40

ہسپتالوں کی ممکنہ نجکاری کے خلاف طبی عملے کا احتجاج جاری

ہسپتالوں کی ممکنہ نجکاری کے خلاف طبی عملے کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا ہسپتالوں میں تمام شعبہ جات بند رکھی گئیں جبکہ صرف ایمرجنسی بنیادوں پر علاج معالجہ کیا جا تا رہا خلیفہ گل نواز ہسپتال میں گرینڈ ہیلتھ الائنس کے زیر اہتمام ہڑتال اور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے گرینڈ ہیلتھ الائنس کے صدر خیر اللہ خان ، ڈاکٹر اسفندیار خان ،ڈاکٹر دلفراز خان نے کہا کہ ہم خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ایوان میں پیش کئے گئے ہسپتالوں کی نجکاری ،ڈسٹرکٹ اور ریجنل ہیلتھ اتھارٹی اور ایم ٹی آ ئی کے خلاف ہیں صوبائی اسمبلی میں پیش کئے گئے بل کے خلاف ہیں.
یہ صوبے میں ہسپتالوں کی نجکاری کی جانب ایک قدم ہے،ہسپتالوں کی نجکاری سے جہاں ایک طرف طبی عملہ شدید بحران کا شکار رہے گا تو وہاں اس سے زائد مریضوں کو مشکلات درپیش ہوں گی کیونکہ نجکاری سے او پی ڈی پرچہ دس روپے کے بجائے سینکڑوں روپے میں ملا گا اسی طرح معمولی علاج معالجہ پر دس ہزار سے زائد رقم خرچ ہو گی جو غریبوں کی استطاعت سے باہر ہے اُنہوں نے کہا کہ آج چونکہ مریضوں کو مشکلات ضرور ہیں جس کا احساس ہمیں ہے لیکن آج کی تکلیف برداشت کرکے آنے والے کل میں اُنہیں زائد الرقم علاج سے چھٹکارہ ضرور ملے گا لہذا بنوں کے غریب عوام بھی ہمارے ساتھ اس احتجاج اور ہڑتال میں بھر پور تعاون کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.