39

گوگل امریکہ کی عسکری مدد نہ کرے: گوگل ملازمین

معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے ہزاروں ملازمین نے ایک کھلے خط میں کمپنی سے استدعا کی ہے کہ وہ امریکی فوج کے لیے ایک خصوصی پروجیکٹ پر کام نہ کریں۔

اس پروجیکٹ کا نام پروجیکٹ میون ہے اور اس کا مقصد آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے ڈرون حملوں کے نشانے کو بہتر بنانا ہے۔

ملازمین کو خدشہ ہے کہ اس سے گوگل کی ساخ کو ناقابلِ مرمت نقصان پہنچے گا۔

مزید پڑھیے

گوگل ٹیکنالوجی امریکی فوج کے استعمال میں

گوگل کے سی ای او سندر پچائی کے نام اس خط میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارا ماننا ہے کہ گوگل کو جنگ کے کاروبار میں نہیں ہونا چاہیے۔‘

’اسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ پروجیکٹ میوں کو منسوخ کیا جائے اور گوگل واضح پالیسی کا اعلان اور اس پر عمل کرے کہ گوگل یا اس کے کوئی ٹھیکیدار جنگی ٹیکنالوجی تیار نہیں کریں گے۔‘

’کوئی عسکری پروجیکٹ نہیں‘

’درجنوں سینیئر انجینیئروں‘ سمیت 3100 ملازمین کے دستخط والے اس خط کے بارے میں نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ سٹاف پہلے ہی مینجمنٹ سے اس بارے میں خدشات ظاہر کر چکے تھے۔ دنیا بھر میں گوگل کے 88000 ملازمین ہیں۔

گوگل کی کلاؤڈ بزنس کی سربراہ ڈائیں گرین نے اس خدشات کے ردِعمل میں ملازمین کو یقین دلایا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی پتھیار لانچ کرنے میں استعمال نہیں ہوگی اور نہ ہی ڈرون چلانے یا اڑانے میں استعمال ہوگی۔

مگر اس خط پر دستخط کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنے صارفین کے اعتماد کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور اپنی اخلاقی ذمہ داری کو نظر انداز کر رہا ہے۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ ’ہم اپنی اخلاقی ذمہ داری کسی تیسری پارٹی پر نہیں ڈال سکتے۔۔۔ گوگل کے ظاہر کردہ عقائد میں واضح کیا گیا ہے کہ ہمارا ہر صارف ہم پر اعتماد کر رہا ہے، اس کو کبھی بھی خطرے میں نہ ڈالیں، کبھی نہیں!‘

’اس ٹیکنالوجی کو بنانا جو کہ امریکی حکومت کو عسکری نگرانی میں مدد کرے اور جس کے جالیوا نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں، نامنظور ہے۔‘

گوگل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ امریکی محکمہِ دفاع کو اپنی امیج ریکگنیشن ٹیکنالوجی استعمال کرنے دے رہا ہے۔

گوگل کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پروجیکٹ میون وزارتِ دفاع کا ایک معروف منصوبہ ہے اور گوگل اس کے ایک حصے پر کام کر رہا ہے جس کا مقصد غیر جارحانہ چیزوں کے لیے استعمال ہے اور یہ کسی بھی گوگل کلاؤڈ کے صارف کو میسر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.