81

ہوا بازی کی تاریخ کا نیا موڑ

اگلے چند ماہ میں ہوا بازی کی تاریخ میں دنیا کا سب سے بڑا طیارہ اپنی پہلی پر واز پر روانہ ہو گا ۔ماہرین کے مطابق اس طیارے کے دو کا ک پٹ ہیں ،جب کہ 6 انجنوں کی وجہ سے یہ اب تک کا طاقت ور طیارہ بھی ہے ۔اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کاایک ونگ (پر) فٹ بال گر ائونڈ کی لمبائی سے بھی زیادہ ہے اور اس میں ٹیک آف اور لینڈنگ کے لیے 28 پہیے نصب کیے گئے ہیں ۔ طیارے میں نصب ہونے والے جیٹ انجن عام طور پر 747جمبو جیٹ میں استعمال کئے جاتے ہیں۔

یہ انجن سٹیلائٹس اور خلا نوردوں کو زمین کے اوپری کرہ ہوائی تک پہنچانے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں جہاں سے انہیں خلا میں چھوڑا جاتا ہے۔کوراڈو میں منعقدہ 34 ویں خلائی سمپوزیم میں دنیا کے سب سے بڑے طیارے ’’اسٹار ٹو لانچ ‘‘ کے بارے میں توقع کا اظہار کیا گیا ۔یہ قوی الجثہ طیارہ موسم گر ما میں پہلی پرواز پر روانہ ہوگا ۔کمپنی کے مطابق چند ماہ قبل طیارے نے رن وے پر دوڑنے کے دوٹیسٹ میں پہلے ہی کام یابی حاصل کرلی ہے ۔اس دوران اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 41 کلو میٹر فی گھنٹے سے 74 کلو میٹر فی گھنٹہ تھی ۔پہلی پرواز سے قبل طیارے کے رن وےپر دوڑنے کے مزید تین ٹیسٹ کئے جائیں گے۔

انگیجیٹ کے مطابق اگلے تین ٹیسٹ کے دوران طیارہ رن وے پر دوڑتے ہوئے 128 کلو میٹر فی گھنٹہ سے لے کر 222 کلو میٹر فی گھنٹےکی رفتار پکڑ ے گا۔ اس کے مقابلے میں روایتی جیٹ طیارے 190 کلو میٹر فی گھنٹہ سے 241 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک رن وے پر دوڑتے ہیں۔ طیارے کے تخلیق کاروں کے مطابق خلا کارگو بھیجنے کے لیے استعمال کئے جانے کے ساتھ ساتھ اسے ایک خفیہ شٹل کے سائز کا راکٹ خلا میں بھیجنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکے گا ،جس کا کوڈ نام ’’بلیک آئس‘‘ ہے۔ رن وے پر طیارے کے دوڑنے کی کم رفتار والے ٹیسٹ 25فروری 2018ء کو کئے گئے تھے، جس کے دوران طیارے میں نصب 8940 پونڈز وزنی تمام 6 انجن چلائے گئے تھے۔ اسٹار ٹو لائونچ کی جسامت اتنی بڑی ہے کہ اس میں دہرے ڈھانچے (Fuselags) کی ضرورت پیش آئی اور دونوں ڈھانچوں میں دو علیحدہ کاک پٹ بنائے گئے ۔

کیلی فورنیا کے میوجیوائر اینڈ اسپیس پورٹ پر ہونے والے حالیہ ٹیسٹ کا بنیادی مقصد رن وے پر جہاز کو چلانے اور روکنے کی اہلیت جانچنا تھا۔ اسٹار ٹو لائونچ سسٹمز کارپوریشن کی ایک گرائونڈ ٹیم نے طیارے کے متعدد سسٹمز بشمول موڑنے، روکے، پھسلنے سے بچانے اور ریڈیو سگنلز کے ذریعے مسافت پیمائی (Telemetry) کی جانچ پڑتال کی۔ قبل ازیں انجینئروں نے گزشتہ سال دسمبر میں طیارے کے رن وے پر دوڑنے کے ٹیسٹ کئے، مگر اس وقت رفتار صرف 25 ناٹس (45 کلو میٹر فی گھنٹہ) تک پہنچ سکی تھی، جب طیارہ ہوا کے دوش پر رواں ہوگا تو صرف تین افراد پر مشتمل کریو (پائلٹ، شریک پائلٹ اور فلائٹ انجینئر )دائیں جانب والے کاک پٹ میں بیٹھ کر طیارے کو کنٹرول کریں گے۔ بائیں جانب کا ڈھانچہ بظاہر دیکھنے سے بالکل دائیں جانب جیسا نظر آتا ہے ،جس میں کاک پٹ اور باہر دیکھنے کے لیے کھڑکیاں بھی ہیں ،مگر درحقیقت یہ حصہ خالی اور کسی دبائو کے بغیر ہوگا۔ایک رپورٹ کے مطابق اسٹار ٹو لائونچ کا وزن کسی کارگو کے بغیر تقریباً 5لاکھ پائونڈ زہے، جب کہ اس میں 13لاکھ پائونڈز وزنی کارگو لے جانے کی گنجائش بھی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ طیارہ قوی الجثہ ہونے کے باعث ائربورن راکٹ لانچر کی حیثیت سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ روایتی طور پر سٹیلائٹس اور دیگر خلائی وہیکلز خلا میں ایک لائونچ پیڈ سے چھوڑے جاتے ہیں، جس کے لیے بھاری مقدار میں فیول کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اسٹار ٹو لائونچ کی ٹیم نے گزشتہ سال ستمبر میں پہلا انجن اسٹارٹ کرنے کے بعد سے مشن کنٹرول سینٹر (ایم سی سی) پر تمام انجنوں کی کارکردگی کا جائزہ بھی لے لیا تھا۔

طیارے کی جسامت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر اسے ایک فٹ بال گرائونڈ کے عین وسط میں کھڑا کیا جائے تو اس کے دونوں ونگز دونوں جانب کے گول پوسٹ سے مزید 2.5 فیٹ باہر ہوں گے۔ طیارے کی آزمائشی پرواز 2016ء اور 2017ء میں متوقع تھی،مگر تکنیکی پیچیدگیوں کے باعث تعطل کے نتیجے میں اب اس موسم گرما میں ہوگی۔ اسٹار ٹو لائونچ ٹیم 19ستمبر کو موجیو ائر اینڈ اسپیس پورٹ پر 6فیول ٹیفکس کی فیول ٹیسٹنگ کرچکی ہے۔ان فیول ٹینکوں کو فیول میکانزم ٹیسٹ کرنے کے لیے مکمل بھرا گیا ،بعدازاںفیول ٹیسٹنگ کے بعد اب انجینئروں نے فلائٹ کنٹرول سسٹم کی جانچ پڑتال شروع کردی ہے۔ پال ایلن نے جون 2017ء کے آغاز میں دنیا کے سب سے بڑے طیارے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ طیارے کے ایک پر کی لمبائی 385 فیٹ ہے، جو اب تک بننے والے تمام طیاروں سے زیادہ ہے۔ 2011ء میں منصوبے کی ابتدائی لاگت کا تخمینہ 300 ملین ڈالر لگایا گیا تھا، مگر 7 سال گزرنے کے بعد اس کے حتمی اخراجات کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ اسٹار ٹو لائونچ کو دو ڈھانچوں کے درمیان راکٹ لے جانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ یہ تیز تر ین طیارہ ایک ایرو اسپیس کمپنی اسکالڈ کمپوزٹس نے تعمیر کیا ہے۔

ایلن کے منصوبے کا بنیادی مقصد انٹرنیٹ تک رسائی، زمین کی مختلف زاویوں سے تصاویر لینا، موسم کے اعدادوشمار مرتب کرنا اور زمین کے گرد کم بلندی پر گردش کرنے والے سیارچوں کی مدد سے سیکڑوں نیٹ ورکس کے لیے خدمات فراہم کرنا ہے۔ ان کا مقصد ایلن مسک کی اسپیس ایکس، جیف بیزو کی بلیو اوریجن، رچرڈ برانسن کی ورجن گیلا کٹک اور دیگر کمپنیوں کے مقاصد سے قطعی مختلف ہے جو کہ خلا میں ایک تجارتی شاہراہ تعمیر کرنے کے لیے کام کررہی ہیں۔ ایلن کے منصوبے کے ذریعے سیارچوں کو زمین کے اہم مدار میں براہ راست پہنچایا جاسکے گا، موسم کی خرابی اس کی روانگی میں خلل نہیں ڈال سکے گی ،جب کہ کسی لائونچ پیڈ کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔ ایلن کی یہ سروسز اسے ایک منفرد مقام دلوائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.