62

نیب کا کیپٹن صفدر کے خلاف مقدمات کی جانچ پڑتال کا حکم، علی جہانگیر کا نام ای سی ایل میں رکھنے فیصلہ

نیب کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ‘چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں میسرز ایز گارڈن اور میسرز ایگری ٹیک لمیٹڈ اور دیگر کے خلاف انکوائری میں احمد ہمایوں شیخ اور علی جہانگیر صدیقی کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا’۔

خیال رہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے معروف بزنس مین جہانگیر صدیقی کے صاحبزادے علی جہانگیر صدیقی کو امریکا میں پاکستان کا سفیر تعینات کرنے کی منظوری دی تھی۔

واشنگٹن میں موجود پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری کی مدت جلد مکمل ہونے والی ہے جس کے بعد یہ عہدہ خالی ہوجائے گا۔

علی جہانگیر صدیقی کی نامزدگی کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ انھیں سفارت کاری کا تجربہ نہیں ہے تاہم وزیر اعظم نے اس تنقید کو بلاجواز قرار دیا تھا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکا کے ساتھ اس وقت تعلقات مختلف نوعیت کے ہیں اسی لیے روایت سے ہٹ کر سفارت کاری کی ضرورت ہے اور علی جہانگیر صدیقی کے پاس یہ قابلیت ہے۔

وزیراعظم نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ علی جہانگیر صدیقی سے ان کی کوئی کاروباری شراکت نہیں ہے۔

خیال رہے کہ علی جہانگیر صدیقی اگست 2017 سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے معاون خصوصی مقرر کیا گیا تھا، تاہم اس وقت سے اب تک انھیں کوئی قلم دان نہیں دیا گیا تھا۔

نیب اعلامیے کے مطابق ‘اجلاس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف آمدن سے سے زائد اثاثے بنانے اور مانسہرہ میں 300 کینال زمین، 30 کینال کا پلاٹ، ایک کینال کا گھر، ٹاؤن شپ مانسہرہ میں فلور مل کے مبینہ الزامات کی شکایت پر جانچ پڑتال کا حکم دیا ہے’۔

‘اجلاس میں کابینہ ڈویژن سے پی ایم گلوبل سسٹینیبل ڈیولپمنٹ گول ایچیومنٹ پروگرام کے تحت 9 ارب روپے کو کیپٹن(ر) صفدر کو غیر قانونی طور پر دینے کے مبینہ الزام کی شکایت کی جانچ پڑتال کا حکم دیا ہے’۔

خیال رہے کہ کیپٹن (ر) صفدر سپریم کورٹ کے پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں نیب کی جانب سے دائر ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز کے ہمراہ احتساب عدالت میں پیش ہورہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.