کی ہے کہ وہ عمران خان اور اسٹیبلشمینٹ کو خوش کریں، جو کچھ بلوچستان میں سیاسی انجنیئرنگ ہوئی وہ اس کا پورا طرح حصہ تھے، اس کے علاوہ بلوچستان عوامی پارٹی کی تشکیل، سینیٹ میں انتخابات، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا چناؤ تاہم اس کے باوجود انھیں کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی اسی لیے انھوں نے تنگ آمد و جنگ آمد رویہ اختیار کیا ہے۔

موجودہ وقت تحریک انصاف اور اسٹیبلشمینٹ ایک پی پیج پر نظر آتے ہیں اور ان میں مکمل طور پر ہم آہنگی نظر آ رہی ہے: صحافی اور تجزیہ نگار مظہر عباس
پاکستان میں ماضی میں حکومتوں کے خلاف سیاسی جماعتوں کے الائنس اور فوجی اسٹیبلشمینٹ کی مدد و حمایت کی تاریخ رہی ہے۔ پی این اے اور آئی جی آئی اس کی واضح مثالیں ہیں۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ موجودہ وقت تحریک انصاف اور اسٹیبلشمینٹ ایک پی پیج پر نظر آتے ہیں اور ان میں مکمل طور پر ہم آہنگی نظر آ رہی ہے۔

’اس وقت تک کوئی ایسا اشو سامنے نہیں جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ شاید پی ٹی آئی یا وزیراعظم عمران خان کسی مسئلے پر خوش نہیں یا اسٹیبلشمینٹ ان سے ناراض ہے، اس طرح عدلیہ سے بھی انھیں کسی بڑے مسئلے کا سامنے نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز اتحاد
قومی اسمبلی کے اجلاس میں آصف زرداری نے شہباز شریف سے ملاقات کی، غیر تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق انھوں نے نواز شریف سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمرزماں کائرہ کا کہنا ہے کہ نواز شریف سے ملاقات کی خواہش کے اظہار سے وہ لاعلم ہیں تاہم شہباز شریف سے ملاقات اچھنبے کی بات نہیں۔ دونوں اپوزیشن جماعتیں ہیں اور بہت سارے معاملات پر ایڈجسمنٹ کرنی پڑتی ہے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا پڑتا ہے۔

’پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز دونوں مختلف خیال اور طبقات کی جماعتیں ہیں بعض اوقات سیاسی مجبوریاں ایسا کر دیتی ہیں۔ سنہ 2008 میں ہم دونوں اکٹھے حکومت میں بھی آ گئے تھے۔ سیاست میں ممکنات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا لیکن اس پر ابھی تک کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔‘

ریاض سہیل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.