29

“ہماری صنعت ہماری طاقت” ۔۔۔ سعودی عرب کی سب بڑی عسکری نمائش


دی بنوں (العربیہ ڈاٹ نیٹ)
سعودی عرب میں سات روزہ صنعتی نمائش کا آغاز دارالحکومت الریاض کے بین الاقوامی کانفرنس سینٹر میں کل اتوار سے ہوگیا ہے۔ صنعتی نمائش ’افد 2018″ کے لیے “ہماری صنعت ہماری طاقت” کا عنوان منتخب کیا گیا ہے۔ الریاض میں ہونے والی اس نمائش میں ویژن 2030 کے مطابق مقامی سطح پر تیار کی جانے والی عسکری مصنوعات کی نمائش کی جا رہی ہے۔

فوجی نمائش کے پہلے مرحلے کا آغاز ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کی نگرانی میں‌ ہوا جبکہ افتتاحی تقریب میں سعودی عرب کی مسلح‌ افواج کے سربراہ جنرل عبدالرحمان بن صالح البنیان سمیت کئی دیگر حکومتی وزرإ،جمہوریہ ترکی کے معزز مہمان ، عرب ممالک اور دوسرے ملکوں کے مندوبین شریک تھے۔

“اوفد 2018” اپنی طرز کی چوتھی بڑی فوجی نمائش ہے۔ اس نمائش میں مقامی سطح پر عسکری میدان میں استعمال ہونے والے آلات حرب وضرب ، ہتیھیاروں کے اسپیئر پارٹس اور دیگر اشیا شامل ہیں۔

علاقائی اور مقامی دفاعی صنعت کا فروغ
سعودی عرب میں مقامی سطح پر اسحلہ سازی کی صنعت تیزی کے ساتھ پھل پھول رہی ہے۔ توقع ہے کہ مملکت میں ہونے والی اس نمائش سے آنے والے برسوں کے دوران مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 80 ہزار سے زائد افراد کو روزگار ملے گا۔

“اوفد 2018” عسکری نمائش کا مقصد سعودی عرب کی فوجی صنعت کو عالمی معیارکے مطابق جدت سے آشنا کرنا، عالمی اور مقامی اسلحہ ساز کمپنیوں کی شراکت سے تکمیلی صنعتی مواد کی منتقلی، انہیں مکمل اسلحہ میں تبدیل کرنے اور سعودی عرب میں تیار ہونے والی مصنوعات کو علاقائی اور عالمی مارکیٹ میں متعارف کرانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مملکت میں مستقبل قریب میں چھوٹے، درمیانے اور وسیع پیمانے پر غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے دفاعی صنعت کےشعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

نمائش کی پذیرائی مقامی صنعت کی معاونت
سعودی عرب میں ہونے والی موجودہ عسکری نمائش کےموقع پر بڑی تعداد میں علاقائی ملکوں کے مندوبین کی شرکت اس بات کی غماض ہے کہ عالمی اور مقامی سطح پر سعودی دفاعی مصنوعات کو غیرمعمولی پذیرائی مل رہی ہے۔ کئی عالمی دفاعی کمپنیوں نے سعودی حکومت کے ساتھ سرمایہ کاری کے معاہدے کرنا شروع کر دیے ہیں۔
برطانیہ کی بوئنگ فضائی کمپنی، لاکھیڈ مارٹن، ریتھیون، ھانوا، نورتھ، روپ قرومن، ھفلیسان، جنرل ڈائنمامیکس، اسیلسان، نوینکو،اے ایم جنرل اور ایل آئی جی سمیت 18 عالمی دفاعی کمپنیوں‌ نے سعودی وزاارت دفاع کے ساتھ دفاعی معاہدے کے ہیں۔ ان معاہدوں میں عالمی کمپنیوں سعودی عرب میں دفاعی صنعت کے لیے سرمایہ کاری کے منصوبے شروع کیے ہیں۔

نمائش کے سیکشن تین میں سعودی حکومت کی طرف سے دفاعی شعبے سے مستفید ہونے والے حلقوں کے ساتھ رابطہ کاری میں‌ اضافہ ہے۔ حکومت مختلف اداروں کے توسط سے دوسرے ملکوں کے اداروں، ان کی اسلحہ سازی کی تجربہ گاہوں کےساتھ رابطے میں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ نمائش میں 32 مختلف شعبوں کے مندوبین کو شریک کیاگیا۔ ان میں وزارت مواصلات، سائنس و ٹیکنالوجی، لیبر، وزارت صحت، تعلیم، دفاعی پیداوار، پبلک سیکٹر کی ترقی، ٹیکنیکل ٹریننگ، اور شاہ عبدالعزلز سائنس وٹیکنالوجی سٹی کے حکام نے اس نمائش کی تیاری میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔جب کہ سیکشن چار میں مقامی اور عالمی سطح پر سعودی عرب کی دفاعی مصنوعات سے مستفید ہونے والے 143 اداروں اور کمپنیوں نے شرکت کے سعودی عرب کی دفاعی صعنت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

جمہوریہ ترکی کی شرکت
سعودی عرب میں‌جاری سات روزہ دفاعی نمائش میں اس بار جمہوریہ ترکی کئ سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر کے مندوبین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ترک کمپنیوں جانب سے “اوفد2018” میں شرکت سے ترکی کی سرمایہ کار کمپنیوں کو سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ سعودی دفاعی مصنوعات کو ترکی میں‌ فروغ دینے کا موقع ملے گا۔

نمائش میں موجود ترک کمپنیوں‌ نے سعودی مصنوعات اور دفاعی آلات کے اسپیئر پارٹس کی خریداری میں گہری دلچسپی لی ہے۔ یہ نمائش نہ صرف ترک سرمایہ کاروں کو نئے مواقع فراہم کرے گا بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات کے فروغ میں‌معاون ثابت ہوگا۔

نمائش میں شرکت کرنے والی غیرملکی کمپنیوں اور مندوبین کی رہ نمائی کےلیے معلوماتی ورکشاپس کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ اس دوران ترکی کی دفاعی صنعت سے استفادے کے لیے ترک ماہرین سے بھی رہ نمائی لی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.