21

یوکرین لڑکیوں کی کوکھ کرائے پر دستیاب

یوکرین جس کا شمار یورپ کے غریب ممالک میں ہوتا ہے، وہ تیزی سے کرائے کی ماؤں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے امیر ممالک کے ایسے جوڑے جو خود کسی وجہ سے بچے پیدا کرنے سے قاصر ہیں وہ یوکرین کی نوجوان عورتوں کی کوکھ کو کرائے پر خرید رہے ہیں۔

آنا (اصل نام نہیں) کو سروگیسی (کرائے کی ماں) ) کے بارے میں معلومات ٹیلویژن کی خبروں سے ہوا۔ آنا نے ابھی سکینڈری سکول سے نکلی تھیں اور ہوٹل میں نوکری کرنے کا سوچ رہی تھیں جب انھیں سروگیسی کے بارے میں معلوم ہوا۔

ہوٹل کی نوکری میں آنا کو 200 ڈالر تنخواہ ملتی تھی جبکہ وہ اپنی کوکھ کرائے پر دے کر 20ہزار ڈالر کما سکتی ہے۔

آنا کا خاندان غریب نہیں ہے۔ ان کی ماں ایک اکاونٹنٹ ہیں اور انھوں نے ہمیشہ آنا کی مدد کی۔

لیکن آنا کہتی ہیں کہ وہ سروگیسی کی طرف اس لیے مائل ہوئیں کہ وہ زیادہ دولت چاہتی تھیں تاکہ گھر کی تزئین و آرائش کرسکیں، اور گاڑی بھی خرید سکیں۔

یوکرین میں صرف آنا ہی نہیں ہے بلکہ سینکڑوں ایسی عورتیں ہیں جو سروگیسی کی صنعت کا حصہ بن چکی ہیں۔

جب انڈیا، نیپال اور تھائی لینڈ میں سروگیسی کی صنعت پر پابندیاں عائد کی گئیں تو لوگوں نے یوکرین کا رخ کیا۔

آنا نے اکیس برس کی عمر میں اپنی کوکھ کو کرائے پر دینے کا فیصلہ کیا۔ وہ اس وقت تک ایک بچی کی ماں بن چکی تھیں۔

یوکرین کے قانون کے مطابق صرف وہی عورت اپنی کوکھ کرائے پر دے سکتی ہے جس کی کم از کم اپنی ایک اولاد ہو۔ اس کی یہ وجہ بتائی جاتی ہے ہ عورتیں بچے کی پیدائش پر جذباتی نہ ہو جائیں۔

آنا نے پہلی بار اپنی کوکھ سلوونیا کے ایک جوڑے کو کرائے پر دی۔ انھوں نے کیو میں جوڑے سے ایک معاہدہ کیا اور پھر ایک کلینک میں ایمبرو ان کی بچہ دانی میں ڈال دیا گیا۔ اس دوران آنا کو شکایت ہوئی کہ وہ ہسپتال جہاں انھوں نے اپنی کوکھ کرائے پر دی تھی وہ ان کی مناسب دیکھ بھال نہیں کر رہا تھا۔ بالاخر انھوں نے ایک صحت مند بچے کو جنم دیا۔

آنا نے دوسری بار اپنی کوکھ ایک جاپانی جوڑے کو کرائے پر دی۔ چوبیس برس کی عمر میں آنا تین بچوں کی ماں بن چکی ہیں، ان میں ایک ان کا اپنا ہے جبکہ دو بچے انھوں نے کرائے پر جنم دیے۔

سڈنی میں قائم ایک خیراتی ادارے ’فیملیز تھرو سیروگیسی‘ سے تعلق رکھنے والے سیم ایورنگہیم کہتے ہیں کہ پچھلے دو برسوں میں یوکرین میں سروگیسی کے واقعات میں ہزار فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ یوکرین میں قوانین خواتین کو سروگیسی کی اجازت دیتے ہیں۔

یوکرین میں کچھ کلینک تو قانونی طریقے سے سروگیسی کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ ایسے بھی ہیں جو سروگیسی سے متعلق قوانین کا خیال نہیں کرتے ہیں اور ایسی شکایت عام ہیں کہ اگر سروگریٹ ماں کا بچہ ضائع ہو جائے تو وہ اسے معاوضہ بھی نہیں دیتے۔

یوکرین کی ممبر پارلیمنٹ اولگا بوگومولیٹس جو خود ایک ڈاکٹر ہیں، سمجھتی ہیں کہ یوکرین کی عورتوں کا سروگیسی کی طرف مائل ہونے کی وجہ یوکرین کی معاشی حالت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ملک کی خراب ہوتی ہوئی معیشت عورتوں کو اپنی کوکھ کو کرائے پر دینے پر مجبور کر رہی ہے۔

اولگا بوگومولیٹس کہتی ہیں سروگیسی کی صنعت کی کوئی نگرانی نہیں ہو رہی ہے جس کی ماؤں اور رقم ادا کرنے والے والدین دونوں کو نقصان ہو رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں