51

’یمن میں تمام فریقین جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے‘

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یمن میں جاری تصادم میں تمام فریقین جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔

یمن میں جاری کے حوالے سے اپنی نوعیت کی پہلی رپورٹ میں انسانی حقوق کے ماہرین نے کہا ہے کہ مبینہ طور پر یمن کی سکیورٹی فورسز، سعودی اتحاد اور حوثی باغیوں نے شہریوں کی حفاظت کے لیے بہت کم اقدامات کیے۔

رپورٹ میں سکولوں، ہسپتالوں اور مارکٹوں پر بمباری اور شیلنگ کا ذکر کیا ہے جن میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔

سعودی اتحاد کا یمن میں حملہ، ’22 بچے، چار عورتیں ہلاک‘

یمن: سکول بس پر اتحادی فضائیہ کی بمباری، درجنوں بچے ہلاک

رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اتحادیوں کی جانب سے فضائی اور بحری بندش بھی جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین اگلے ماہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کو اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔

یاد رہے کہ پیر کو سعودی اتحاد نے اقوام متحدہ پر متعصب ہونے کا الزام لگایا تھا۔ اقوام متحدہ نے حوثی کے قبضے میں علاقے پر بمباری کے دو واقعات کی مذمت کی تھی۔ ان حملوں میں متعدد بچے ہلاک ہوئے تھے۔

سعودی اتحاد کے ترجمان ترک المالکی نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی معلومات باغیوں کی دی ہوئی ہیں۔

یمن میں 2015 میں شروع ہوئی جنگ میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

حوثی باغیوں کے سر اٹھانے پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور سات دیگر عرب ممالک نے اتحاد بنایا اور حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں کا آعاز کیا۔

2015 سے جاری تصادم میں دس ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں دو تہائی عام شہری ہیں۔

سعودی اتحاد کی طرف سے فضائی اور بحری بندش کے باعث دو کروڑ 20 لاکھ لوگوں تک امداد نہیں پہنچ رہی جس کے باعث دنیا کی سب سے بڑی فوڈ سکیورٹی ایمرجنسی واقع ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.